بیٹی کے لیے سکوٹی، بیوی کی ای وی، کیا الیکٹرک انقلاب خواتین کے ذریعے آسکتا ہے؟ 

بینکوں کو دی گئی ای وی سکیم کے تحت صرف 9 فیصد قرض درخواستیں منظور ہوئیں جبکہ 91 فیصد درخواستیں مسترد کر دی گئیں، شاید پالیسی ساز الیکٹرک انقلاب کے لیے تیار نہیں۔ 

درحقیقت ’بیٹی کے لیے سکوٹی اور بیوی کے لیے ای وی‘ صرف ایک خاندانی فیصلہ نہیں بلکہ ایک معاشی فلسفہ ہے (اینواتو)

انقلاب ہمیشہ بڑے نعروں سے نہیں آتے، بعض اوقات وہ خاموشی سے گھروں کے گیراجوں میں جنم لیتے ہیں۔ ممکن ہے آنے والے چند برسوں میں پاکستان کا الیکٹرک انقلاب کسی کار ساز کمپنی، کسی وزیر یا کسی بین الاقوامی ادارے کی بجائے ایک طالبہ کی الیکٹرک سکوٹی اور ایک ملازمت پیشہ خاتون کی الیکٹرک گاڑی سے شروع ہو۔

یہ محض ایک سماجی نہیں بلکہ ایک بڑی معاشی تبدیلی بھی ہو سکتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی کا آغاز کہاں سے ہوگا؟ اس کا جواب شاید خواتین ہیں۔

پچھلے کچھ ماہ سے پاکستان میں خواتین کے الیکٹرک سکوٹی استعمال کے رجحان میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، شاید اسی لیے آج ایک نیا سوال جنم لے رہا ہے کہ کیا بیٹی کے لیے الیکٹرک سکوٹی اور بیوی کے لیے الیکٹرک گاڑی محض سہولت ہے یا ایک دانشمندانہ معاشی سرمایہ کاری؟

پاکستان میں خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت کی شرح اب بھی 25 فیصد سے کم ہے جبکہ لاکھوں خواتین تعلیم، ملازمت یا کاروبار کے لیے نقل و حرکت کے مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔ ایک بیٹی کو کالج چھوڑنے اور واپس لانے کے لیے اکثر والد، بھائی یا خاندان کا کوئی دوسرا فرد روزانہ وقت اور ایندھن خرچ کرتا ہے۔

ایک ملازمت پیشہ خاتون کی آمدورفت بھی اکثر خاندان کے ایک اضافی فرد کو مصروف رکھتی ہے۔ معاشی اعتبار سے یہ ’پوشیدہ لاگت‘ ہے جس کا حساب کبھی نہیں لگایا جاتا۔

اگر ایک طالبہ روزانہ 30 سے 40 کلومیٹر سفر کرتی ہے تو پیٹرول موٹر سائیکل پر اس کا ماہانہ خرچ 10 سے 15 ہزار روپے تک پہنچ سکتا ہے جبکہ الیکٹرک سکوٹی کی چارجنگ لاگت چند سو روپے ہے۔ یوں ایک خاندان سالانہ ایک لاکھ روپے سے زائد کی بچت کرسکتا ہے۔

اگر صرف 10 لاکھ خواتین کو پیٹرول موٹرسائیکل یا سفر کے لیے روایتی ٹرانسپورٹ کی بجائے الیکٹرک بائیکس پر منتقل کر دیا جائے تو ملک کو سالانہ تقریباً 120 ارب روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ای وی ٹیکنالوجی کو صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ معاشی اصلاحات کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

چین میں تقریباً 30 کروڑ سے زیادہ دو پہیوں والی الیکٹرک بائیکس چلانے والوں میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ تائیوان میں فی کس سکوٹرز کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور خواتین سب سے بڑی صارف ہیں۔ یورپ میں الیکٹرک بائیکس کے استعمال میں خواتین کا حصہ تقریباً 40 فیصد ہے۔ پاکستان بھی اس منزل کا مسافر بن سکتا ہے۔ 

شاید اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے الیکٹرک بائیکس اور رکشوں کی نئی سکیم میں 1 لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 3,170 الیکٹرک رکشوں کی مالی معاونت کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ بائیکس کے لیے 25 فیصد کوٹہ خواتین کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ بعض ڈیلرز کے مطابق الیکٹرک بائیکس کی فروخت میں 70 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ محض صنفی مساوات کا اقدام نہیں بلکہ ایک معاشی حکمت عملی بھی ہے۔ حکومت جانتی ہے کہ اگر خواتین کی نقل و حرکت آسان اور سستی ہو جائے تو تعلیم، روزگار اور کاروبار میں ان کی شرکت بڑھے گی، جس کا براہ راست اثر قومی پیداوار پر پڑ سکتا ہے۔

پاکستان میں تقریباً 33 ہزار میگاواٹ شمسی صلاحیت نصب ہو چکی ہے۔ ایک ایسا مکان جس کی چھت پر سولر سسٹم لگا ہوا ہے، وہ اپنی بیٹی کی سکوٹی اور بیوی کی ای وی کو تقریباً مفت چارج کر سکتا ہے۔ یوں پیٹرول پمپ کی جگہ مکان کا گیراج ایک چھوٹا سا ’انرجی سٹیشن‘ بن جاتا ہے۔

یہ تبدیلی صرف اخراجات کم نہیں کرتی بلکہ درآمدی تیل پر انحصار بھی کم کرتی ہے۔

پاکستان سالانہ تقریباً 17 ارب ڈالر کا پیٹرولیم درآمد کرتا ہے۔ تقریباً تین کروڑ موٹر سائیکلیں پیٹرول کھپت کا تقریباً 40 فیصد استعمال کرتی ہیں، جس پر ہر سال تقریباً 6 ارب ڈالر کا زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر ایک خاندان پیٹرول پر چلنے والی موٹر سائیکل کی بجائے الیکٹرک سکوٹی اختیار کرتا ہے تو وہ صرف اپنی جیب ہی نہیں بلکہ قومی معیشت پر بھی بوجھ کم کرسکتا ہے۔

تاہم اس روشن تصویر کے کچھ تاریک پہلو بھی ہیں جنھیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

الیکٹرک ٹیکنالوجی ابھی بھی ہر پاکستانی کی پہنچ میں نہیں ہے۔ سکوٹی کی قیمت چار سے پانچ لاکھ روپے اور الیکٹرک گاڑی کی قیمت لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی پالیسی کا اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ اگر آسان قرضے، خواتین کے لیے خصوصی سکیمیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر فراہم نہ کیا گیا تو الیکٹرک انقلاب صرف امیر طبقے تک محدود رہ سکتا ہے۔ 

 سال 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں 30 فیصد حصہ الیکٹرک گاڑیوں کا بنانے کا ہدف ہے۔ اس لیے پیٹرول پر 2.5 روپے فی لیٹر لیوی عائد کی گئی تاکہ سبسڈی کا مالی بوجھ پورا کیا جا سکے، لیکن یہ ہدف حاصل ہوتا نہیں دکھائی دے رہا۔ 

بینکوں کو دی گئی ای وی اسکیم کے تحت صرف 9 فیصد قرض درخواستیں منظور ہوئیں جبکہ 91 فیصد درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔شاید پالیسی ساز الیکٹرک انقلاب کے لیے تیار نہیں۔ 

اس کے علاوہ پاکستانی خاندان بیٹوں کے لیے الیکٹرک بائیک خریدنے کو سرمایہ کاری سمجھتے ہیں جبکہ بیٹی اور بیوی کی نقل و حرکت کے لیے الیکٹرک بائیک یا گاڑی کی سرمایہ کاری کو پیسے کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ 

درحقیقت ’بیٹی کے لیے سکوٹی اور بیوی کے لیے ای وی‘ صرف ایک خاندانی فیصلہ نہیں بلکہ ایک معاشی فلسفہ ہے۔ جب ایک بیٹی وقت پر تعلیم حاصل کرتی ہے، جب ایک خاتون آسانی سے ملازمت تک پہنچتی ہے تو فائدہ صرف اس گھر کو نہیں بلکہ پورے ملک کو پہنچتا ہے۔

جب ایک پاکستانی باپ اپنی بیٹی کے لیے سکوٹی خریدنے کو خرچ نہیں بلکہ سرمایہ کاری سمجھے گا اور جس دن ایک شوہر اپنی بیوی کی ای وی کو آسائش نہیں بلکہ معاشی ضرورت سمجھے گا، اس دن پاکستان میں خواتین کے ذریعے الیکٹرک انقلاب کی شروعات ہو سکتی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین