دریائے نیل کے کنارے آباد اہرام سے بھی قدیم تہذیب

دریائے نیل کے کنارے دریافت ہونے والے آثار قدیمہ سے قدیم سوڈان میں پروان چڑھنے والی نوبین تہذیب کو جاننے کے لیے ایک کھڑکی کھلی ہے جو مصری تہذیب سے بھی پرانی ہے۔

پانچویں جماعت کے بچے سائٹ پر جا کر آثارِ قدیمہ کا مشاہدہ کر رہے ہیں (Michele Buzon, CC BY-ND)

دریائے نیل کے کنارے دریافت ہونے والے آثار قدیمہ سے قدیم سوڈان میں پروان چڑھنے والی قدیم نوبین تہذیب کو جاننے کے لیے ایک کھڑکی کھلی ہے۔

شمالی سوڈان میں ٹومبوس کے آثار قدیمہ کے مقام پر صحرا میں گول پتھروں پر مشتمل ٹیلے جا بجا پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ ’تمولی‘ کو ظاہر کرتے ہیں۔ تمولی زیر زمین مقبروں کو کہا جاتا ہے جو کم از کم ڈھائی ہزار قبل مسیح میں قدیم باشندوں کی جانب سے بنائے گئے تھے جو اس علاقے کو کُش یا نیوبیا کہتے تھے۔

میں بطور ایک بائیو آرکالوجسٹ گذشتہ 20 سالوں سے یہاں ان قبروں سے ملنے والی انسانی ڈھانچوں کی باقیات اور ان کے ساتھ دفن کیے گئے ساز و سامان کا تجزیہ کر رہی ہوں۔ 

افریقہ کی قدیم تاریخ کے بارے میں مباحثے مصر کے عروج تلے دب جاتے ہیں لیکن یہاں کئی ایسے معاشرے تھے جو تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے دریائے نیل کے ان علاقوں کی بڑی طاقت بن گئے تھے جن میں مصر کے جنوب کے نسبتاً گمنام پڑوسی علاقے بھی شامل تھے۔

اگرچہ قدیم کُش کی مصر کے ساتھ دشمنیاں تھیں اور بعض اوقات انہوں نے مصر کو فتح بھی کیا لیکن اس تہذیب پر دور حاضر میں کم ہی توجہ دی گئی ہے۔

20 ویں صدی کے اوائل میں یہاں ہونے والی تحقیق نے قدیم کُش کے بارے میں فہم میں اضافہ تو کیا لیکن تشریحات میں نوآبادیاتی اور نسل پرستانہ تعصبات شامل ہو گئے جس نے اس تہذیب کی طاقت اور کامیابیوں کو دھندلا کر رکھ دیا۔

میں سٹورٹ ٹائسن سمتھ کے ساتھ ٹومبوس کی کھدائی میں شامل شریک ڈائریکٹر ہوں۔ ان مقبروں سے ہماری آثار قدیمہ کی ٹیم کو صدیوں پہلے اس جگہ پر زندگی اور موت کے بہت سے پہلوؤں کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

آج دریائے نیل کے ساتھ بسنے والوں کی طرح قدیم لوگوں نے بھی ماحولیاتی تبدیلیوں، سماجی سیاسی تغیر اور دوسرے گروہوں کے ساتھ تعامل سمیت مختلف چیلنجوں کا سامنا کیا تھا۔

ماضی کے بارے میں ہماری دریافت اس لیے بھی اہم ہے تاکہ ہم اپنی تحقیق کا مقامی برادریوں کے ساتھ تبادلہ کر سکیں اور ان سوڈانی لوگوں کی مدد کریں جو آرکیالوجی کو بطور کیریئر آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

ٹومبوس کے قدیم باشندوں کی باقیات ان کی جسمانی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان کو لاحق متعدی امراض اور ان کی غذائیت کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرتی ہیں۔

دل کی بیماری، کینسر اور سخت مشقت کے اثرات جیسے حالات انسانی جسم پر ایسے نشان چھوڑتے ہیں جو ماضی کے امراض کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ وہ ان عوامل کا پتہ لگانے میں ہماری مدد کرتے ہیں جو ان کی صحت کے حالات اور ان کے سماجی کردار کو ظاہر کرتے ہیں مثال کے طور پر ہمیں ایک بالغ عورت اور ایک بچے کی باقیات ملی ہیں جن کو نشوونما کے مسائل کا سامنا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف جسمانی حالات والے افراد معاشرے کا حصہ تھے۔

بعض قدیم باشندوں کے دانتوں میں شامل آئسوٹوپس یا کیمیائی عناصر کا تجزیہ کر کے ہم ان کے بچپن کے بارے میں جاننے کے قابل ہو گئے ہیں۔

جیسا کہ ماہرین کی ٹیم زمین کے نیچے موجود چیزوں کو دریافت کرتی ہے ہم قدیم کمیونٹی کے انفرادی ارکان کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمیں 60 سال کی ایک بزرگ خاتون کی باقیات ملی ہیں جو جوڑوں کے درد میں مبتلا تھیں، ایک کم عمر عورت جس کو ایک بچے کے ساتھ دفن کیا گیا تھا اور ایک ادھیڑ عمر عورت جس کے پاس ایک ٹوکری تھی جو ثابت اور ٹوٹے ہوئے چھوٹے مجسموں، موتیوں اور دیگر سامان سے بھری ہوئی تھی۔

بظاہر مختلف طرز زندگی گزارنے والے ایسے لوگوں کی دریافت سے ہماری ٹیم کو یہ تصویر بنانے میں مدد ملتی ہے کہ ٹومبوس کو کس نے آباد کیا تھا جب وہ ترقی کی منازل طے کر رہا تھا۔

مقبروں کے ڈھانچوں سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ لوگ موت کے بعد بھی عوامی طور پر اپنی اور اپنے خاندان کی نمائندگی کیسے کرنا چاہتے تھے۔

ہم لاشوں کی پوزیشن اور ان کے ساتھ دفن کی گئی اشیا کو ان کے مختلف ثقافتی اور مذہبی طریقوں سے جوڑ سکتے ہیں۔

ایک درمیانی عمر کے شخص کی ایک شاندار تدفین میں ایک بستر اور تابوت دونوں شامل تھے جو روایتی نوبین اور مصری ثقافت کا ملاپ تھا۔

مقبرے میں پیتل کے پیالے، ایک نقش و نگار سے مزین لکڑی کا ڈبہ اور تعویذوں کا ایک ڈھیر بھی موجود تھا جنہیں جادو کے لیے استعمال ہونے والی اشیا سمجھا جاتا تھا اور لوہے کے ہتھیاروں کا ایک ذخیرہ بھی جو نوبیا میں لوہے کے ابتدائی استعمال کا ثبوت ہے۔

ہمیں معلوم ہوا کہ جب مصریوں نے 12 سو قبل مسیح کے ارد گرد نئی سلطنت کے دوران نوبیا کے لوگوں پر حکومت کی تو کچھ تارکین وطن مصریوں اور مقامی لوگ بھی اپنی تدفین کے لیے مصری طرز کے اہرام اور کمروں والے مقبرے بنانے لگے۔ اس وقت ٹومبوس کے کچھ لوگوں نے نوبیا میں قدیم قبروں کی طرح مقامی ٹومولس طرز کے مقبرے بھی بنائے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور کے لوگ تدفین کے بارے میں کتنی مختلف سوچ رکھتے تھے۔

آثار قدیمہ کی ٹیم کی ماضی کے باشندوں کے بارے میں جاننے کی کامیابی کا انحصار مقامی کمیونٹی کے ساتھ فعال اور قریبی تعاون پر بھی تھا۔

قصبے کے رہائشیوں کے ساتھ ہماری بات چیت سے معلوم ہوا کہ وہ اس علاقے کی قدیم تہذیب پر فخر کرتے ہیں اور وہ قدیم باشندوں کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں۔

ہم نے اپنی سوڈانی ساتھی ریما عبدالرحیم کباشی احمد کے ساتھ مل کر ٹومبوس کی خواتین کے لیے ایک لیکچر اور مباحثہ منعقد کیا جس سے ہمیں معلوم ہوا کہ وہ ماضی اور حال کے بارے میں جاننے کے لیے کتنی متجسس ہیں۔

ریما اور میں نے ان کے سوالات کے جوابات دیے جیسا کہ قدیم باشندے کس قسم کی ادویات استعمال کرتے تھے؟ موت کے وقت بچے کی عمر کتنی تھی؟ لوگوں نے ان کی قبر میں بستر اور زیورات کیوں رکھے؟ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ اس دور کے بستر حالیہ دور کے بستروں سے کتنی مشابہت رکھتے ہیں۔

 انہوں نے ہم سے پوچھا کہ بطور خواتین یہ کام ہمارے لیے جسمانی طور پر کتنا مشکل ہے؟

اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے بتایا کہ وہ اس طرح کی مزید پریزنٹیشنز میں شامل ہونا چاہتی ہیں کیونکہ ہمارے ساتھ کام کرنے والے ان کے خاندان کے مرد آثار قدیمہ پر ہونے والی دریافتوں کے بارے میں انہیں زیادہ نہیں بتاتے۔ 

اس کے نتیجے میں ہم نے اپنی رسائی کو بہت سے طریقوں سے بڑھایا ہے جس میں آثار قدیمہ، مقامی تاریخ اور ٹومبوس سائٹ کے بارے میں مقامی سکولوں کے ساتھ تعاون سے کچھ تدریسی مواد تیار کرنا شامل ہے۔

ہم نے ایک ٹیچر اور ان کے طلبہ کو اپنے کھدائی والے مقام کا دورہ بھی کرایا۔

ہم آثار قدیمہ کی تحقیق کی نگرانی کرنے والے سوڈانی انتظامی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں جن میں نوادرات اور عجائب گھر کی قومی کارپوریشن بھی شامل ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ غیر ملکی محققین کے لیے کمیونٹی کے شراکت داروں اور سوڈانی طلبہ کے ساتھ مل کر ماضی کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔

یہ شراکت داری خطے کی قدیم تاریخ کے بارے میں نئی معلومات جاننے اور ماضی کے محققین کے خارجی اور نسل پرستانہ نقطہ نظر کو زائل کرنے کے لیے اہم اقدامات ہیں۔

خرطوم میں انٹرنیشنل یونیورسٹی آف افریقہ کے سوڈانی ماہر آثار قدیمہ اور ٹومبوس ٹیم کے رکن محمد فاروق علی نے سوڈان میں بین الاقوامی تحقیق اور تعاون کی حوصلہ افزائی کے مقصد کے لیے ’امریکن سوڈانیز آرکالوجیکل ریسرچ سنٹر‘ کے قیام میں قائدانہ کردار ادا کیا۔

ہم نے ورچوئل لیکچرز کا انتظام کیا اور آثار قدیمہ میں ڈگری حاصل کرنے والے سوڈانی طلبہ کے لیے وظائف فراہم کیے ہیں۔ ہم انٹرنیشنل یونیورسٹی آف افریقہ میں ڈگری پروگرام تیار کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

ہمارا مقصد سوڈانی شہریوں کی تربیت میں مدد کرنا ہے تاکہ مقامی لوگ، جن کا اس قدیمی تہذیب سے زیادہ اور براہ راست تعلق ہے، ہر سطح پر ان آثار قدیمہ کے منصوبوں میں حصہ لے سکیں۔

اس قدیم علاقے کے آج کے مقامی افراد میں اخلاقی تحقیق کو فروغ دینا اور اس پر عمل کرنا ٹومبوس ٹیم کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ قدیم باشندوں کی زندگیوں کے بارے میں مزید جاننا۔


نوٹ: یہ تحریر ’دا کنورسیشن‘ سے لی گئی ہے اور یہاں اس کا ترجمہ ان کی اجازت سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کی مصنفہ مشیل آ ربوزون امریکہ کی پرڈو یونیورسٹی میں شعبۂ آثارِ قدیمہ میں پروفیسر ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ