سعودی عرب، مصر اور تیونس سے تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ چاہتے ہیں: پاکستان

پاکستان کے وزیر تجارت جمال کمال نے استنبول مذاکرات میں پاکستانی اور سعودی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

استنبول میں پانچ نومبر، 2026 کو اقتصادی و تجارتی تعاون کی قائمہ کمیٹی (کامسیک) کے اجلاس کے موقعے پر پاکستان کے وزیر تجارت جام کمال خان  تیونس کے تجارت اور برآمدی ترقی کے وزیر سمیر عبید سے بات چیت کر رہے ہیں (حکومت پاکستان)

پاکستانی وزارت تجارت نے جمعرات کو بتایا ہے کہ وفاقی وزیر جام کمال خان نے استنبول میں اقتصادی و تجارتی تعاون کی قائمہ کمیٹی (کامسیک) کے 42 ویں اجلاس کے موقعے پر سعودی عرب، مصر اور تیونس کے حکام سے زرعی، تجارتی اور صنعتی تعاون بڑھانے پر بات چیت کی۔

وزارت تجارت کے مطابق جام کمال کامسیک اجلاس میں شرکت کے لیے اس ہفتے استنبول پہنچے تھے۔

 کامسیک مسلم ممالک کے مشترکہ ترقیاتی مسائل پر غور کرنے اور ان کا حل فراہم کرنے کے لیے اسلامی تعاون تنظیم کے ایک مرکزی فورم کے طور پر کام کرتا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔

پاکستانی وزیر نے استنبول میں سعودی عرب کے بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں کے ڈپٹی گورنر فرید ایس العسلی سے ملاقات کی۔ پاکستانی وزارت کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں نے زراعت اور صنعتی ترقی بالخصوص انسانی وسائل کی ترقی، لائیو سٹاک اور فوڈ سکیورٹی میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

وزارت تجارت نے کہا: ’جام کمال خان نے پاکستانی اور سعودی کمپنیوں کے درمیان باہمی طور پر فائدہ مند مشترکہ منصوبوں کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔‘

انہوں نے افریقی منڈیوں میں ابھرتے ہوئے تجارتی مواقع تلاش کرنے کے لیے خاص طور پر دونوں ممالک کے سرکردہ کاروباری اداروں کے درمیان شراکت داری کی تجویز پیش کی۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ جام کمال خان نے زراعت، لائیو سٹاک اور خوراک سے متعلق صنعتوں میں مواقع تلاش کرنے کے لیے سعودی نمائندے کو آئندہ فوڈ ایگ نمائش کے دوران پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مصر کے سرمایہ کاری اور غیر ملکی تجارت کے وزیر محمد فرید صالح سے الگ ملاقات کی۔ پاکستانی وزیر نے اسلام آباد اور قاہرہ کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون، بالخصوص کپاس اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں اضافے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔

پاکستانی وزارت تجارت کے مطابق: ’مصری وزیر نے مصر میں سرمایہ کاری کے مواقع پر روشنی ڈالی اور پاکستانی کمپنیوں کو مینوفیکچرنگ اور صنعتی شراکت داری کے مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی۔‘

محمد فرید صالح نے کاروباری برادریوں کے درمیان براہ راست رابطے میں سہولت فراہم کرنے اور ممکنہ سرمایہ کاری کی شراکت داریوں کی نشاندہی کرنے کے لیے ایک آئندہ بزنس فورم میں شرکت کی متوقع پاکستانی کمپنیوں کی تفصیلات بھی طلب کیں۔

جام کمال خان نے پاکستانی اور مصری نجی شعبے کی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبے شروع کرنے اور ٹیکسٹائل، مینوفیکچرنگ اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں میں مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے تیونس کے تجارت اور برآمدی ترقی کے وزیر سمیر عبید سے اپنی ملاقات میں پاکستان اور تیونس کے درمیان تجارت بڑھانے اور اقتصادی و صنعتی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’بات چیت میں خاص طور پر زراعت، معدنیات، ٹیکسٹائل، آٹو پارٹس اور مینوفیکچرنگ میں تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی، جس میں دونوں فریقوں نے ان شعبوں میں باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داری کے وسیع مواقع تسلیم کیے۔‘

وزارت تجارت نے کہا کہ کامسیک کے اجلاس کے موقعے پر جام کمال خان کی دوطرفہ مصروفیات اقتصادی سفارت کاری کو مضبوط بنانے، برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانے، سرمایہ کاری راغب کرنے اور مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور اس سے باہر کے ممالک کے ساتھ باہمی فائدہ مند اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کی عکاس ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا