انڈیا: پابندی کے خلاف ٹیلی گرام کا عدالت سے رجوع

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام کا کہنا ہے کہ ’آپ کو شاپنگ مالز بھی بند کر دینے چاہییں کیوں کہ ان میں سے کسی ایک میں چوری ہو سکتی ہے۔‘

انڈین حکومت نے دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے سوشل میڈیا ایپ ٹیلی گرام پر 22 جون 2026 تک عارضی پابندی لگائی (روئٹرز)

ٹیلی گرام نے ملک کے سب سے بڑے میڈیکل انٹری ٹیسٹ سے قبل میسیجنگ ایپ پر عارضی پابندی عائد کرنے پر انڈیا کی حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔

حکومت نے منگل کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے 22 جون تک ٹیلی گرام پر پابندی کا اعلان کیا کہ اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو امتحان دینے والے امیدواروں کو ’دھوکہ‘ دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔

اس اعلان پر فوری شدید ردعمل سامنے آیا۔

تقریباً 23 لاکھ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند امیدوار 21 جون کو نیشنل ایلیجبلٹی انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) دوبارہ دیں گے۔ مئی میں امتحانی پرچہ عام ہونے کے بعد یہ امتحان منسوخ کر دیا گیا تھا۔

پرچے کی منسوخی کے بعد وائرل ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں ملک گیر مظاہرے شروع ہو گئے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پڑدھان کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

پابندی کا اعلان کرتے ہوئے حکومت نے ٹیلی گرام کو جون کے آخر تک ملک میں اپنا میسیج ایڈیٹنگ فیچر بند کرنے کی ہدایت کی اور یہ دعویٰ کیا کہ اسے امتحان کے بعد پیپر عام ہونے کے جعلی ثبوت گھڑنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ پابندی انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون کی ایک شق کے تحت عائد کی گئی، جو حکومت کو ’انڈیا کی خودمختاری اور سالمیت کے مفاد‘ میں آن لائن سائٹس تک رسائی روکنے کا اختیار دیتی ہے۔

ٹیلی گرام نے اب دہلی ہائی کورٹ میں اس پابندی کو چیلنج کر دیا ہے۔ اس کی درخواست پر بدھ کو سماعت ہو گی۔

اس پابندی کے حوالے سے ایکس پوسٹ کے جواب میں ٹیلی گرام نے کہا: ’آپ کو تمام شاپنگ مالز بھی بند کر دینے چاہییں کیوں کہ ان میں سے کسی ایک میں چوری ہو سکتی ہے اور سڑکیں بھی بند کر دیں کیوں کہ میں نے سنا ہے کہ کوئی تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا۔‘

وزارتِ تعلیم نے کہا کہ اسے اس پابندی سے ’ہونے والی زحمت پر افسوس‘ ہے، جس سے ملک میں ٹیلی گرام کے کروڑوں صارفین متاثر ہوں گے۔

تاہم، انہوں نے امتحان کی شفافیت کے تحفظ کے لیے اس اقدام کا ایک ’آخری حربے‘ کے طور پر دفاع کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امیدواروں کو دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے ٹیلی گرام چینلز کو بند کرنے سے نتائج ’برآمد نہیں ہوئے تھے۔‘

وزارت نے کہا کہ وہ داخلہ ٹیسٹ دوبارہ منعقد کرنے کے لیے کئی اقدامات کر رہی ہے، جن میں مزید لیکس سے بچنے کے لیے امتحانی مواد کی محفوظ منتقلی کی خاطر ایئر فورس کے طیاروں کا استعمال بھی شامل ہے۔

تقریباً 15 کروڑ صارفین کے ساتھ انڈیا ٹیلی گرام کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، اگرچہ 50 کروڑ سے زائد صارفین کے ساتھ واٹس ایپ سب سے بڑا میسیجنگ پلیٹ فارم ہے۔

انٹرنیٹ کی آزادی کے حامیوں کا استدلال ہے کہ نریندر مودی حکومت شفاف امتحان منعقد کرنے میں اپنی ناکامی کا الزام سوشل میڈیا ایپ پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ٹیلی گرام کے بانی پاول دوروف نے اس پابندی کو ’غلطی‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سے ’کچھ نہیں رکا۔‘ پاول دوروف کا کہنا تھا کہ ’لیکس محض دوسری ایپس پر منتقل ہو گئے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پابندی انڈیا میں عام صارفین کے لیے سزا ہے اور ’امتحانی مواد لیک کرنے والے اندر کے لوگوں کے لیے نہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’گذشتہ چند ہفتے کے دوران، ہم نے انڈیا میں لیک ہونے والا امتحانی مواد اور متعلقہ فراڈ شیئر کرنے والے سینکڑوں چینلز بند کیے ہیں۔‘

انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن نے کہا کہ یہ پابندی امتحانی فراڈ کا ’غیر متناسب جواب‘ تھی۔

گروپ نے کہا کہ یہ اقدام ’ردعمل پر مبنی اور غیر موثر‘ تھا اور اس نے امتحانی پرچے لیک ہونے کے بنیادی ذرائع کو دور کرنے کے بجائے عام صارفین کو سزا دی۔

اس نے مزید کہا: ’اس بات پر غور کرنا بھی اہم ہے کہ امتحانی پرچے لیک ہونے کا ذریعہ سسٹم کے اندر، اندر کے لوگوں، پرنٹنگ اور لاجسٹکس چین میں ہو گا، جب کہ یہ پلیٹ فارم ترسیل کا سب سے آخری ذریعہ ہے۔‘

ٹیک تجزیہ کار نکھل پاہوا نے کہا کہ اس پابندی نے ان کاروباروں کو غیر متناسب طور پر متاثر کیا ہے جو صارفین سے رابطے کے لیے ٹیلی گرام کمیونٹیز پر انحصار کرتے تھے۔

انہوں نے ایکس پر کہا: ’اب امتحانات کے لیے، آپ ملک بھر میں ایک میسیجنگ پلیٹ فارم کو بلاک کر رہے ہیں۔ یہی کام واٹس ایپ اور ڈسکارڈ پر بھی ہو سکتا ہے۔ کیا آپ اسے بھی بلاک کر دیں گے؟‘

انہوں نے پوچھا، ’یہ آزادی اظہار رائے پر ایک معقول پابندی کیسے ہے؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاول دوروف نے انڈین ٹیلی کام کی بڑی کمپنی ریلائنس پر الزام لگایا کہ وہ بارڈر گیٹ وے پروٹوکول ہائی جیکنگ نامی عمل کے ذریعے انڈیا سے باہر کے صارفین کے لیے ٹیلی گرام تک رسائی میں خلل ڈال رہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ تخریب کاری دانستہ معلوم ہوتی ہے، کیوں کہ ریلائنس نے متعدد رپورٹس کو نظر انداز کیا ہے۔ یہ ایک مسابقتی جنگ کا حصہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ریلائنس جزوی طور پر میٹا کی ملکیت ہے، جو واٹس ایپ چلانے والی کمپنی ہے۔‘

میٹا ارب پتی مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز کے ڈیجیٹل اور ٹیلی کمیونیکیشن ونگ جیو پلیٹ فارمز میں ایک اقلیتی حصہ دار ہے۔

پاول دوروف نے دعویٰ کیا کہ ٹیلی گرام کی ٹریفک کو جان بوجھ کر غلط سمت میں موڑا گیا، جس سے متحدہ عرب امارات کے صارفین بھی متاثر ہو رہے تھے۔

بارڈر گیٹ وے پروٹوکول انٹرنیٹ کا روٹنگ سسٹم ہے، جو نیٹ ورکس کے ذریعے ڈیٹا کو ٹیلی گرام جیسی سروسز تک پہنچاتا ہے۔ اگر کوئی نیٹ ورک خود کو اس ٹریفک کے لیے بہترین راستے کے طور پر غلط طریقے سے پیش کرتا ہے تو وہ ڈیٹا کا رخ موڑ سکتا ہے، اس میں تاخیر کر سکتا ہے یا اسے روک سکتا ہے، یہ ایک مسئلہ ہے جسے بی جی پی ہائی جیکنگ کہا جاتا ہے۔

اس کے نتیجے میں صارفین کو سروس کی بندش، ناکام کنکشنز، سست رفتار یا کسی سروس تک رسائی سے محرومی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاول دوروف نے کہا: ’عالمی انٹرنیٹ راؤٹنگ کا ایسا غلط استعمال تشویش ناک ہے۔ مجھے کوئی حیرانی نہیں ہو گی اگر انڈیا میں ٹیلی گرام پر پابندی کی حالیہ کوششوں کے پیچھے بھی ریلائنس اور واٹس ایپ کا ہاتھ ہو‘۔

دی انڈپینڈنٹ نے تبصرے کے لیے ریلائنس انڈسٹریز سے رابطہ کیا ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا