پاکستان اور ایران کے درمیان تفتان بارڈر پر جمعے کو تجارتی سرگرمیاں دوبارہ بحال کر دی گئی ہیں جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان درآمد و برآمد کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے 19 اکتوبر کو ایران سے منسلک بارڈر کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں بلوچستان کے راستے دونوں ہمسایہ ممالک میں ہونے والی تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں اور سرحد کے دونوں اطراف سینکڑوں مال بردار کنٹینرز پھنس گئے تھے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
تفتان میں تعینات ایک اعلیٰ اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ سرحد مکمل طور پر بند نہیں کی گئی بلکہ بعض تکنیکی وجوہات کی بنا پر تجارتی سرگرمیاں معطل ہوئی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وفاقی حکومت نے آج پاکستان ایران سرحدی شہر تفتان بارڈر کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے باضابطہ طور پر کھول دیا گیا اور تفتان میں ایف آئی اے کے امیگریشن گیٹ پر تجارتی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں۔
پاکستان اور ایران کے درمیان سالانہ تجارتی حجم دو ارب ڈالر سے زائد ہے اور تفتان اور گبد ریمدان کی گزرگاہیں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سامان کی نقل و حرکت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پاکستان ان سرحدی راستوں کو ٹرانزٹ سامان کی نقل و حرکت کے لیے بھی استعمال کرتا ہے، اس لیے تجارتی سرگرمیوں کی معطلی کے اثرات صرف دوطرفہ درآمدات اور برآمدات تک محدود نہیں رہ سکتے۔