تھائی لینڈ میں کل (آٹھ فروری) کو ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں جس کے بعد ملک کے نئے وزیرِ اعظم کا انتخاب ہوگا۔
ان انتخابات میں 500 نشستوں پر امیدواروں کا انتخاب ہوگا اور عوام اپنے پسندیدہ امیدواروں کو ووٹ دیں گے۔
ووٹنگ کا عمل پاکستان کی طرح صبح آٹھ بجے شروع ہوگا اور شام پانچ بجے تک جاری رہے گا۔ اس مقصد کے لیے مختلف سکولوں، کمیونٹی مراکز، مندروں اور دیگر عوامی مقامات پر پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔
تھائی لینڈ میں پاکستان کی طرز پر قومی اسمبلی موجود ہے، جسے تھائی زبان میں ’رتھاسپا‘ کہا جاتا ہے جبکہ سینیٹ کو ’ووتھی سپا‘ کہا جاتا ہے۔
تاہم یہاں صرف قومی اسمبلی کے اراکین عوامی ووٹنگ کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں جبکہ سینیٹ کے اراکین کا انتخاب قومی اسمبلی کے منتخب اراکین کی ووٹنگ کے بجائے مختلف پیشہ ورانہ اور سماجی گروپس سے کیا جاتا ہے۔
قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 500 جبکہ سینیٹ کی نشستوں کی تعداد 200 ہے۔
ووٹنگ کا طریقہ کار
پاکستان کی طرح تھائی لینڈ میں بھی ووٹر کے ایڈریس پر اس کا پولنگ سٹیشن درج ہوتا ہے، اور ووٹر اپنے مقررہ پولنگ سٹیشن پر جا کر ووٹ ڈالتا ہے۔
ووٹر کو دو بیلٹ پیپر دیے جاتے ہیں۔ ایک بیلٹ پیپر اپنے حلقے کے پسندیدہ امیدوار کے انتخاب کے لیے ہوتا ہے، جبکہ دوسرے بیلٹ پیپر پر وہ اپنی پسندیدہ جماعت کو ووٹ دیتا ہے۔
یعنی ووٹر ایک ووٹ اپنے حلقے کے کسی مخصوص امیدوار کو دے سکتا ہے اور دوسرا ووٹ کسی دوسری جماعت کو بھی دے سکتا ہے۔ دوسرا بیلٹ امیدوار کے لیے نہیں بلکہ مجموعی طور پر پارٹی کے لیے ہوتا ہے۔
یہاں حلقوں کی بنیاد پر 400 نشستوں پر امیدواروں کا انتخاب کیا جاتا ہے جبکہ 100 نشستیں پارٹی لسٹ کی بنیاد پر دی جاتی ہیں۔
انتخابات کے بعد حلقے کی سطح پر 400 امیدواروں کا انتخاب زیادہ ووٹ حاصل کرنے کی بنیاد پر ہوتا ہے جبکہ پارٹی کو ملنے والے ووٹ ایک مخصوص فارمولے کے تحت تقسیم کیے جاتے ہیں۔
اس فارمولے کے مطابق سیاسی جماعتوں کو ملنے والے تمام ووٹوں کو 100 پر تقسیم کیا جاتا ہے جس کی بنیاد پر فی نشست ووٹوں کا تناسب نکالا جاتا ہے۔
اسی تناسب کے مطابق جماعتوں کو نشستیں دی جاتی ہیں، اور الیکشن کمیشن میں پہلے سے جمع کرائی گئی ترجیحی فہرست کے مطابق امیدواروں کو منتخب کیا جاتا ہے۔
تھائی لینڈ میں حکومت بنانے کے لیے 500 میں سے کم از کم 251 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہوتی ہیں۔ اگر کوئی جماعت یہ تعداد حاصل نہ کر سکے تو اتحادی حکومت بنائی جاتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تھائی لینڈ کے انتخابی عمل میں تین بڑی سیاسی جماعتیں سرِفہرست ہیں، جن میں ’پیپلز پارٹی‘ کو خاص طور پر مقبول سمجھا جاتا ہے، جو نوجوانوں میں بھی خاصی مقبول ہے۔
شراب نوشی پر پابندی
تھائی لینڈ میں عام دنوں میں شراب نوشی کی اجازت ہوتی ہے تاہم انتخابات سے ایک دن قبل شام چھ بجے سے لے کر انتخابات کے دن شام چھ بجے تک شراب نوشی پر مکمل پابندی عائد کی جاتی ہے۔
اس پابندی کا اطلاق ڈانس کلبوں، ریسٹورنٹس، کیفے اور گروسری سٹورز پر ہوتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں ایک لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔
اسی دوران بعض کلب اور ریسٹورنٹس بند بھی کر دیے جاتے ہیں جبکہ انتخابات سے ایک دن قبل رات کے وقت تھائی لینڈ کی مارکیٹوں میں سیاحوں کا رش بھی کم نظر آتا ہے۔