اسرائیلی وزیر کا آبادکاروں کے ہمراہ مسجد اقصیٰ پر دھاوا، سعودی عرب اور قطر کی شدید مذمت

سعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ان تمام حملوں کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

سعودی عرب اور قطر نے پیر کو ایک اسرائیلی وزیر اور آباد کاروں کے گروپ کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دھاوا بولنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’یہ اقدام ایک کھلی خلاف ورزی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سراسر اشتعال انگیزی ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب مقبوضہ فلسطین میں فلسطینیوں اور مقدس مقامات کے خلاف اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیز کارروائیوں، اکسانے عمل اور غیر قانونی و انتہا پسندانہ پرتشدد کارروائیوں کو ایک بار پھر قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔

سعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ان تمام حملوں کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

دوسری جانب قطر کی وزات خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ ’انتہا پسند اسرائیلی وزیر اور آباد کاروں کی جانب سے مسجد اقصی پر دھاوا قابل مذمت اور عالمی قانون کی خلاف کھلی خلاف ورزی اور دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کے جذبات کے لیے ناقابل قبول اشتعال انگیزی قرار ہے۔‘

قطری وزارت خارجہ نے کہا کہ مسجد اقصی خالصتاً مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ بیت المقدس اور اس کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے کیے جانے والے کوئی بھی یک طرفہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’اس طرح کی مسلسل خلاف ورزیاں اور اشتعال انگیزیاں خطے میں مزید تشدد اور کشیدگی کو بھڑکانے کا خطرہ پیدا کرتی ہیں اور امن و استحکام کے امکانات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

’عالمی برادری اسرائیل کو فلسطینی عوام اور ان کے مقدس مقامات کے خلاف اس کی جاری خلاف ورزیوں کو روکنے اور متعلقہ بین الاقوامی قانونی قراردادوں کی پاسداری کرنے پر مجبور کرنے کے لیے فوری کارروائی کرے۔‘

بیت القدس گورنریٹ کے مطابق اتوار کو مقبوضہ مشرقی بیت القمدس میں تقریباً 100 اسرائیلی قابضین نے اسرائیلی فورسز کی حفاظت میں مسجد اقصی کے احاطے پر دھاوا بول دیا۔

ایک بیان میں گورنریٹ کے میڈیا آفس نے بتایا کہ قابضین نے اسرائیلی پولیس کی حفاظت میں احاطے کے صحنوں پر دھاوا بولا اور مذہبی رسومات ادا کیں۔

یہ واقعہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو، کئی وزرا اور ہزاروں اسرائیلی قابضین کے سخت سکیورٹی میں مشرقی بیت المقدس کی مغربی دیوار پلازہ میں داخل ہونے کے ایک دن بعد پیش آیا ہے۔

یہ دراندازی ایسے وقت بھی ہوئی ہے جب یہودیوں کا تہوار یوم کپور اتوار کی شام شروع ہو کر پیر کی شام تک جاری رہے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حالیہ مہینوں بالخصوص یہودی تہواروں کے دوران مسجد اقصی میں قابضین کی دراندازی میں ایسے وقت میں تیزی آئی ہے جب فلسطینیوں کی جانب سے مسجد میں نئے حقائق مسلط کرنے اور اسے وقت اور مقام کے اعتبار سے تقسیم کرنے کی کوششوں کے خلاف خبردار کیا جا رہا ہے۔

اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر، انتہا پسند ایتمار بن غفیر نے اسرائیلی قابض فورسز کی حفاظت میں اتوار کی شام مسجد اقصی کے صحنوں پر دھاوا بولا۔

بیت المقدس گورنریٹ نے بتایا کہ بن غفیر قابض پولیس کی جانب سے فراہم کردہ سخت سکیورٹی میں مسجد اقصی کے احاطے میں داخل ہوئے اور اس مقام کے مشرقی حصے میں یہودی مذہبی رسومات ادا کیں۔

وزارت اوقاف و مذہبی امور نے قابض فورسز کی سخت حفاظت میں اور متعدد آباد کاروں کے ہمراہ، انتہا پسند وزیر ایتمار بن غفیر کی جانب سے مسجد اقصی پر دھاوا بولنے کی سخت مذمت کی ہے۔

وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بار بار کی دراندازیاں اور اشتعال انگیز کارروائیاں مقدس ترین اسلامی مقام کے تقدس کی کھلی خلاف ورزی اور مسجد اقصی میں ایک نئی حقیقت مسلط کرنے اور اس کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی مذموم کوشش ہیں۔

وزارت نے کہا کہ ان منظم خلاف ورزیوں کا تسلسل دنیا بھر کے مسلمانوں کے غصے کو بھڑکاتا ہے اور ان بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی کو ظاہر کرتا ہے جو نمازیوں کے احترام اور مقدس مقامات کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔

وزارت نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عرب و اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور قابض حکام پر دباؤ ڈالنے کے لیے فوری مداخلت کریں تاکہ ان خلاف ورزیوں اور مقبوضہ دارالحکومت اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر جاری تجاوزات کو روکا جا سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا