اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے کینیڈا پر زور دیا ہے کہ وہ انڈین حکومت کے ناقد ایک سکھ کارکن کی جان کو لاحق خطرات کی تحقیقات میں تیزی لائے۔
اقوام متحدہ کے پانچ خصوصی نمائندگان (سپیشل ریپورٹرز) نے کینیڈین حکومت کو ایک خط میں لکھا کہ انہیں منیندر سنگھ اور ان کے اہل خانہ کو لاحق قابل اعتبار خطرات، جن میں ان کی جان کو فوری خطرہ بھی شامل ہے، پر شدید تشویش ہے۔
کینیڈا کی سکھ فیڈریشن کے رہنما منیندر سنگھ انڈیا کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر تنقید کرتے رہے ہیں اور خالصتان کی علیحدگی پسند تحریک کے حامی ہیں، جو انڈیا کے پنجاب میں ایک خودمختار اور آزاد سکھ ریاست کے قیام کی حامی ہے۔
خط میں کہا گیا ’ہمیں تشویش ہے کہ اس نوعیت کی دھمکیاں مختلف ممالک، بشمول کینیڈا، میں سکھ کارکنوں کے خلاف انڈین حکام کی سرحد پار جبر و استحصال کی ایک وسیع تر مہم کا حصہ ہیں۔‘
نو صفحات پر مشتمل یہ دستاویز گذشتہ ہفتے کے آخر میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے جاری کی۔ یہ خط اصل میں تین جون کو کینیڈین حکومت کو بھیجا گیا تھا اور دو ماہ بعد اسے عوام کے سامنے لایا گیا۔
دستاویز کے مطابق اس خط کی ایک نقل انڈیا کو بھی بھیجی گئی۔
اقوام متحدہ کے ساتھ باقاعدگی سے رابطے میں رہنے والے منیندر سنگھ نے رواں سال کے آغاز میں جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے بیرون ملک سکھ کارکنوں کو انڈیا کی جانب سے مبینہ طور پر نشانہ بنانے اور سرحد پار جبر کے الزامات پر عالمی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
خالصتان کے حامی سکھ کارکنوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے میں انڈیا کے ملوث ہونے کے الزامات نے 2024 میں انڈیا اور کینیڈا کے درمیان شدید سفارتی کشیدگی پیدا کر دی تھی، جب اُس وقت کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ اوٹاوا کے پاس ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں انڈیا کے ملوث ہونے کے ’قابل اعتبار شواہد‘ موجود ہیں۔
انڈیا کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئے سکھ کارکن ہردیپ سنگھ نجر کو جون 2023 میں برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں ایک گردوارے کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔
وزیر اعظم مارک کارنی کے دور میں انڈیا اور کینیڈا کے تعلقات میں بہتری آنے کے بعد کینیڈین پولیس نے کہا کہ نجر کے قتل کو انڈیا سے جوڑنے والا کوئی ثبوت موجود نہیں، تاہم اس مقدمے کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔
آر سی ایم پی کی ڈپٹی کمشنر لیزا مورلینڈ نے کہا ’آج تک ایسی کوئی چیز سامنے نہیں آئی جو اس معاملے کو انڈین حکومت سے جوڑتی ہو۔‘
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے کینیڈین حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ان دھمکیوں کی تحقیقات کریں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔
خط میں مزید کہا گیا ’ہمیں ان الزامات پر گہری تشویش ہے کہ منیندر سنگھ کو انڈین حکام کی جانب سے سکھ کارکنوں کو نشانہ بنانے کے معاملے پر اقوام متحدہ کے اداروں سے تعاون کرنے یا انہیں معلومات فراہم کرنے سے پہلے یا بعد میں براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مزید کہا گیا ’اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ منیندر سنگھ کی انسانی حقوق کے لیے سرگرمیوں اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نمائندوں اور اداروں کے ساتھ تعاون کے خلاف غیر قانونی دھمکی اور انتقامی کارروائی کے مترادف ہو سکتے ہیں۔‘
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندگان اور ماہرین انسانی حقوق کونسل کی جانب سے مقرر کیے جانے والے آزاد ماہرین ہوتے ہیں، جو انسانی حقوق کے مسائل کی نگرانی اور ان پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔
وہ اپنی ذاتی حیثیت میں خدمات انجام دیتے ہیں اور اقوام متحدہ کی نمائندگی نہیں کرتے۔
گلوبل نیوز کے مطابق برٹش کولمبیا پولیس نے منیندر سنگھ کو چار مرتبہ آگاہ کیا کہ انہیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔
پہلی مرتبہ انہیں جولائی 2022 میں خبردار کیا گیا تھا۔ ’ڈیوٹی ٹو وارن‘ کا یہ نوٹس اسی روز جاری کیا گیا تھا، جس روز ان کے قریبی دوست ہردیپ سنگھ نجر کو بھی اسی نوعیت کا انتباہ دیا گیا تھا۔
بعد ازاں اگست 2023 اور مارچ 2025 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش ہونے کے بعد منیندر سنگھ کو قتل کی مبینہ سازشوں کے بارے میں دوبارہ خبردار کیا گیا۔
فروری 2026 میں اقوام متحدہ میں پیش ہونے سے دو روز قبل انہیں ایک اور انتباہ موصول ہوا، جس میں مبینہ طور پر انہیں اور ان کے اہل خانہ کو قتل کرنے کی سازش کی اطلاع دی گئی تھی۔
انڈیا نے نجر سمیت غیر ملکی شہریوں کے قتل یا انہیں دھمکیاں دینے میں اپنی حکومت کے مبینہ کردار سے متعلق تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
© The Independent