انڈین افواج کے لیے پانچ ارب ڈالر کے ڈرونز، میزائل خریدنے کی منظوری

انڈیا نے جمعے کو اپنی افواج کے لیے 5.46 ارب ڈالر مالیت کے مختلف فوجی سازوسامان کی خریداری کی منظوری دے دی، جن میں میزائل، الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز اور کامیکازی ڈرونز شامل ہیں۔

26 جنوری، 2026 کی اس تصویر میں نئی دہلی میں انڈین فوج یوم جمہوریہ کی پریڈ میں آکاش میزائل کی نمائش کر رہی ہے(اے ایف پی)

انڈیا نے جمعے کو اپنی افواج کے لیے 5.46 ارب ڈالر مالیت کے مختلف فوجی سازوسامان کی خریداری کی منظوری دے دی، جن میں میزائل، الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز اور کامیکازی ڈرونز شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انڈین حکومت نے کہا ہے کہ اس خریداری کو دفاعی حصولیاتی کونسل (DAC) نے ’اصولی منظوری‘ دی، جس میں اعلیٰ فوجی افسران شامل ہیں اور جس کی سربراہی وزیرِ دفاع کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کی لاگت تقریباً 520 ارب انڈین روپے (5.46 ارب ڈالر) ہو گی۔

تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ خریداری کتنے عرصے میں مکمل کی جائے گی یا منظور شدہ نظام درآمد کیے جائیں گے یا ملک میں ہی تیار کیے جائیں گے۔

نئی دہلی گذشتہ ایک دہائی کے دوران اپنے روایتی اور بڑے دفاعی سپلائر روس پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے امریکہ اور فرانس سمیت دیگر ممالک کی جانب رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی پیداوار کو بھی فروغ دے رہا ہے۔

حکومت کے مطابق اس معاہدے میں انڈین فوج کے لیے اینٹی ڈرون اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز، درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، موبائل اینٹی ٹینک میزائل اور ’جیٹ بیسڈ کامیکازی ڈرون سسٹم‘ کی خریداری شامل ہے۔

ڈی اے سی نے سمندری دفاع کو مضبوط بنانے اور نگرانی کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے نئے بحری بارودی سرنگوں (نیول مائنز)، جہازوں پر استعمال ہونے والے ڈرونز اور ایک ٹیسٹنگ سہولت کی خریداری کی بھی منظوری دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈیا فضائیہ کے لیے بلند پرواز بغیر پائلٹ طیارہ پلیٹ فارم خریدنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے، جسے انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے اور ریموٹ سینسنگ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

نئی دہلی کا موجودہ دفاعی بجٹ 85 ارب ڈالر ہے۔

گذشتہ سال جوہری ہتھیاروں سے لیس حریف پاکستان کے ساتھ چار روزہ تنازع نے اس بات کو اجاگر کیا کہ دہلی کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔

انڈیا بحرِ ہند کی اہم بحری گزرگاہوں میں بیجنگ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی بحریہ کو بھی تیزی سے جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

دسمبر میں نئی دہلی نے کم از کم 75 بحری جہازوں اور آبدوزوں کا آرڈر دینا شروع کیا، جن میں سے بیشتر ملک کے اندر تیار کیے جائیں گے۔

اس سال کے آغاز میں اعلیٰ حکام نے 39 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی سازوسامان کی خریداری کی منظوری دی تھی، جن میں فرانس سے رفال لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا