تھائی لینڈ میں اتوار (آٹھ فروری) کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جو نہ صرف تین بڑی جماعتوں کے درمیان مقابلہ ہے بلکہ ملک میں ترقی پسند، عوامی اور قدامت پسند دھڑوں کے درمیان جاری سیاسی کشمکش کا ایک اور امتحان بھی ہے۔
کسی بھی انتخابات کی طرح یہاں بھی اہم سوال یہ ہے کہ کون جیتنے کی بہتر پوزیشن میں ہے؟
رائے عامہ کے جائزے مسلسل دکھاتے ہیں کہ ترقی پسند پیپلز پارٹی اس وقت تھائی لینڈ کی سب سے مقبول جماعت ہے۔ ماہرین کے مطابق عام ووٹر ماضی کی اقتدار میں رہنے والی دو جماعتوں سے خوش نہیں اور پیپلز پارٹی کی حمایت کرسکتے ہیں۔
اس کا وسیع اصلاحاتی ایجنڈا اور سوشل میڈیا پر مضبوط گرفت اسے نوجوانوں اور شہری ووٹروں میں بے حد مقبول بناتی ہے، جس کی وجہ سے وہ ایک طاقتور سیاسی قوت سمجھی جاتی ہے۔
جائزوں کے مطابق پیپلز پارٹی پولز میں آگے ہے۔ سوان دوسِت یونیورسٹی کے 16 تا 28 جنوری کے سروے میں 26,661 افراد میں سے 36 فیصد نے اس کی حمایت کی، جبکہ سابق حکمران جماعت فئو تھائی کو 22.1 فیصد اور وزیرِاعظم انوتن چرنویراکُل کی بھومجائی تھائی پارٹی کو 18.9 فیصد حمایت ملے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈیولپمنٹ ایڈمنسٹریشن کے 23 تا 27 جنوری کے سروے میں 34.2 فیصد حمایت پیپلز پارٹی کے حق میں رہی، بھومجائتھائی کو 22.6 فیصد اور فئو تھائی کو 16.2 فیصد ووٹ ملے۔
2023 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی پیش رو نے 500 میں سے 151 نشستیں جیتیں، فئو تھائی نے 141 جبکہ بھومجائی تھائی نے 71 نشستیں حاصل کیں۔
کیا فاتح جماعت حکومت بنا سکے گی؟
ملک کی فوج اور نوکرشاہی کافی طاقتور ہے اور حکومت بنانے میں اہم کردار رکھتی ہے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ اس مرتبہ مداخلت نہیں کرے گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تینوں بڑی جماعتوں میں سے کسی ایک کی واضح اکثریت کا امکان کم ہے، اس لیے حکومت بنانے کے لیے اتحاد ناگزیر ہو گا۔
مگر حالیہ مہینوں میں سیاسی اختلافات اور باہمی کشیدگی کے باعث اتحاد بنانا مشکل ہو سکتا ہے۔ درجنوں چھوٹی جماعتوں کے ساتھ معاہدے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ سب سے زیادہ نشستیں جیتنے والی جماعت حکومت نہ بنا سکے۔
پیپلز پارٹی کی طاقت انتخابی میدان میں ہے، مگر اتحاد بنانا اس کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔
بھومجائی تھائی کے رہنما انوتن ایک تجربہ کار مذاکرات کار سمجھے جاتے ہیں، جو مختلف جماعتوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور انہیں سیاسی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی حاصل ہو سکتی ہے۔
شناوترا خاندان کے زیرِ اثر فئو تھائی پارٹی کے پاس مالی وسائل موجود ہیں، مگر اس کی مقبولیت میں کمی اور بعض ارکان کی بھومجائی تھائی میں شمولیت نے اسے نقصان پہنچایا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق فئو تھائی دوبارہ بھومجائی تھائی کے ساتھ اتحاد بنا سکتی ہے۔
پیپلز پارٹی کو کن چیلنجز کا سامنا ہے؟
اگرچہ پیپلز پارٹی مضبوط دکھائی دیتی ہے، مگر اس کا لبرل اور اسٹیبلشمنٹ مخالف ایجنڈا اس کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اس کی پالیسیاں، جن میں اجارہ داریوں کے خلاف اقدامات اور فوج و عدلیہ میں اصلاحات شامل ہیں، طاقتور کاروباری حلقوں، اشرافیہ اور شاہی حامی جرنیلوں کے مفادات کو چیلنج کر سکتی ہیں۔
اس کی پہلی شکل فیوچر فارورڈ پارٹی 2020 میں انتخابی مالیاتی خلاف ورزی پر تحلیل کر دی گئی، جس کے بعد احتجاج ہوئے۔ بعد میں موو فارورڈ کے نام سے واپس آئی اور 2023 میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے مگر فوجی حمایت یافتہ سینیٹ نے اسے حکومت بنانے سے روک دیا، پھر شاہی قوانین میں ترمیم کی مہم کے باعث عدالت نے اسے تحلیل کر دیا۔
بعد ازاں یہ پیپلز پارٹی کے نام سے دوبارہ منظم ہوئی، یہی نام 1932 کی انقلابی تحریک خانا راتسادون سے بھی منسوب ہے، جس نے مطلق بادشاہت کا خاتمہ کیا تھا۔
قومی انسداد بدعنوانی کمیشن اس کے 44 سابق ارکان کی تحقیقات کر رہا ہے جن پر 2021 میں شاہی توہین قانون میں تبدیلی کی کوشش کا الزام ہے۔ ان میں سے 15 موجودہ پیپلز پارٹی کے ارکان ہیں، جن میں دو وزیراعظم کے امیدوار ناتھافونگ رینگپانیاوُت اور سری کانیا تنساکُن شامل ہیں۔ اگر معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تو انہیں سیاسی پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔
کیا انوتن کامیاب ہو سکتے ہیں؟
59 سالہ انوتن ایک عملی سیاست دان ہیں جن کی جماعت اتنی مضبوط ہے کہ اہم وزارتیں حاصل کر سکے اور اتحادی حکومت کا حصہ بن سکے۔
پختہ شاہی حامی انوتن نے گذشتہ ستمبر میں وزیراعظم بن کر اپنی سیاسی مہارت دکھائی، جب عدالت نے اس وقت کی وزیراعظم پیتونگتارن شناوترا کو ہٹا دیا اور انہوں نے تیزی سے دیگر جماعتوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔
انہیں مزید حمایت درکار ہے تاکہ وہ پچھلے انتخابات کی 71 نشستوں سے آگے بڑھ سکیں اور اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات استعمال کرتے ہوئے ایسا اتحاد بنا سکیں جو پیپلز پارٹی کو اقتدار سے دور رکھے۔
وزیراعظم کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟
انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتیں تین تک وزیراعظم کے امیدوار نامزد کر سکتی ہیں۔ کم از کم 25 نشستیں رکھنے والی جماعت پارلیمنٹ میں اپنے امیدوار کو ووٹنگ کے لیے نامزد کر سکتی ہے۔
وزیراعظم بننے کے لیے ایوانِ زیریں کے 500 ارکان میں سے نصف سے زیادہ کی حمایت ضروری ہے۔ اگر کوئی امیدوار کامیاب نہ ہو تو پارلیمنٹ دوبارہ اجلاس بلاتی ہے اور دوسرے امیدواروں کے لیے یہی عمل دہرایا جاتا ہے اور اس عمل کے لیے کوئی مقررہ وقت کی حد نہیں ہوتی۔
کنسٹرکشن ٹائیکون اور شوقیہ جیٹ پائلٹ انوتن چرنویراکُل کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس اتوار کو تھائی لینڈ میں ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کچھ بھی ہوں، وزیراعظم رہیں گے۔
ان کی بھومجائی تھائی پارٹی پچھلے انتخاب میں تیسرے نمبر پر آئی تھی، لیکن اس قدامت پسند رہنما، جنہوں نے تھائی لینڈ میں کینابس کو قانونی بنانے کی مہم چلائی، ستمبر میں وزیراعظم بن گئے جب ان کی پیش رو پیتونگ تارن شناوترا کو عدالتی حکم کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
انتخابی مہم کے دوران بینکاک میں اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے انوتن نے کہا: ’میں پارلیمنٹ میں اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آیا، اس لیے یہ واضح طور پر جمہوری ہے۔‘
انہوں نے اصلاح پسند پیپلز پارٹی کی حمایت سے وزارتِ عظمیٰ حاصل کی، جو پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت ہے اور جس کے بارے میں رائے عامہ کے جائزے بتاتے ہیں کہ وہ اس بار بھی بھومجائی تھائی سے آگے پہلے نمبر پر آ سکتی ہے۔
تاہم کسی جماعت کی واضح اکثریت کی پیش گوئی نہیں کی جا رہی اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انتخاب کے بعد ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں انوتن ایک نئی اتحادی حکومت کے سربراہ کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔
ممکنہ اتحادیوں میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی فئو تھائی پارٹی سرفہرست سمجھی جا رہی ہے، جو شناوترا خاندان کی جماعت ہے اور دو دہائیوں سے سیاست پر غالب رہی ہے، اگرچہ اس کے بانی اور سابق وزیراعظم تھاکسن اب جیل میں ہیں۔
دارالحکومت کے چائنا ٹاؤن میں پارٹی کارکنوں کے ساتھ نوڈل سوپ کھاتے ہوئے انوتن نے کہا: ’میں نے شکست کے لیے کوئی تیاری نہیں کی۔‘
اپنی دولت کے باوجود وہ خود کو عوامی آدمی کے طور پر پیش کرتے ہیں، سٹریٹ فوڈ کے شوقین ہیں اور سوشل میڈیا پر کبھی ٹی شرٹ اور شارٹس میں کڑاہی میں کھانا بناتے ہوئے، تو کبھی 1980 کی دہائی کے تھائی پاپ گانے سیکسوفون یا پیانو پر بجاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
خاندانی دولت
سیاسی اور کاروباری خاندان کے فرد ہونے کے ناتے ان کے خاندان کی دولت سِنو تھائی انجینیئرنگ نامی تعمیراتی کمپنی کے گرد گھومتی ہے، جس نے دہائیوں کے دوران حکومتی منصوبوں کے منافع بخش ٹھیکے حاصل کیے، جن میں بینکاک کا مرکزی ہوائی اڈہ اور پارلیمنٹ کی عمارت شامل ہیں۔
ان کے والد 2008 کے سیاسی بحران کے دوران قائم مقام وزیراعظم رہے اور بعد میں تین سال تک وزیر داخلہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔
انوتن کی سیاسی قسمت طویل عرصے سے شناوترا خاندان کے ساتھ کبھی اتحادی کے طور پر اور کبھی حریف کے طور پر جڑی رہی ہے۔
نیویارک میں تربیت یافتہ صنعتی انجینیئر انوتن نے 30 کی دہائی کے آغاز میں تھاکسن کی جماعت تھائی رک تھائی میں شمولیت اختیار کی، مگر 2007 میں جماعت کے تحلیل ہونے پر انہیں پانچ سال کے لیے سیاست سے نااہل کر دیا گیا۔
سیاست سے دوری کے دوران انہوں نے ہوابازی سیکھی اور نجی طیاروں کا ایک چھوٹا بیڑا تیار کیا، جنہیں وہ پیوندکاری کے لیے عطیہ شدہ اعضا ہسپتالوں تک پہنچانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
بعد میں وہ بھومجائی تھائی کے سربراہ کے طور پر واپس آئے، جو مختلف اوقات میں کئی حکومتی اتحادوں میں شامل رہی اور وہ اپنے تین سابق وزرائے اعظم کے نائب بھی رہے، جن میں پیتونگتارن بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل انہوں نے فوجی حمایت یافتہ حکومت میں وزیر صحت کی حیثیت سے سیاحت پر انحصار کرنے والے تھائی لینڈ کی وبا سے نمٹنے کی حکمت عملی سنبھالی اور 2022 میں معیشت کو متحرک کرنے کے لیے کینابس کو قانونی حیثیت دینے کے انتخابی وعدے پر عمل کر کے عالمی سرخیوں میں آئے۔
شناوترا خاندان کی سیاسی گرفت اب کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ ٹیلی کام ارب پتی تھاکسن بدعنوانی کے مقدمات میں جیل میں ہیں جبکہ ان کی بیٹی پیتونگتارن کو کمبوڈیا کے ساتھ سرحدی تنازع کے معاملے پر آئینی عدالت نے قیادت سے ہٹا دیا۔
سرحدی تنازع
انوتن نے جون میں بھومجائی تھائی کو فئو تھائی کے ساتھ اتحاد سے الگ کر لیا جب ایک لیک شدہ فون کال میں پیتونگتارن نے کمبوڈیا کے سابق رہنما ہن سین کو ’چچا‘ کہا اور ایک تھائی فوجی کمانڈر کو اپنا ’مخالف‘ قرار دیا، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
جولائی اور دسمبر میں دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں دونوں طرف درجنوں افراد جان کھو بیٹھے اور دس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سرحدی تنازعے سے پیدا ہونے والی قوم پرستی کی لہر نے بھومجائی تھائی کی حمایت میں اضافہ کیا، جبکہ شاہی توہین سے متعلق سخت قوانین میں نرمی کی مخالفت اس کی قدامت پسند سوچ کو ظاہر کرتی ہے۔
سیاسی ماہر ناپون جاتوسریپیتاک نے کہا کہ اس تنازعے نے ووٹروں کی ترجیحات کو فوج کے کردار اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کی طرف موڑ دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ’اس مسئلے پر قوم پرستانہ اور سخت مؤقف اختیار کرنے والی قابلِ اعتبار جماعت بھومجائتھائی ہی ہو سکتی ہے۔‘
اقتدار سنبھالنے کے تین ماہ بعد اور دسمبر کے آخر میں جنگ بندی سے قبل انوتن نے پارلیمنٹ تحلیل کر کے نئے انتخابات کا اعلان کیا۔
چائنا ٹاؤن میں اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے زور دے کر کہا: ’کوئی بھی لڑائی نہیں چاہتا، کوئی بھی تنازع نہیں چاہتا، مگر ہمیں اپنی خودمختاری اور وقار کا دفاع کرنا ہوگا۔‘