’راستے بند ہوئے، خواب نہیں‘: پاکستان سے افغان طالبہ کی ملک بدری کی کہانی

ہر سال تارکین وطن کا عالمی دن 20 جون کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے پاکستان میں زیر تعلیم ایک افغان طالبہ کی کہانی جنہیں بہت مشکل دن دیکھنے پڑے اور بالآخر انہیں افغانستان بدر کر دیا گیا۔

افغان طالبات 21 دسمبر 2022 کو کابل میں ایک نجی یونیورسٹی کے سامنے سے گزر رہی ہیں (اے ایف پی)

ہر سال تارکین وطن کا عالمی دن 20 جون کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے پاکستان میں زیر تعلیم ایک افغان طالبہ کی کہانی جنہیں بہت مشکل دن دیکھنے پڑے اور بالآخر انہیں افغانستان بدر کر دیا گیا۔

مارچ 2026 کی ایک ٹھنڈی شام تھی۔ لاہور یونیورسٹی کے ہاسٹل کی تیسری منزل پر واقع ایک چھوٹے سے کمرے میں سمیعہ اپنی کتابوں کے درمیان بیٹھی تھیں۔ بین الاقوامی تعلقات کے مضمون کا امتحان قریب تھا، مگر ان کی نظریں کتاب پر جمی ہونے کے باوجود ذہن کہیں اور بھٹک رہا تھا۔

وہ افغانستان سے تعلق رکھتی تھیں۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے لیے اپنے ملک میں تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہو گیا تھا۔ بہت جدوجہد، قرضے اور قربانیوں کے بعد ان کے والدین نے انہیں پاکستان بھیج دیا تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔ سمیعہ جانتی تھیں کہ یہ موقع ان کے لیے صرف ایک تعلیمی سفر نہیں بلکہ زندگی اور خوابوں کے درمیان ایک پُل تھا۔

مگر اب ان کے لیے مشکل پیدا ہونے جا رہی تھی۔ ان کا سٹڈی ویزا ختم ہونے والا تھا اور کئی ماہ گزرنے کے باوجود نئے ویزے کی منظوری نہیں آئی تھی۔ ہر صبح وہ یونیورسٹی کے دفتر جاتیں، درخواست کا حال پوچھتیں اور ہر بار ایک ہی جواب ملتا کہ ’ابھی انتظار کریں۔‘

انتظار ان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان بن گیا تھا۔

ہاسٹل کی راہداریوں میں اب پہلے جیسی رونق نہیں رہی تھی۔ افغان طلبہ آہستہ آواز میں بات کرتے، ایک دوسرے کو خبردار کرتے اور پولیس کی کارروائیوں کی خبریں بانٹتے رہتے۔ کسی کا دوست گرفتار ہو گیا تھا، کسی کی بہن کو واپس افغانستان بھیج دیا گیا تھا اور کوئی کئی ہفتوں سے کمرے سے باہر نکلنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔

سمیعہ کی سب سے قریبی دوست نسرین بھی انہی خوفزدہ طلبہ میں شامل تھیں۔ ایک رات وہ گھبراہٹ کے عالم میں سمیعہ کے کمرے میں آئیں۔

’آج پولیس ہاسٹل کے سامنے چیکنگ کر رہی تھی۔‘ انہوں نے کانپتی آواز میں کہا۔

’پھر؟‘

’میں بازار نہیں جا سکی۔ پورا دن بھوکی رہی۔‘ نسرین نے جواب دیا۔

سمیعہ خاموش ہو گئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ یہ صرف نسرین کی کہانی نہیں بلکہ سینکڑوں افغان طلبہ کی حقیقت تھی۔

کچھ دن بعد سمیعہ کے والدین اسلام آباد آئے۔ ان کی والدہ کو سرجری کروانی تھی۔ سمیعہ خوش تھیں کہ کئی ماہ بعد وہ اپنی ماں سے مل سکیں گی۔ وہ ہاسٹل سے نکلیں اور والدین کے ہوٹل کی طرف روانہ ہو گئیں۔

راستے میں ایک پولیس چیک پوسٹ آئی۔

’کاغذات دکھاؤ‘ ایک اہلکار نے کہا۔

سمیعہ نے یونیورسٹی کارڈ اور ویزا درخواست کی رسید دکھائی۔

اہلکار نے سرد لہجے میں جواب دیا۔

’ویزا ختم ہو چکا ہے۔‘

’میں نے نئی درخواست دی ہوئی ہے۔‘ سمیعہ نے التجا کی۔

مگر ان کی بات سننے والا کوئی نہیں تھا۔

چند منٹ بعد وہ پولیس کی گاڑی میں بیٹھی تھیں۔

انہیں اسلام آباد کے ایک حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ ایک چھوٹے سے کمرے میں درجنوں مرد، عورتیں اور بچے موجود تھے۔ کھڑکیاں بند تھیں، ہوا کا گزر نہ ہونے کے برابر تھا اور ماحول گھٹن سے بھرا ہوا تھا۔

سمیعہ نے کئی بار والدین سے رابطہ کرنے کی درخواست کی مگر ان کا فون ضبط کر لیا گیا تھا۔

دوسری طرف ان کی ماں ہسپتال جانے کی بجائے بیٹی کی تلاش میں سرحدی شہر چمن پہنچ چکی تھیں۔ بیماری کے باوجود وہ تین دن تک بیٹی کا انتظار کرتی رہیں۔

بالآخر سمیعہ کو دیگر افغانوں کے ساتھ سرحد پار افغانستان بھیج دیا گیا۔

پاکستان سے افغان شہریوں کی بڑے پیمانے پر واپسی کا آغاز ستمبر 2023 کے بعد ہوا، جب اسلام آباد نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کا منصوبہ شروع کیا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین یو این ایچ سی آر کے مطابق اکتوبر 2023 سے چار اپریل 2026 تک 20 لاکھ سے زائد افغان شہری یا تو رضاکارانہ طور پر پاکستان سے واپس جا چکے ہیں یا انہیں ملک بدر کیا جا چکا ہے۔

جب سمعیہ وطن واپس پہنچیں تو انہیں یوں محسوس ہوا جیسے ان کی زندگی کا سب سے روشن باب اچانک بند کر دیا گیا ہو۔

ان کے کمرے میں رہ جانے والی کتابیں، نوٹس، کپڑے اور یادیں سب پاکستان میں رہ گئے تھے۔ سب سے بڑا نقصان مگر یہ نہیں تھا۔ اصل نقصان اس کا خواب تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گھر واپس آ کر وہ کئی دن تک خاموش رہیں۔ کھڑکی کے قریب بیٹھی رہتیں اور دور پہاڑوں کو دیکھتی رہتیں۔ ایک دن ان کے والد ان کے پاس آئے اور کہا کہ ’بیٹی، ہمت مت ہارو۔‘

سمیعہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ ’ابا، میں نے کیا غلط کیا تھا؟ میں صرف پڑھنا چاہتی تھی۔‘ والد کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ مہینے گزر گئے۔ ایک دن نسرین کا پیغام آیا۔ وہ ابھی تک پاکستان میں تھیں، مگر خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی تھیں۔

انہوں نے لکھا کہ ’ہم اب بھی امتحان دے رہے ہیں، مگر کسی کو نہیں معلوم کل کیا ہوگا؟‘

رات گئے وہ اپنی پرانی کتابوں کے صندوق کے پاس گئیں۔ انہوں نے ایک نوٹ بک نکالی جس کے پہلے صفحے پر انہوں نے پاکستان پہنچنے کے دن لکھا تھا کہ ’میں ایک دن تعلیم مکمل کر کے اپنے ملک کی خدمت کروں گی۔ جملہ پڑھ کر ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ مگر پھر انہوں نے نوٹ بک بند نہیں کی۔ انہوں نے اگلے صفحے پر لکھا کہ ’راستے بند ہو سکتے ہیں، خواب نہیں۔‘

اس لمحے انہیں احساس ہوا کہ تعلیم صرف یونیورسٹی کی عمارتوں میں نہیں ہوتی۔ علم کی تلاش انسان کے اندر زندہ رہتی ہے۔ چاہے سرحدیں بند ہو جائیں، ویزے مسترد ہو جائیں یا دنیا اس کے راستے میں دیواریں کھڑی کر دے۔

سمیعہ نہیں جانتی تھیں کہ وہ دوبارہ کسی یونیورسٹی میں داخل ہو سکیں گی یا نہیں۔ وہ یہ بھی نہیں جانتی تھیں کہ ان کے خواب کب پورے ہوں گے۔ لیکن ایک بات یقینی تھی۔ ان کے اندر جلنے والی روشنی ابھی بجھی نہیں تھی۔ اور جب تک وہ روشنی زندہ تھی، ان کی امید ختم نہیں ہو گی۔

یہ رپورٹ افغانستان اینالسٹس نیٹ ورک (اے اے این) پر شائع ہوئی، جو ایک آزاد اور غیر منافع بخش پالیسی تحقیقاتی ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی