کیا چین زیر آب ڈرونز کے لیے ’مدرشپ‘ تیار کر رہا ہے؟

ماہرین کے مطابق یہ بحری جہاز دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا ہے۔

پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نیوی کی ٹائپ 54 اے گائیڈڈ میزائل فریگیٹ ’یونچینگ‘ (571) 6 جولائی 2025 کو ہانگ کانگ کے سٹون کٹرز آئی لینڈ پر واقع نگانگ شوئن چاؤ بحری اڈے پر لنگر انداز ہے (اے ایف پی)

سیٹلائٹ تصاویر سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ چین بڑے پیمانے پر زیر آب ڈرونز کی تعیناتی کے لیے ایک نام نہاد ’مدرشپ‘ تیار کر رہا ہے جبکہ بیجنگ انڈو پیسفک میں اپنے دعوؤں کی جارحانہ حمایت کے لیے اپنی فوجی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ بحری جہاز دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا ہے۔ اسے شنگھائی کی ہودونگ ژونگ ہوا شپ یارڈ میں دیکھا گیا، جہاں چین اس سے قبل بڑے ایمفی بیئس اسالٹ جنگی جہاز تیار کر چکا ہے۔

بظاہر یہ ایک مخصوص مقصد کے لیے تیار کیا گیا ایمفی بیئس مدرشپ ہے جو بیجنگ کی انتہائی خفیہ ’ایکسٹرا ایکسٹرا لارج‘ بغیر عملے کے زیر آب گاڑیوں میں سے کم از کم چار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

ان میں سے دو کے بارے میں معلومات سامنے آ چکی ہیں، ایک کی لمبائی 115 فٹ ہے، جو امریکی بحریہ کی ’اورکا‘ سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے جبکہ دوسری کی لمبائی 148 فٹ ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

بحری تاریخ دان اور تجزیہ کار ایچ آئی سٹن نے ’نیول نیوز‘ میں لکھا ’اب تک کی سب سے قابل قبول وضاحت یہی ہے کہ یہ ایک خصوصی ڈرون آبدوز مدرشپ ہے۔‘ 

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے ممکنہ کردار کا جائزہ لینے کے لیے متعدد سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ایمفی بیئس جہاز کا ڈھانچہ تقریباً 670 فٹ لمبا اور 88.5 فٹ چوڑا دکھائی دیتا ہے جبکہ اس کے عقبی حصے میں ایک ’ویٹ ویل ڈیک‘ اور ایک ایسا کریڈل موجود ہے جسے 12 عمودی جیک اَپ بازوؤں کی مدد سے پانی میں اتارا جا سکتا ہے۔

’نیول نیوز‘ نے جہاز کے حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے اندازہ لگایا کہ یہ اندرونی ہینگر میں ان انتہائی خفیہ ڈرونز میں سے چار لے جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے اسے ’شہری یا تحقیقی‘ مقصد کا جہاز قرار دینا ناقابل یقین معلوم ہوتا ہے۔

دفاعی ماہرین نے کہا کہ سیٹلائٹ تصاویر سے ملنے والے شواہد قائل کرنے والے ہیں لیکن حتمی نہیں۔ 

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے ایسوسی ایٹ فیلو الیسینڈرو آردوئینو نے کہا ’سیٹلائٹ تصاویر اس بات کا ثبوت نہیں دیتیں کہ چین بڑے بغیر عملے کے زیرِ آب گاڑیوں کے لیے ایک مخصوص مدرشپ بنا رہا ہے، لیکن ان سے اس امکان کو مسترد کرنا بتدریج مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘

انہوں نے ’دی انڈیپنڈنٹ‘ کو بتایا کہ نیا جہاز چین کی جانب سے خودکار نظاموں میں سرمایہ کاری کے ایک ایسے رجحان سے مطابقت رکھتا ہے، جن کا مقصد نہ صرف روایتی بحری طاقت میں مدد فراہم کرنا ہے بلکہ اس انداز کو تبدیل کرنا بھی ہے جس سے طاقت پیدا، تقسیم اور برقرار رکھی جاتی ہے۔

متنازع جنوبی بحیرہ چین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران چین نے اپنی بحری صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ کیا ہے، جہاں حالیہ برسوں میں حریف ممالک، خصوصاً فلپائن، کے ساتھ جھڑپیں پرتشدد ہو چکی ہیں۔

چینی بغیر عملے والی آبدوز ممکنہ طور پر 10 ہزار ناٹیکل میل سے زیادہ فاصلے تک پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ ’اورکا‘ کی حدِ سفر 6,500 ناٹیکل میل ہے۔

برطانیہ نے بھی ’ایکس وی ایکسکیلیبر‘ کے نام سے اپنا ایک ورژن تیار کیا ہے، جس کی لمبائی صرف 39 فٹ ہے۔

انڈیا کے تکش شیلا انسٹی ٹیوشن کے ریسرچ فیلو آدتیہ رامناتھن نے چینی جہاز کے حوالے سے کہا ’یہ ایک نئی نوعیت کا پلیٹ فارم ہے۔ مجھے کسی اور ملک کے بارے میں علم نہیں کہ اس نے کسی مخصوص مقصد کے لیے اس قسم کا آبدوز بردار جہاز تیار کیا ہو۔‘

نئے جہاز کو سمندری آزمائشوں سے گزارنے کے بعد تعینات کیے جانے میں اب بھی دو سے تین سال لگ سکتے ہیں۔

آردوئینو نے نشاندہی کی کہ چین ایک ایسے بڑے خودکار زیرِ آب پلیٹ فارم پر کام کر رہا ہے جو زیادہ سنسرز، پے لوڈ اور توانائی لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہو تاکہ یہ زیادہ عرصے تک سمندر میں رہ سکے اور کم لاگت میں مشنز انجام دے سکے۔

چینی فوج نے ایسے کسی جہاز کی تعمیر کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ تردید۔

اگرچہ بغیر عملے والی آبدوزیں اپنے نسبتاً چھوٹے حجم کی وجہ سے کئی حوالوں سے محدود ہوتی ہیں لیکن وہ ایسے کام انجام دے سکتی ہیں جو بڑے جہاز نہیں کر سکتے مثلاً نسبتاً کم گہرے پانیوں میں داخل ہونا۔ 

رامناتھن کے مطابق یہ ’خاموشی سے دوسرے جہازوں اور آبدوزوں کے شور اور صوتی شناختی خصوصیات سے متعلق ڈیٹا جمع کر سکتی ہیں اور بنیادی طور پر بڑے ڈیٹا ذخیرے تیار کر سکتی ہیں‘ تاکہ مستقبل میں جب انہیں ایسی صوتی شناختی خصوصیات کا سامنا ہو تو وہ فوری طور پر بتا سکیں کہ ان کے سامنے کیا موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا ’اور انڈٰیا جیسے ممالک کے لیے ان کا سراغ لگانا زیادہ مشکل ہو جائے گا۔‘

انہوں نے کہا مدرشپ ان زیر آب ڈرونز کی رسائی کو بڑھا سکتی ہے اور اس کے حریفوں کے لیے آزادانہ جہاز رانی کی آزادی محدود کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔

چین جنوبی بحیرہ چین کے تقریباً تمام جزائر اور چٹانی جزیروں پر خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے، جہاں اسے فلپائن، ویتنام، برونائی اور تائیوان کے متضاد دعووں کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے قانونِ سمندر کے کنونشن کے تحت دی ہیگ میں قائم کیے گئے ایک ثالثی ٹریبونل نے 2016 میں فیصلہ دیا تھا کہ چین کے دعوے غیر قانونی ہیں۔ بیجنگ نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا تھا۔

ان متنازع پانیوں کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ بھی کشیدگی پائی جاتی ہے، جو خطے میں بیجنگ کے خودمختاری کے دعووں کو تسلیم نہیں کرتا۔

اس تناظر میں رامناتھن نے وضاحت کی کہ بغیر عملے والے جہاز چین کی زیر آب حدود پر غلبہ حاصل کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چین کے حریفوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’ان ممالک کے لیے فوجی عدم توازن اتنا زیادہ ہے کہ یہ (نظام) اس میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔ اور ان کے لیے، بالکل انڈیا کی طرح، ان آبدوزوں کا سراغ لگانا یقیناً مزید مشکل ہو جائے گا۔‘

چین اور امریکہ کے درمیان بحری دوڑ میں مسلسل شدت آ رہی ہے، بیجنگ دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑا تیار کر رہا ہے جبکہ واشنگٹن ہائی ٹیک برتری کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ 

اس وقت چین کی جہاز سازی کی صلاحیت امریکہ کے مقابلے میں کم از کم 200 گنا زیادہ ہونے کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

آردوئینو نے کہا ’انڈو پیسفک میں امریکہ پہلے ہی بڑی تعداد میں تقسیم شدہ خودکار نظاموں پر مبنی تصورات تلاش کر رہا ہے، جن میں ’ہیلسکیپ‘ بھی شامل ہے۔ 

’چین کا امکان نہیں کہ وہ اسی انداز میں جواب دے، اس لیے مستقبل کی بحری جنگ آج کی ڈرونز سے بھرپور زمینی جنگ سے زیادہ مشابہ ہو سکتی ہے، بجائے اس کے کہ وہ روایتی بحری کارروائیوں جیسی ہو۔‘

رامناتھن نے کہا کہ بغیر عملے والے جہاز صرف حریف کی افواج، درجہ حرارت، پانی کی نمکیات اور سمندر سے متعلق دیگر معلومات جمع کرنے کے لیے بھی تعینات کیے جا سکتے ہیں۔ 

’لیکن،‘ انہوں نے مزید کہا، ’انہیں کسی نہ کسی شکل میں جنگی کارروائیوں میں بھی استعمال کیا جا سکے گا۔‘

آردوئینو نے کہا کہ چینی فوج نے 1979 کے بعد سے کوئی بڑی جنگ نہیں لڑی، تاہم ’خودکار نظام محض جنگی تجربے کی عدم موجودگی کا ازالہ نہیں کر سکتے، لیکن وہ زیادہ سینسر ڈیٹا کو یکجا کرنے اور مشین کی رفتار سے فیصلوں میں معاونت منتقل کرکے انسانی عوامل پر انحصار کم کر سکتے ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی