ایران کے لڑکیوں کے سکول پر حملہ کس نے کیا؟ نئی تفصیلات

ایران میں بچوں کے سکول پر حملے کی حقیقت کیا ہے؟ کیا امریکی ٹوماہاک میزائل نے سکول کے قریب نشانہ بنایا؟ شواہد کی نئی تفصیلات سامنے آ گئیں۔

ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر ایک سکول پر مہلک میزائل حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو مورد الزام ٹھہرایا ہے اور اسرائیل نے اس حملے سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔

یہ حملہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے پہلے دن 28 فروری کو ہوا، جس میں ایرانی میڈیا کے مطابق 165 افراد جان سے گئے جن میں بڑی تعداد لڑکیوں کے ایلمینٹری سکول شجرۂ طیبہ کی طالبات کی تھی۔

اس حملے کے بارے میں ہم جو جانتے ہیں وہ یہ ہے:

ایران کیا کہتا ہے؟

اس حملے اور ابتدائی اموات کی اطلاع سب سے پہلے 28 فروری کو ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے ایک ضلعے میناب کے گورنر کے حوالے سے دی تھی۔

یہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا پہلا دن تھا، جس میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دوسرے کئی اہم رہنما بھی جان سے گئے تھے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق، مارے جانے والے طلبہ سمیت کم از کم 165 افراد کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے ایسی تصاویر نشر کیں جن میں سوگواروں کے ایک بڑے ہجوم کو سفید کفن میں لپٹی ہوئی لاشوں پر روتے ہوئے دکھایا گیا۔

سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ دیگر تصاویر میں افراد کو ایرانی پرچم میں لپٹے تابوت تیار کرتے ہوئے دکھایا گیا، جن میں سے کچھ پر بچوں کی تصاویر تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فضا سے لی جانے والی ایک اور تصویر میں کھدائی کرنے والی مشینوں کو ایک نامعلوم اجتماعی تدفین کے مقام پر کم از کم 100 قبریں کھودتے ہوئے دکھایا گیا۔

اے ایف پی آزادانہ طور پر ان تصاویر کے کھینچے جانے کی تاریخ کی تصدیق کرنے یا ان کے مواد کی تصدیق کے لیے اس مقام تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر رہی ہے۔

صدر مسعود پزشکیان نے بھی اس حملے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا۔

امریکہ کیا کہتا ہے؟

صدر ٹرمپ نے الٹا ایران پر الزام عائد کیا ہے۔

ہفتے کے روز ایئر فورس ون میں سوار صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’ہمارا خیال ہے کہ یہ ایران نے کیا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے گولہ بارود کے معاملے میں بہت غیر درست ہیں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں۔ ان کے ہاں بالکل بھی درستگی نہیں ہے۔‘

نیویارک ٹائمز کی جانب سے ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نیوز کی اپ لوڈ کردہ ویڈیو کی تصدیق کے بعد ٹرمپ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اس ویڈیو میں ایک امریکی ٹوماہاک کروز میزائل کو سکول کے ساتھ واقع پاسداران انقلاب کے اڈے کے اندر کلینک کہلانے والی ایک عمارت سے ٹکراتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ’اس وقت‘ اس حملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ اس حملے کے بارے میں ’کافی نہیں جانتے،‘ اور کہا: ’رپورٹ جو بھی دکھائے، میں اس رپورٹ کو ماننے کے لیے تیار ہوں۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہو سکتا ہے ایران نے سکول کو نشانہ بنانے کے لیے ٹوماہاک میزائل کا استعمال کیا ہو۔ لیکن ایران کے پاس ٹوماہاک میزائل نہیں ہے۔

ٹائمز نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوج کے وہ بیانات جن میں نشاندہی کی گئی تھی کہ افواج سٹریٹجک آبنائے ہرمز کے قریب بحری اہداف پر حملہ کر رہی ہیں، جہاں پاسداران انقلاب کا ایک اڈہ واقع ہے، ’یہ ظاہر کرتے ہیں کہ غالباً انہوں نے ہی یہ حملہ کیا تھا۔‘

ٹائمز کے مطابق، اس جنگ میں ٹوماہاک استعمال کرنے والی واحد فوج امریکہ کی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے 28 فروری کو ٹوماہاک لانچ کیے جانے کی فوٹیج جاری کی ہے، جس دن میناب کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ اعلیٰ امریکی افسران نے بریفنگ دی کہ ابتدائی حملوں میں ایران کے جنوبی حصے میں نیوی ٹوماہاک شامل تھے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکہ جان بوجھ کر کسی سکول کو نشانہ نہیں بنائے گا اور کہا کہ پینٹاگون اس کی تحقیقات کر رہا ہے۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا: ’امریکہ جان بوجھ کر کسی سکول کو نشانہ نہیں بنائے گا۔ ہمارے اہداف میزائل ہیں، انہیں بنانے کی صلاحیت اور انہیں لانچ کرنے کی صلاحیت دونوں۔‘

اسرائیل کیا کہتا ہے؟

اسرائیل نے مسلسل اس حملے میں کسی بھی قسم کی شمولیت یا اس کے بارے میں علم ہونے کی تردید کی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل نداو شوشانی نے اتوار کو صحافیوں کو بتایا: ’ہمیں اس حملے کا آئی ڈی ایف کی کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں ملا۔۔۔ ہم نے کئی بار جانچ پڑتال کی ہے اور آئی ڈی ایف اور اس سکول میں جو کچھ بھی ہوا اس کے درمیان کوئی تعلق نہیں پایا ہے۔‘

سکول کہاں واقع ہے؟

یہ سکول ایران کے جنوب مشرق میں بندر عباس بندرگاہ کے میناب نامی قصبے میں واقع ہے۔ ناروے میں قائم حقوق کے گروپ ہینگا نے کہا کہ حملے کے وقت سکول کا صبح کا سیشن چل رہا تھا اور وہاں تقریباً 170 طالبات موجود تھیں۔

ایک پارکنگ لاٹ سے بنائی گئی فوٹیج میں ایک تباہ شدہ عمارت سے کالا دھواں اٹھتا ہوا دکھایا گیا ہے جس پر کریون، بچوں اور ایک سیب کی ڈرائنگ والے میورلز سجے ہوئے تھے۔

اے ایف پی نے اس کلپ کی جیو لوکیشن میناب کی ایک عمارت سے کی ہے، البتہ وہ آزادانہ طور پر اس جگہ کی نوعیت کی تصدیق کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

اے ایف پی نے تصدیق کی ہے کہ یہ عمارت پاسداران انقلاب کے زیر کنٹرول دو مقامات کے بالکل قریب واقع تھی۔

گارڈز نیوی کی میڈیکل کمانڈ کی زیر نگرانی شاہد ابسلان کلینک جائے وقوعہ سے 238 میٹر (780 فٹ) کے فاصلے پر ہے، جبکہ سید الشہدا آئی آر جی سی کلچرل کمپلیکس 286 میٹر دور ہے۔

اے ایف پی آزادانہ طور پر اس تاریخ کی تصدیق نہیں کر سکی جس دن کار پارک سے فوٹیج بنائی گئی تھی۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا