کینیا کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل کیس میں دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے جمعے کو یہ فیصلہ سنایا ہے کہ صرف فائرنگ کے نتیجے میں کسی شخص کی موت واقع ہونا ازخود یہ ثابت نہیں کرتا کہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
سپریم کورٹ کینیا کے مطابق ’محض فائرنگ کے نتیجے میں کسی شخص کی موت واقع ہو جانا ازخود یہ ثابت نہیں کرتا کہ اسے تشدد، ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔‘
اس ضمن میں ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کا موقف ہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے سفارتی دباؤ نہ ڈالنے کے باعث ارشد شریف کو کینیا میں بھی اب تک انصاف نہیں مل سکا۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ارشد شریف کے قتل کو اکتوبر میں چار سال ہو جائیں گے، ’لیکن پاکستان اور کینیا کی حکومتوں نے اس کیس کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ پاکستان کی عدالتوں میں حکومتی وکیلوں کو اپنے شہری کے قتل سے زیادہ کینیا کے ساتھ سفارتی تعلقات عزیز نظر آئے۔‘
2023 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے صحافی ارشد شریف کے کینیا میں ہونے والے قتل کا ازخود نوٹس لیا تھا جس کے بعد کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تھا۔
اس سے قبل دسمبر 2022 میں پاکستانی حکومت نےسپریم کورٹ کی ہدایت پر ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جی آئی ٹی) تشکیل دی تھی جس کے تین ماہ گزرنے کے بعد جے آئی ٹی سربراہ اویس احمد نے کہا تھا کہ کینیا میں متعلقہ حکام تحقیقات کے سلسلے میں مطلوبہ تعاون فراہم نہیں کر رہے۔
تاہم تقریباً چار سال گزرنے کے بعد پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے رواں برس فروری میں صحافی ارشد شریف قتل کیس کی ازخود نوٹس کی کارروائی نمٹاتے ہوئے فیصلہ جاری کیا تھا کہ چونکہ پاکستان اور کینیا کی حکومتیں اس کیس کے سلسلے میں مناسب اقدامات اٹھا رہی ہیں لہذا ’عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔‘
کینیا کی سپریم کورٹ نے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ ’اس نوعیت کے سلوک (تشدد) کے لیے عموماً یہ ضروری ہوتا ہے کہ متاثرہ شخص زندہ ہو اور کسی نہ کسی شکل میں اپنے مبینہ اذیت دینے والے کی تحویل، کنٹرول یا اس کے اثر و رسوخ میں ہو۔‘ نیز ’کسی مقدمے میں یہ دعویٰ کیا جائے کہ مہلک فائرنگ کے دوران یا اس کے بعد متاثرہ شخص کو تشدد یا غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا، تو اس کے لیے قابلِ اعتماد شواہد، بالخصوص طبی یا سائنسی شہادت، پیش کرنا ضروری ہے۔‘
عدالت نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’مثال کے طور پر یہ ثابت کیا جانا چاہیے کہ موت فوری طور پر واقع نہیں ہوئی بلکہ متاثرہ شخص فائرنگ کے بعد کچھ عرصے تک شدید درد، اذیت یا تکلیف میں مبتلا رہا۔‘
عدالت نے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ زیرِ سماعت مقدمے میں اس نوعیت کا کوئی طبی، سائنسی یا دیگر قابلِ قبول ثبوت پیش نہیں کیا گیا، اس لیے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ متوفی کو آئینی یا قانونی معنوں میں تشدد، ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
عدالت نے متفقہ طور پر صحافی ارشد شریف کی اہلیہ اور دو صحافتی تنظیموں کی جانب سے دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے بیشتر نکات پر کورٹ آف اپیل کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
جویریہ صدیق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے پاس کینیا کی کورٹ آف اپیل میں جانے کا حق موجود ہے۔
جویریہ صدیق نے یہ بھی بتایا کہ ’کینیا کی عدالت نے دو بار مجھے معاوضہ دینے کا اعلان کیا، لیکن یہ صرف اعلان ہی ہوتا ہے۔ وہاں کے قانون کے مطابق یہ ایک اخلاقی فتح کی علامت ہے، یہ معاوضہ درحقیقت متاثرین کو ادا نہیں کیا جاتا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ارشد شریف کون تھے؟
ارشد شریف پاکستان کے نامور صحافی اور اینکر تھے۔ وہ چار سال قبل اگست 2022 میں اپنے خلاف متعدد مقدمات درج ہونے کے بعد پاکستان چھوڑ گئے تھے۔ ابتدائی طور پر وہ کچھ عرصہ متحدہ عرب امارات میں رہے اور بعد ازاں کینیا چلے گئے۔ اکتوبر 2022 میں انہیں کینیا میں قتل کر دیا گیا تھا۔
24 اکتوبر 2022 کو کینیا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس نے ایک پریس بیان میں تسلیم کیا کہ کینیا پولیس کے اہلکاروں نے مگاڈی روڈ پر ایک کارروائی کے دوران ارشد شریف پر فائرنگ کی، تاہم ان کے مطابق یہ واقعہ ’غلط شناخت‘ کا نتیجہ تھا۔
تقریباً ایک سال گزرنے اور تحقیقات یا ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی سے متعلق کوئی واضح پیش رفت سامنے نہ آنے پر ارشد شریف کی اہلیہ اور دیگر درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی۔
اس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ’غیر قانونی فائرنگ کی مکمل تحقیقات نہ کرنا، ذمہ دار اہلکاروں کو گرفتار یا ان کے خلاف مقدمہ قائم نہ کرنا، متوفی کے حقِ زندگی، انسانی وقار اور منصفانہ قانونی تحفظ کی خلاف ورزی ہے۔‘