صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع مظفر گڑھ میں 15 طالبہ جویریہ ارشد کے لاپتہ ہونے اور مبینہ طور پر دریائے چناب میں ڈوبنے کے بعد دریا کنارے ان کے جوتے اور سکول کا بستہ مل گیا جس کے بعد ان کی تلاش کے لیے کیا جانے والا ریسکیو آپریشن دوسرے روز بھی جاری ہے۔
جویریہ کے والد ارشد کے مطابق جویریہ میٹرک کے ایک مضمون میں سپلی آنے پر دلبرداشتہ ہو گئی تھیں اور جمعرات کے روز سے لاپتہ ہیں۔
پنجاب کے تمام 9 تعلیمی بورڈز نے میٹرک سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج 6 اگست 2026 کو ایک ساتھ جاری کیے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر پنجاب بھر میں 13 لاکھ 48 ہزار 352 امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے، جن میں سے نو لاکھ 26 ہزار 569 طلبہ کامیاب ہوئے اور مجموعی کامیابی کا تناسب 68.72 فیصد رہا۔
مقامی میڈیا میں امتحانات میں ناکام طلبہ کے دل برداشتہ ہو کر اپنی جان لینے کی کوشش یا گھر چھوڑ کر جانے کے واقعات ہر سال رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔
مظفر گڑھ کے رہائشی ارشد علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’میرے چھ بچے ہیں، ان میں سے ایک بیٹی جویریہ میٹرک کی طالبہ ہے۔ اس نے اس سال میٹرک کا امتحان دیا۔
’جمعرات کو قریبی نجی سکول میں اپنا رزلٹ معلوم کرنے گئی، لیکن واپس نہیں آئی۔ ہم دریائے چناب کے قریبی گاؤں رنگپور میں رہتے ہیں۔ جب وہ دوپہر تک واپس نہ آئی تو ہم نے اس کی تلاش شروع کر دی۔
’ہمیں سکول سے معلوم ہوا کہ اس کے ایک مضمون میں سپلی آئی ہے، جس سے وہ بہت افسردہ تھی اور دس بجے ہی چھٹی لے کر چلی گئی۔ ساری رات تلاش کرتے رہے، لیکن اس کا کچھ پتہ نہ چلا۔‘
بقول ارشد: ’جمعے کی صبح اس کے سکول کے ٹیچر دیگر دوستوں کے ساتھ دریا کنارے واک کرنے گئے تو انہیں وہاں جویریہ کا بیگ اور جوتے ملے۔ انہوں نے ہمیں فون پر اطلاع دی تو ہم وہاں پہنچ گئے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’بیگ اور جوتے واقعی اس کے تھے، جبکہ قریبی دریا کنارے اس کے پانی میں جانے کے پاؤں کے نشان بھی موجود تھے۔ ہم نے ریسکیو 1122 کو کال کی۔
’انہوں نے کشتیوں اور تیراکوں کے ذریعے جمعے کی صبح ہی تلاش شروع کر دی، لیکن ہفتے کی شام تک نہ اس کی لاش ملی اور نہ ہی اس کے زندہ ہونے کی کوئی اطلاع موصول ہوئی ہے۔‘
ترجمان ریسکیو مظفر گڑھ نے بتایا کہ ’ہمیں جمعے کی صبح کال موصول ہوئی کہ ایک لڑکی دریائے چناب میں ڈوب گئی ہے۔
’لہٰذا ہم نے فوری آپریشن شروع کر دیا۔ لڑکی کے لواحقین نے ہمیں بتایا کہ میٹرک کے رزلٹ سے دلبرداشتہ 15 سالہ طالبہ نے مبینہ طور پر دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔
’طالبہ ایک روز قبل ہی لاپتہ ہوئی تھی۔ عینی شاہدین نے جمعرات کے روز جویریہ کو پراسرار طور پر دریا کی جانب جاتے ہوئے دیکھا تھا۔
’جمعے کی صبح جویریہ کا بیگ اور جوتے دریائے چناب کے کنارے پڑے ملے، جس کے بعد لڑکی کی تلاش کے لیے دریائے چناب میں بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا اور بڑے آپریشن کے پیشِ نظر موقع پر انسیڈنٹ پوسٹ بھی قائم کر دی گئی۔‘
ارشد علی کے بقول: ’کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین نے اسے دریا کی طرف اکیلے جاتے دیکھ کر روکنے کی کوشش کی، لیکن اس نے کہا کہ وہ دریا پار رشتہ داروں کے گھر جا رہی ہے۔
’لہٰذا ابھی ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کسی نے اس کا بیگ اور جوتے دریا کنارے رکھ کر کوئی واردات کی ہے یا وہ اپنی مرضی سے دریا کے اندر گئی اور ڈوب گئی ہے۔‘