ماہرین نے مصر میں ممی بنانے کے لیے استعمال ہونے والی خوشبوئیں تیار کر لیں

یہ پیش رفت مستقبل میں عجائب گھروں میں دیکھنے کے ساتھ ساتھ سونگھنے کے تجربے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔

28 فروری 2011 کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے علاقے خان الخلیلی میں واقع خوشبویات کی دکان میں بیٹھے دکان دار (روئٹرز)

سائنس دانوں نے قدیم مصر میں ممی بنانے کے عمل کے دوران استعمال ہونے والی خوشبوؤں کو دوبارہ تیار کرنے کے لیے نئے طریقے وضع کیے ہیں۔ یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جو مستقبل میں عجائب گھروں میں ایسے تجربات کی راہ ہموار کر سکتی ہے، جن میں دیکھنے کے ساتھ ساتھ سونگھنے کا موقع بھی شامل ہو۔

آثارِ قدیمہ میں ہونے والی پیش رفت نے قدیم ڈی این اے، پروٹین اور دیگر مالیکیولز کے مطالعے کے لیے جدید طریقوں کی راہ ہموار کی ہے، جس سے ماضی کی غذاؤں، بیماریوں اور مذہبی رسومات کے بارے میں معلومات سامنے آئی ہیں۔

حالیہ کچھ عرصے میں محققین نے مالیکیولز کی ایک قسم کا مطالعہ کرنے کے لیے بہتر آلات تیار کیے ہیں، جنہیں ’وولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز‘ (وی او سی) کہا جاتا ہے، ان میں قدیم خوشبوؤں کے راز سامنے لانے کی صلاحیت موجود ہے۔

جرمنی کے میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ قدیم وی او سی کو دوبارہ تیار کرنے سے ماضی میں خوشبو سازی، ادویات، رسومات اور روزمرہ کی زندگی کے بارے میں وہ معلومات مل سکتی ہیں جن کی مثال نہیں ملتی۔

یونیورسٹی آف ٹوبنگن کی آرکیو کیمسٹ باربرا ہوبر نے کہا کہ ’بائیو مالیکیولر ڈیٹا اہم سراغ فراہم کرتا ہے لیکن خوشبو بنانے والے کو کیمیائی معلومات کو سونگھنے کے ایک مکمل اور مربوط تجربے میں تبدیل کرنا چاہیے، جو صرف انفرادی اجزا کی بجائے اصل مواد کی پیچیدگی کو اجاگر کرے۔‘

فرنٹیئرز ان انوائرنمنٹل آرکیالوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کی مصنفہ ڈاکٹر باربرا ہوبر نے مزید کہا: ’یہ تحقیق اس صورت میں اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے کہ سائنسی نتائج کو علمی اشاعتوں سے باہر کیسے شیئر کیا جا سکتا ہے۔‘

اس تحقیق میں مصری ممی کی نمائش کے ساتھ عجائب گھر کے دو نئے نمونوں ’خوشبودار کارڈز‘ اور ’خوشبو کے مخصوص مقامات‘ کا ذکر کیا گیا ہے، جو قدیم زمانے میں چیزوں کو محفوظ کرنے کے عمل کو سمجھنے کے لیے ایک نئی جہت کھولتے ہیں۔

 

جرمنی کے شہر ہینوور میں میوزیم آگسٹ کیسٹنر میں ’دا سینٹ آف دی آفٹر لائف‘ ٹورز کے دوران اب وہاں آنے والوں کو خوشبودار کارڈ فراہم کیے جاتے ہیں۔

یہ خوشبوئیں چار مصری مرتبانوں سے حاصل کی گئی تھیں، جو لیڈی سینیٹنے کی تھیں۔ وہ اعلیٰ طبقے سے تعلق رکھنے والی خاتون تھیں جو 1450 قبل مسیح کے آس پاس زندگی گزار رہی تھیں۔

خوشبوؤں کو دوبارہ تیار کرنے کے لیے سائنس دانوں نے ایک خوشبو ساز، آرکیو کیمسٹ، ماہر آثار قدیمہ اور سونگھنے کی حس سے متعلق ثقافتی ورثے کے کنسلٹنٹ کے درمیان بات چیت کے بعد 20 اجزا کے ساتھ کئی فارمولے تیار کیے۔

محققین نے وضاحت کی کہ ’چوں کہ اصل ممی پر لگے لیپ کے کیمیائی تجزیے میں شناخت ہونے والا مواد قدیم دور کا تھا، اس لیے جدید دور میں اس جیسی خوشبوؤں کی شناخت کرنی تھی، جو عوام کے استعمال کے لیے محفوظ ہوں اور بائیو مالیکیولر نتائج کے مطابق بھی ہوں۔

’خوشبو کی تیاری کا یہ عمل اس بات کو تسلیم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ آج کا خام مال ماضی سے مختلف ہے اور قدیم ماضی کو ممکنہ حد تک درست طریقے سے حاصل کرنے کے لیے مختلف شعبوں کے باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔‘

کاغذ یا خوشبو پھیلانے والی دیگر اشیا پر خوشبو لگا کر تیار کیے گئے خوشبودار کارڈ لوگوں کے لیے دستیاب ہیں تاکہ وہ انہیں پکڑ سکیں، ان کا جائزہ لے سکیں اور اپنی مرضی کے مطابق سونگھ سکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میوزیم کے منتظمین کرسچن ای لوبن اور الریک ڈوبیل نے کہا کہ ’خوشبو ممی بنانے کے عمل کے لیے ایک نیا نقطہ نظر فراہم کرتی ہے، جو خوف اور ڈراؤنی فلموں کے فرسودہ خیالات سے ہٹ کر ان اقدامات کے پیچھے موجود محرکات اور مطلوبہ نتائج کو سمجھنے کی طرف لے جاتی ہے۔‘

ڈنمارک کے شہر آرہس کے موسگارڈ میوزیم میں ’اینشنٹ ایجپٹ: اوبسیسڈ ود لائف‘ نمائش میں خوشبو کا مقام بھی قائم کیا گیا ہے۔

کیوریٹر سٹیفن ٹرپ لارسن نے کہا کہ ’خوشبو کے مقام نے ممی بنانے کے عمل کو سمجھنے کا طریقہ بدل دیا۔ خوشبو نے ایک جذباتی اور حسی گہرائی کا اضافہ کیا جو صرف تحریری لیبل کبھی فراہم نہیں کر سکتے تھے۔‘

تحقیق کی ایک اور مصنفہ صوفیہ کولیٹ ایرک نے کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ عجائب گھروں کو ایسے زبردست نئے آلات پیش کریں گے جو حسی تشریح کے ذریعے زائرین کو ماضی کے ماحول اور طریقوں کے قریب لائیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس