فیصلہ کرنا ہے ایران کو تباہ کرنا ہے یا ان سے معاہدہ: ٹرمپ کا یو این جنرل اسمبلی سے خطاب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کو معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ’تباہ‘ کرنے کی دھمکی دی، تاہم نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ معاہدے کی امید بھی ظاہر کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 22 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے (اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اگر ایران مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنے میں ناکام رہتا ہے تو وہ ’ایران کو تباہ‘ کریں یا نہیں۔

ٹرمپ نے کہا: ’’مجھے ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے۔ کیا ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ہو گا جو اسے دوبارہ تعمیر کرنے اور پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ملک بنا سکتا ہے، شاید مشرق وسطیٰ یا حتیٰ کہ دنیا کے عظیم ترین ممالک میں سے ایک؟‘

انہوں نے کہا: ’یا میں ایران کو تباہ کر دوں اور یہ کام تیزی سے کروں، انہیں دوبارہ لوگوں اور ممالک کو قتل اور تباہ کرنے کا موقع دیے بغیر؟ کیا میں انہیں جہنم میں دھکیل دوں، جہاں ان کے زندہ رہنے اور مستقبل میں عظیم بننے یا آنے والی نسلوں کے لیے کوئی امید نہ ہو؟‘

تاہم ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ انہیں نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے معاہدہ ہونے کا امکان نظر آتا ہے۔

ٹرمپ نے کہا: ’میرا ماننا ہے کہ ہم انتخابات کے فوراً بعد ایک معاہدہ کر لیں گے، کیونکہ ان کے لیے ایسا نہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔‘

انہوں نے کہا: ’وہ یہ دیکھنے کے لیے انتظار کر رہے ہیں کہ وسط مدتی انتخابات میں میری کارکردگی کیسی رہتی ہے۔ انہیں یہ احساس نہیں کہ میں انتخابات میں امیدوار نہیں ہوں۔ میں یہ پہلے ہی کر چکا ہوں اور بھاری اکثریت سے جیت چکا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ خطرات کو مزید بڑھنے دینے یا مسائل کو طول پکڑنے دینے پر یقین نہیں رکھتے۔

ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں اس لیے تاخیر کر رہا ہے کہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات گزر جائیں۔

انہوں نے کہا: ’جب ایران کی بات آتی ہے تو میں نے انتخابات کو بالکل بھی اہمیت نہیں دی اور نہ ہی دوں گا۔ یہ بات میرے ذہن میں بھی نہیں آتی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹرمپ کے خطاب کے دوران ایرانی وفد جنرل اسمبلی سے واک آؤٹ کر گیا۔

ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے مستقبل کے بارے میں بھی سوالات موجود ہیں کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی ادارے کے لیے امریکی مالی معاونت میں کمی کی ہے۔

گذشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جون 2025 میں ایران کی تین اہم تنصیبات پر امریکی بمباری کا حکم دینے کے بعد امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو ’تباہ‘ کر دیا ہے۔

اس بار وہ ایران کے خلاف نئی جنگ شروع ہونے کے تقریباً سات ماہ بعد جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے۔ ٹرمپ کا اصرار ہے کہ ایران کی جانب سے لاحق جوہری خطرے سے نمٹنے کے لیے یہ جنگ ضروری ہے۔

پاکستان کا ذکر

اپنے خطاب میں امریکی صدر نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ سال مئی کی جنگ روکوانے کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم، جو عظیم شخصیت ہیں، نے انہیں بتایا کہ ’میں نے جنگ بندی کرا کر تین کروڑ افراد کی جانیں بچائیں، یا شاید اس سے بھی زیادہ کی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ