کراچی کی تنگ گلیوں سے فلمی پردے تک: تین ریپرز کی کہانی

دن میں ملازمت اور رات کو ریپ کرنے والے ریپرز کی زندگی پر بننے والی ڈاکیومنٹری فلم نے کراچی کے آزاد ریپ منظرنامے کو پردہ سکرین پر پہنچا دیا۔

کراچی کے علاقے گِزری کی گلیوں میں دن کے وقت تین نوجوان اپنے روزگار میں مصروف رہتے ہیں، لیکن رات ہوتے ہی یہی نوجوان مائیک تھام کر اپنے علاقے، زندگی، مشکلات اور خوابوں کو ریپ کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔

ایم سی آفو، ایم سی شو بی اور ایم سی ببلے کی زندگی پر بننے والی دستاویزی فلم ’ڈبلیو آر اے پی‘ (وی رئیلی آر پاکستان) اسی سفر کی کہانی ہے، جس کی ہدایت کاری صبا کریم خان نے کی ہے۔

فلم میں کراچی کے ریپ میوزک منظرنامے کے ساتھ ان تینوں نوجوانوں کی ذاتی زندگی، روزگار، گِزری سے تعلق اور موسیقی کے ذریعے آگے بڑھنے کی جدوجہد دکھائی گئی ہے۔

’گلی بوائے‘ سے گِزری تک

فلم کی ہدایت کار صبا کریم خان کے مطابق انہیں پاکستان کے ریپ منظرنامے پر ڈاکیومنٹری بنانے کا خیال انڈین فلم ’گلی بوائے‘ دیکھنے کے بعد آیا۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے بہت عرصہ پہلے گلی بوائے فلم دیکھی اور اس سے بہت متاثر ہوئی۔ میں نے سوچا کہ پاکستان میں بھی یقیناً اردو ریپ کا کوئی سین ہوگا، جہاں لوگ اپنی زبان میں موسیقی بنا رہے ہوں گے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’میرے ایک دوست کا بزنگ بیز نامی کیفے تھا۔ میں وہاں بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے اسے بتایا کہ میں ریپ پر ایک کہانی بنانا چاہتی ہوں۔ میں نے کہا کہ اگر تمہیں کبھی ایسے لوگوں کے بارے میں پتا چلے تو مجھے بتانا۔ اس نے کچن کا دروازہ کھٹکھٹایا اور وہاں سے تین نام سامنے آئے، ایم سی آفو، ایم سی ببلے اور ایم سی شو بی۔ انہوں نے وہیں میرے سامنے پرفارم کیا اور آج وہ فلم بن چکی ہے۔‘

دن میں کام، رات کو ریپ

فلم میں شامل تینوں نوجوانوں کے لیے ریپ صرف موسیقی نہیں بلکہ ان کی زندگی اور شناخت بیان کرنے کا ذریعہ ہے۔ ایم سی شو بی کے مطابق انہیں بچپن سے ریپ اور موسیقی کا شوق تھا۔

انہوں نے اپنی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بچپن میں بوہیمیا کے پنجابی گانے، عمران خان، 50 سینٹ اور ایمینیم کو سنتا تھا۔ مغربی اور دیسی دونوں طرح کی موسیقی سنتا تھا۔ اب ہمیں عملی طور پر ریپ کرتے ہوئے تقریباً چھ سال ہو گئے ہیں۔‘

حقیقی زندگی 

ایم سی شو بی کے مطابق ڈاکیومنٹری میں کوئی فرضی کہانی شامل نہیں کی گئی بلکہ ان کی حقیقی زندگی کو فلمایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس فلم میں کچھ تاریک حقیقت ہے، لیکن اس کے علاوہ یہ ہماری حقیقی زندگی ہے۔ یہ ہماری ڈاکیومنٹری ہے۔ ہماری روزمرہ کی زندگی، ہمارا کام اور ہماری جدوجہد، سب کچھ اس میں ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’یہ فلم ایک ریسٹورنٹ سے شروع ہوتی ہے جہاں میں اور میرے ساتھی کام کرتے تھے۔ وہیں سے ہماری کہانی شروع ہوئی۔‘

بیٹی کو مجھ پر فخر ہو

ایم سی آفو کی کہانی میں ان کی بیٹی کا ذکر بھی اہم ہے۔ ان کے لیے ریپ صرف موسیقی نہیں بلکہ اپنی بیٹی کے لیے کچھ ایسا کرنے کی خواہش بھی ہے جس پر وہ مستقبل میں فخر کر سکے۔

ایم سی آفو کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ کل کو میری بیٹی یہ کہے کہ میرے ابو نے زندگی میں کچھ نہیں کیا، بس گلیوں میں گھومتے رہے اور چھوٹی موٹی نوکریاں کرتے رہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اسے کچھ تو فخر ہو کہ زیادہ کچھ نہیں تو اس کے باپ نے زندگی میں کوئی بڑا کام کیا ہے۔‘

تیسرے ریپر ایم سی ببلے کے لیے گندھارا فلم فیسٹیول میں اپنی زندگی پر بننے والی فلم دیکھنا ایک خاص تجربہ تھا۔

انہوں نے کہا: ’آج ہماری ڈاکیومنٹری کی اسکریننگ تھی، بہت مزہ آیا اور بہت اچھی گئی۔ ہمیں کافی موٹیویشن ملی ہے۔ ہمارے ساتھ ہمارا پورا ہُڈ بھی تھا اور کافی لوگ آئے تھے، سب کو فلم بہت پسند آئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صرف ڈاکیومنٹری نہیں ہے۔ جب آپ اسے دیکھیں گے تو سمجھیں گے کہ یہ ہمارے ہُڈ، ہماری محنت اور ہماری جدوجہد پر بنی ہے۔ ہم کس طرح مشکلات کا سامنا کرکے آگے بڑھتے ہیں، یہ سب کچھ اس میں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فلم دیکھنے والے نوجوان بھی متاثر

گندھارا فلم فیسٹیول میں ڈاکیومنٹری دیکھنے والے نوجوان زیاد ابراھیم نے اسے کراچی کے ریپ منظرنامے کو سمجھنے کا موقع قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ ’یہ بہت اچھا کانسیپٹ ہے۔ ڈاکیومنٹری سے کافی کچھ سیکھنے کو مل سکتا ہے اور بہت سے لوگ اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ نئے لوگوں کو موقع دینا اور ان کے اوپر فلم بنانا بہت محنت کا کام ہے۔‘

ایک دوسری نوجوان عنایہ، جو خود ریپ موسیقی میں دلچسپی رکھتی ہیں، نے کہا کہ انہیں کراچی کے ریپ سین کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔

’ڈبلیو آر اے پی‘ کی سکریننگ گندھارا انڈیپنڈنٹ فلم فیسٹیول کے 2026 ایڈیشن میں کراچی کی نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) میں تین اکتوبر کو ہوئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم