’امتحانوں کی تیاری دکان پر ہی کی:‘ پشاور میں بریانی فروخت کرنے والی طالبہ

دسویں جماعت میں پڑھنے والی علیشبا تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کا ہاتھ بٹانے کے لیے بریانی فروخت کرتی ہیں۔

بڑھتی مہنگائی اور معاشی دباؤ نے پشاور کی 14 سالہ علیشبا کو وقت سے پہلے ہی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مجبور کر دیا ہے، جو تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کا ہاتھ بٹانے کے لیے بریانی فروخت کرتی ہیں۔

دسویں جماعت کی علیشبا روزانہ سکول سے واپسی پر ’کراچی سٹوڈنٹ بریانی‘ کے نام سے قائم اپنی چھوٹی سی دکان سنبھالتی ہیں جبکہ ان کے والد قریب ہی ایک سٹال پر یہی کام کرتے ہیں۔

بریانی کو علیشبا کی والدہ گھر میں تیار کرتی ہیں اور خاندان کے دیگر افراد اس کی فروخت میں حصہ لیتے ہیں۔

ان کے مطابق روزانہ تقریباً تین بڑے پتیلوں کی بریانی فروخت ہو جاتی ہے۔

دونوں باپ بیٹی روزانہ دوپہر سے رات 10 بجے تک کام کرنے کے بعد گھر لوٹ جاتے ہیں۔

علیشبا نے بتایا کہ وہ صبح سکول جاتی ہیں اور واپسی پر سیدھا دکان آ جاتی ہیں تاکہ اپنے والد کا ہاتھ بٹا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ میٹرک کے بورڈ امتحانات کے دوران بھی وہ دکان پر اپنی کتابیں ساتھ رکھتی تھیں اور گاہکوں کے درمیان وقت نکال کر پڑھائی کرتی رہتی تھیں۔

’کبھی کبھی رش زیادہ ہوتا تھا لیکن میں کوشش کرتی تھی کہ پڑھائی متاثر نہ ہو۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

علیشبا کے والد اورنگزیب کے مطابق ان کے چار بچے ہیں جن میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے، تاہم وہ اپنی بیٹیوں اور بیٹے میں فرق نہیں کرتے۔

انہوں نے بتایا کہ معاشرے میں اکثر بیٹیوں کو محدود سمجھا جاتا ہے لیکن وہ اپنی بیٹی کو اپنا بازو سمجھتے ہیں۔

’اگر بیٹیاں ساتھ کھڑی ہوں تو والد کمزور نہیں ہوتا۔‘

انہوں نے بتایا کہ محدود وسائل کے باوجود وہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں اور علیشبا کا خواب ڈاکٹر بننا ہے، جسے پورا کرنے کے لیے پورا خاندان محنت کر رہا ہے۔

اورنگزیب کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں ایک فرد کے لیے اکیلے گھر چلانا آسان نہیں رہا، اسی لیے پورا خاندان مل کر کام کرتا ہے تاکہ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہ سکے۔

علیشبا کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں ڈاکٹر بن کر اپنے والدین کی محنت کا صلہ دینا چاہتی ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین