فلم ’گھوسٹ سکول‘ کو سندھ میں سینسر شپ کے خلاف تین ماہ طویل قانونی جنگ کے بعد بالآخر پاکستانی سینیما گھروں میں نمائش کی اجازت مل گئی ہے اور فلم رواں ہفتے ریلیز کر دی گئی ہے۔
سندھ کے سینسر بورڈ نے جولائی میں فلم کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اس میں بعض الفاظ اور مناظر تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد فلم ساز سیماب گل نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جس نے اکتوبر میں سینسر بورڈ کے بیشتر اعتراضات کو غیر ضروری قرار دے دیا۔
فلم ساز سیماب گل کے مطابق اس قانونی جنگ میں تین ماہ لگے، تاہم بالآخر انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا: ’اس کے بعد ہم عدالت گئے، جہاں کیس لڑنے میں تین ماہ لگے، لیکن آخرکار ہم جیت گئے۔ ہم زیادہ پبلسٹی یا پی آر کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے، لیکن میں سندھ بورڈ کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری کافی مدد کی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فلم کی کہانی 10 سالہ رابعہ کے گرد گھومتی ہے، جو یہ جاننے کی کوشش کرتی ہے کہ اس کے گاؤں کا واحد سکول کیوں بند ہو گیا ہے۔ گاؤں میں افواہ ہے کہ سکول کی بندش کی وجہ بھوت ہیں، تاہم رابعہ کی جستجو اسے بدعنوانی اور ان رکاوٹوں تک لے جاتی ہے جو بچوں کی تعلیم کے راستے میں حائل ہیں۔
فلم کی ہدایت کارہ سیماب گل نے اس سے قبل اگست میں انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ اس کہانی کا خیال انہیں 2023 کے سیلاب کے بعد سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور کراچی کے مختلف علاقوں کے دوروں کے دوران آیا، جہاں انہوں نے متعدد غیر فعال اور خالی سرکاری سکول دیکھے تھے۔
ان کے مطابق کہیں سکولوں کی عمارتیں مویشیوں کے باڑوں کے طور پر استعمال ہو رہی تھیں، تو کہیں وہ مکمل طور پر ویران پڑی تھیں۔ ان مشاہدات کو ایک چھوٹی بچی کی نظر سے کہانی کی صورت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
فلم میں اداکار عدنان شاہ ٹیپو بھی شامل ہیں، جن کے مطابق سرکاری سکولوں کو بند کرنے کے بجائے ان کا معیار بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا: ’سرکاری سکول بند نہیں ہونے چاہییں بلکہ ان کا معیار بہتر ہونا چاہیے۔‘
فلم میں رابعہ کا کردار ادا کرنے والی کم عمر اداکارہ نازعلیہ ارسلان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ فلم کے ذریعے تعلیم کے حق کے لیے آواز اٹھائی جائے۔
انہوں نے کہا: ’میں چاہتی ہوں کہ لوگ یہ فلم دیکھنے آئیں تاکہ ہم تعلیم کے حق میں آواز اٹھا سکیں کیونکہ تعلیم ہر ایک کا بنیادی حق ہے۔‘
فلم ’گھوسٹ سکول‘ کی پاکستانی سینیما گھروں میں نمائش کی اجازت ملنے کے بعد اس کے ناظرین تک پہنچنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ فلم کی مرکزی کم عمر اداکارہ کو امید ہے کہ یہ کہانی ان بچوں کے لیے بھی آواز بنے گی جو تعلیم سے محروم ہیں اور اپنے کلاس رومز تک پہنچنے کے منتظر ہیں۔