پاکستان باکسنگ فیڈریشن نے دولتِ مشترکہ کھیلوں کے بعد پاکستانی باکسر قدرت اللہ کے سکاٹ لینڈ میں لاپتہ ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ویزے کی قانونی مدت ختم ہونے سے پہلے پاکستان واپس آ جائیں گے۔
قدرت اللہ کے قومی دستے کے ساتھ واپس نہ آنے کے بعد بعض بین الاقوامی اور مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ وہ سکاٹ لینڈ میں لاپتہ ہو گئے ہیں، تاہم پاکستان باکسنگ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات درست نہیں۔
پاکستان باکسنگ فیڈریشن کی مارکیٹنگ ڈائریکٹر انعم رفاقت نے منگل کو انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ قدرت اللہ پاکستان آرمی کے ملازم ہیں اور کامن ویلتھ گیمز کے دوران فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل میجر عرفان یونس بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔
انہوں نے کہا، ’ہمیں آفیشل سطح پر ایسی کوئی اطلاع نہیں دی گئی کہ قدرت اللہ غائب ہو گئے ہیں۔ ہماری درخواست ہے کہ آفیشل باڈی کی تصدیق کے بغیر ایسی خبریں شائع نہ کی جائیں۔‘
انعم رفاقت کے مطابق فیڈریشن کی معلومات کے مطابق قدرت اللہ اپنے ویزے کی مقررہ مدت استعمال کر رہے ہیں اور ’وہ ویزے کی مدت ختم ہونے سے پہلے پاکستان واپس آ جائیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقابلوں میں شرکت کرنے والے کئی کھلاڑی اپنے ذاتی وسائل بھی استعمال کرتے ہیں، اس لیے فیڈریشن انہیں فوری واپسی کے لیے غیر ضروری دباؤ میں نہیں لاتی۔
ان کا کہنا تھا، ’بچوں نے اپنے سفر پر لاکھوں روپے خرچ کیے ہوتے ہیں، کچھ اخراجات فیڈریشن اور انتظامیہ بھی اپنی جیب سے برداشت کرتی ہے، اس لیے ہم انہیں اتنا پریشرائز نہیں کر سکتے کہ فوراً واپس آ جائیں۔‘
انعم رفاقت نے میڈیا سے اپیل کی کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے بجائے متعلقہ سرکاری اداروں کا مؤقف بھی ضرور لیا جائے تاکہ قومی کھلاڑیوں کی ساکھ متاثر نہ ہو۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ ’قدرت اللہ ایک محنتی باکسر ہیں جو ماضی میں پاکستان کے لیے تمغے جیت چکے ہیں، اور غیر مصدقہ خبروں سے ایسے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔‘
پاکستان باکسنگ فیڈریشن کی مارکیٹنگ ڈائریکٹر نے حکومت سے کھیلوں کے شعبے کے لیے زیادہ مالی معاونت کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے مطابق باکسرز کی تربیت، خوراک، کونسلنگ اور بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت پر بھاری اخراجات آتے ہیں، جن کا بڑا حصہ محدود وسائل میں پورا کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’اگر حکومت ہمارے کھلاڑیوں کو بہتر سہولتیں اور سرپرستی فراہم کرے تو کوئی بھی اپنا ملک چھوڑنے کے بارے میں نہیں سوچے گا۔‘
قدرت اللہ کی عدم موجودگی کی خبریں ایسے وقت میں سامنے آئیں جب ماضی میں بھی بعض پاکستانی ایتھلیٹس بین الاقوامی مقابلوں کے دوران قومی دستوں کے ساتھ واپس نہیں آئے تھے، تاہم پاکستان باکسنگ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ موجودہ معاملہ ان واقعات سے مختلف ہے اور قدرت اللہ کی واپسی جلد ہو جائے گی۔