خلائی مخلوق کئی سیاروں پر موجود ہو سکتی ہے: تحقیق

نئی تحقیق کے مطابق ایسی دوسری دنیائیں بھی ہو سکتی ہیں جہاں پانی مائع شکل میں موجود ہو لیکن ہم نے انہیں نظر انداز کر دیا ہو۔

پیرو کے دارالحکومت لیما میں 12 جنوری 2024 کو صحافیوں دکھائی گئی مبینہ خلائی مخلوق کی باقیات کے ایکسریز کی تصاویر (اے ایف پی)

ایک نئی تحقیق کے مطابق ایسے سیاروں کی تعداد ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے جو خلائی مخلوق کا گھر ہو سکتے ہیں۔

برسوں سے سائنس دان زندگی کی تلاش ’قابل رہائش‘ یا ’معتدل درجہ حرارت والے‘ زون میں کرتے رہے ہیں، جہاں مائع پانی کے لیے نہ زیادہ گرمی ہوتی ہے اور نہ زیادہ سردی۔ یہ دنیائیں خلائی مخلوق کی تلاش کا مرکز رہی ہیں، کیوں کہ ہمارا خیال ہے کہ کسی سیارے کو رہنے کے قابل بنانے کے لیے مائع پانی کا ہونا ضروری ہے۔

دوسرے نظام شمسی میں ہمیں ملنے والے بہت سے سیارے اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ محققین کا خیال تھا کہ دریافت ہونے والی دنیاؤں کی بڑی تعداد شاید خلائی مخلوق کے لیے ناموزوں ہے۔

تاہم اب نئی تحقیق نے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ معیار شاید بہت سخت تھا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایسی دوسری دنیائیں بھی ہو سکتی ہیں، جہاں مائع پانی ممکن ہو اور ہم نے انہیں نظر انداز کر دیا ہو۔

نئی تحقیق کے مطابق وہ سیارے جو رخ تبدیل نہیں کرتے یعنی جن کا ایک رخ اپنے ستارے کی طرف رہتا ہے اور دوسرے رخ پر ہمیشہ رات رہتی ہے، وہاں گرم فضا پورے سیارے پر اتنی گردش کر سکتی ہے کہ مائع پانی ممکن ہو سکے۔ اس تحقیق میں ایک ماڈل استعمال کیا گیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ ایسے سیارے پر موسم کیسے کام کرے گا؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تحقیق بتاتی ہے کہ گرم فضا سیارے کے دن والے حصے سے گھوم کر دوسری طرف جائے گی اور رات والے حصے کو جمنے سے بچائے گی۔ اس طرح ممکنہ طور پر قابل رہائش ماحول کی تعداد ہمارے اندازے سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ناسا کی جیمز ویب سپیس دوربین نے حال ہی میں جو سیارے دیکھے ہیں، جن پر آبی بخارات اور دیگر گیسیں نظر آتی ہیں، وہ دراصل اس محفوظ حد میں ہو سکتے ہیں کہ ان کی سطح پر پانی موجود ہو۔

تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ سیارے جنہیں دوسرے انتہائی کنارے پر سمجھا جاتا تھا، یعنی جو مائع پانی کے لیے بہت دور ہیں، وہ بھی دراصل رہنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ ان سیاروں پر مائع پانی موٹی برف کی تہوں کے درمیان جمع ہو سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایسی اور بھی دنیائیں ہو سکتی ہیں جو خلائی مخلوق کا گھر بن سکیں۔

اس کام کی رپورٹ ایک نئے مقالے ایگزو پلینٹس بیونڈ دی کنزرویٹو ہیبی ٹیبل زون۔ ون۔ ہیبی ٹیبلٹی میں دی گئی ہے، جو دی ایسٹرو فزیکل جرنل میں شائع ہوا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس