پاکستان کے نمایاں سیاست دانوں اور سفارتی تجزیہ کاروں نے اسلام آباد، ریاض اور انقرہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ’تاریخی پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوغان نے جمعے کو مکہ میں دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
معاہدے کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ معاہدے کا مقصد جارحیت کے کسی بھی اقدام کے خلاف اجتماعی ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ اس کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید وسعت دی جائے گی۔
سابق وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے معاہدے کو ملک کی تاریخ میں ’اہم سنگ میل‘ قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے ہفتے کو ایکس پر جاری بیان میں کہا ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک تاریخی پیش رفت ہے جو ہماری دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرے گا۔‘
انہوں نے کہا ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے لیے ایک مستحکم اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔‘
انہوں نے اسے علاقائی امن کے لیے ایک ’تاریخی دستاویز‘ بھی قرار دیا۔
’بروقت اور قابلِ خیرمقدم پیش رفت‘
جمعیت علمائے اسلام (فضل) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ معاہدہ مسلم امہ میں اتحاد کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ’مسلم دنیا کے لیے مشترکہ دفاعی صلاحیت کا قیام ہمیشہ سے ہماری خواہش رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا ’دیگر مسلم ممالک کو بھی پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی معاہدے کا حصہ بننا چاہیے۔‘
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’یہ معاہدہ کسی بھی جارحیت کے عمل کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔‘#saudiaarabia #turkey #pakistan #defenceagreement #IndependentUrdu pic.twitter.com/4TvXLOgfqh
— Independent Urdu (@indyurdu) August 7, 2026
ممتاز سیاست دان اور سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی معاہدے کو سراہا۔
مشاہد حسین سید نے جمعے کو ایکس پر لکھا ’یہ دفاعی معاہدہ ایک ایسے اہم وقت میں بروقت اور قابلِ خیرمقدم پیش رفت ہے جب خطہ ہنگامہ خیزی اور تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’یہ تین اہم مسلم ممالک کے درمیان مغرب سے آزاد پہلا بین الاسلامی عسکری ادارہ جاتی اقدام ہے۔‘
مشاہد حسین سید نے کہا کہ ابھرتے ہوئے ’انڈیا اسرائیل گٹھ جوڑ‘ کے تناظر میں، جسے ان کے مطابق بعض دیگر علاقائی ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے، یہ معاہدہ پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اٹلانٹک کونسل کے سینیئر ساؤتھ ایشیا فیلو مائیکل کگلمین نے کہا کہ یہ دفاعی معاہدہ حالیہ مہینوں میں تینوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کا ’فطری نتیجہ‘ ہے۔
انہوں نے ایکس پر کہا ’یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کے ابھرتے ہوئے سکیورٹی ڈھانچے میں پاکستان کی شمولیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔
’یہ پیش رفت پاکستان اور سعودی عرب کے معاہدے اور مشرق وسطیٰ کی دیگر اہم طاقتوں، خصوصاً مصر اور اردن، کے ساتھ سکیورٹی تعلقات مضبوط کرنے کی پاکستان کی حالیہ کوششوں کے بعد سامنے آئی ہے۔‘
انہوں نے کہا ’مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی تزویراتی اہمیت بڑھ رہی ہے۔‘
سابق پاکستانی سفارت کار آصف درانی نے کہا یہ معاہدہ ’جنوبی اور مغربی ایشیا میں ابھرتے ہوئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل کی جانب پہلا ٹھوس قدم‘ ہے۔
آصف درانی نے ایکس پر لکھا ’اگر یہ رفتار برقرار رہی تو اس سے کئی دہائیوں پرانے تنازعات، بشمول دیرینہ فلسطین کے مسئلے، کو زیادہ علاقائی بنیادوں پر حل کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔‘