اسلام آباد کی مقامی عدالت نے جمعے کو ایک مقدمے کی سماعت کے بعد انسانی پلیسنٹا کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث تین چینی اور دو پاکستانی شہریوں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
سول جج احمد شہزاد گوندل نے اسلام آباد میں انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کے کیس میں گرفتار پانچ ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، ان افراد میں تین چینی باشندے جبکہ دو پاکستانی افراد کو 24 جون کو گرفتار کیا گیا تھا۔
پلیسنٹا کی غیر قانونی خرید و فروخت کا یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی نے کاروائی کرتے ہوئے تقریبا ساڑھے پانچ سو کلو گرام انسانی پلیسنٹا اور بڑی مقدار میں انسانی بال برآمد کیے۔
سول جج احمد شہزاد گوندل کی عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے بتایا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون اور ای الیون میں قائم مبینہ غیرقانونی سینٹرز میں لاہور، پشاور اور راولپنڈی سے خواتین کا پلیسنٹا دو لاکھ روپے فی کلو کے حساب سے خریدا جاتا تھا۔ اور اسے مبینہ طور پر بھیڑ کے خون میں رکھ کر ان مراکز تک منتقل کیا جاتا تھا تاکہ اسے چھپایا جا سکے۔
پولیس کے مطابق برآمد کیے گئے پلیسنٹا کی مالیت تقریبا 11 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایف آئی اے کے عہدے دار نے سماعت کے بعد انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان مراکز میں پہلے پلیسنٹا کو بوائل کیا جاتا اور سکھا کر خشک کیا جاتا تھا اور اس سے کیپسول بھی تیار کیے جا رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اس مبینہ نیٹ ورک کے ذریعے ان کیپسولز اور پلیسنٹا کو جعلی دستاویزات کی مدد سے ویتنام اور دیگر ممالک سمگل کیا جا رہا تھا۔
طبی ماہرین کے مطابق پلیسنٹا حمل کے دوران رحم میں بننے والا ایک عارضی عضو ہے جو ماں اور بچے کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے، اور اس کا کام ماں کے خون سے آکسیجن بچے تک پہنچانا ہوتا ہے۔
پاکستانی قانون کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد پلیسنٹا کو زمین میں دفن کیا جانا چاہیے، اور متعلقہ خاندان کی رضامندی کے بغیر اسے فروخت یا کسی طبی مقصد کے لیے استعمال ہی نہیں کیا جا سکتا۔
ایف آئی نے یہ بھی بتایا کہ ایسا اقدام عمومی طور پر سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ کی ممکنہ ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔