سال کا اختتام قریب، فلمی ایوارڈز کی گیم آن ہے

ایوارڈز حاصل کرنا کسی فنکار کی صلاحیتوں یا غیرمعمولی کارکردگی کا ثبوت اور نہ جیتنا کسی اداکار کی صلاحیت کی نفی نہیں کیونکہ کئی ایسے اداکار ہیں جن کے دامن میں کوئی ایوارڈ نہیں لیکن ان کی صلاحیت اور فن ہر تخلیق میں اپنے عروج پر ہوتا ہے۔

بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان 10 مارچ 2025 کو جے پور میں انٹرنیشنل انڈین فلم اکیڈمی (آئیفا) ایوارڈز کی سلور جوبلی تقریب میں شرکت کے لیے گرین کارپٹ پر پہنچنے کے بعد تصویر بنوا رہے ہیں (منی شرما/ اے ایف پی)

بالی وڈ میں نومبر کے آتے ہی مختلف ایوارڈز کی نامزدگیوں پر کام شروع ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب سال کے آخری لمحات میں فلم سازوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی تخلیقات کو کرسمس کے موقع پر سینیما گھروں کی زینت بنائیں یا پھر اگر کوئی بڑی کاسٹ والی فلم سینیما گھر میں لگ رہی ہے تو اپنی تخلیق کے لیے  اگلے سال کا انتظار کریں۔

رواں سال ختم ہونے میں تقریباً آٹھ ہفتوں کا فاصلہ رہ گیا ہے تاہم سال 2026 کے جاتے جاتے دو بڑی فلموں کی نمائش متوقع ہے۔ ان میں ایک سنی دیول کی ’سوریا‘ ہے تو دوسری شاہ رخ خان کی ’کنگ‘ جو دسمبر میں پیش کی جاسکتی ہے۔ ان کے علاوہ جنوبی انڈیا سے ڈب فلمیں بھی ہیں۔ بہرحال اس وقت تو اب تک ریلیز ہونے والی فلموں اور ان سے جڑے شعبہ جات کی شخصیات کی کارکردگی کو جانچا جا رہا ہے جس کے بعد آنے والے ہفتوں میں ایوارڈ نامزدگیوں کے اعلانات شروع ہو جائیں گے۔

اس سال مقبولیت اور کمائی کے اعتبار سے گنتی کی فلمیں ہیں۔ ان میں دھرویندر دی ریوینج، مرزا پور ، بارڈر2، درشیم 3 اور دھمال 4 نمایاں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیشتر فلمیں کسی نہ کسی فلم کا سیکوئل ہی ہیں۔ منصفین سر جوڑ کر بیٹھنے والے ہیں کہ سال 2026 میں کس اداکار یا فلم یا گیت یا گلوکار کی نامزدگی کی جائے۔

ایک زمانے میں بالی وڈ میں سب سے معتبر اور قابل فخر ایوارڈ کے لیے ’فلم فئیر ایوارڈ‘ کو خاص مقام حاصل رہا ہے۔ 1954 سے جاری ہونے والے ان ایوارڈز کی اہمیت کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں انڈیا کے قومی ایوارڈ پر فوقیت حاصل رہی۔ گلوکار ہو یا اداکار یا ہدایت کار ان کی دلی آرزو رہتی کہ ان کے ڈرائینگ روم میں فلم فئیر ایوارڈ سج جائے۔ اسی ایوارڈ سے جڑے ریکارڈز ہوتے جو کسی بھی فلمی شخصیت کے لیے اعزاز کی بات بن جاتے۔

سارا سال اداکار، گلوکار اور موسیقار فلم فئیر ایوارڈ کے حصول کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں استعمال کرتے اور جب ان میں سے کسی کا نام سٹیج سے پکارا جاتا تو انہیں یہ ہی احساس ہوتا کہ جیسے محنت کا پھل مل گیا۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا بھی نہ ہوگا کہ فلم فئیر ایوارڈ کو بالی وڈ میں بالکل وہی حیثیت حاصل رہی ہے جو ہالی وڈ میں آسکر کو ہے۔ اسی کے ساتھ ’سکرین ایوارڈز‘ بھی ہوتے تھے۔ عموماً جن اداکاروں کو فلم فئیر ایوارڈ نہیں ملتا وہ ’سکرین ایوارڈز‘ سے امید لگائے بیٹھے ہوتے اور کئی کی تسلی تشفی بھی ہوجاتی۔

حالیہ برسوں میں تو ایوارڈز کا منگل بازار لگا ہے۔ مختلف ناموں پر ایوارڈ تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ان ہی میں زی سنے ایوارڈ اور آئی فا ایوارڈز نمایاں ہیں جن کا میلہ انڈیا کے علاوہ دنیا بھر کے مہنگے شہروں میں سجایا جاتا ہے۔ فلمی شخصیات کی ایک فوج انڈیا سے ان ایوارڈز میں شرکت کے لیے جاتی ہے۔ ایوارڈز کی بہتات کی وجہ سے اب یہ عالم ہے کہ جن کے ہاتھ میں ٹرافی سجتی ہے انہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ خوش ہونے کی اداکاری کر رہے ہیں۔

بات کی جائے فلم فئیر ایوارڈز کی تو کہا جاتا ہے کہ نامزدگیوں کے بعد وہ بہترین کی تلاش کے لیے عوامی ووٹنگ اور پھر جیوری کا سہارہ لیتے ہیں اور اسی کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ایوارڈ کس کے ہاتھوں میں جانا چاہیے۔ لیکن یہ کیسی عجیب بات ہے کہ سب سے قابل اعتماد ایوارڈ کا درجہ پانے والے یہ ایوارڈ بھی تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ آنجہانی رشی کپور نے ایک انٹرویو میں یہ کہہ کر ہلچل مچا دی تھی کہ انہوں نے فلم ’بوبی‘ کے لیے بہترین اداکار کا ایوارڈ خریدا تھا۔ ان کے اس بیان پر فلمی ایوارڈ کی ساکھ پر سوال بھی کھڑے ہوئے لیکن ’فلم فئیر ایوارڈز‘ نے اس الزام کی تردید کی۔

اسی طرح آنجہانی اداکار پران نے 1973 میں اس وقت بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ وصول کرنے سے معذرت کرلی جب بہترین موسیقار کے لیے شنکر جے کشن کو چنا گیا۔ پران کا ماننا تھا کہ ایوارڈ کے اصل حق دار فلم ’پاکیزہ‘ کے موسیقار غلام محمد تھے جنہیں نظر انداز کرنے پر انہوں نے احتجاجاً اپنا ایوارڈ نہیں لیا۔

کچھ ایسا ہی معاملہ عامر خان کے ساتھ بھی ہوا۔ 90 کی دہائی میں انہوں نے بیٹا، جو جیتا وہ سکندر اور پھر رنگیلا میں غیر معمولی اداکاری دکھائی لیکن ایوارڈز کسی اور اداکار کو جب ملے تو 1995 میں انہوں نے دل برداشتہ ہو کر  ناصرف فلم فئیر ایوارڈ بلکہ ہر ایوارڈ کا غیر اعلانیہ بائیکاٹ کر دیا۔ یہ سلسلہ ایک طویل عرصے تک جاری رہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

متنازعہ اداکارہ تصور کی جانے والی کنگنا رناوٹ تو 2014 سے فلم فئیر ایوارڈ سے خفا ہیں اور پھر 2021 میں انہوں نے جنوبی بھارت کی سیاست دان جے للیتا کی زندگی پر بننے والی فلم ’تھالیوی‘ میں مرکزی کردار ادا کیا اور فلم فئیر ایوارڈ نے انہیں بہترین اداکارہ کے لیے نامزد کیا لیکن کنگنا رناوٹ نے یہ الزام لگایا کہ انتظامیہ نے ایوارڈ دینے کی یہ شرط رکھی کہ وہ تقریب میں پرفارم کریں۔ فلم فئیر ایوارڈ نے اس الزام کی ناصرف تردید کی بلکہ غلط بیانی پر کنگنا رناوٹ کا نام بھی فہرست سے نکال دیا۔ اس پر کنگنا رناوٹ نے عدالتی کارروائی کی بھی دھمکی دی۔

سال 2024 میں جب رنبیر کپور کو فلم ’اینیمل‘ میں بہترین اداکار کا فلم فئیر ایوارڈ ملا تو ناقدین نے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی۔ ان کے مطابق یہ تخلیق پرتشدد اور ماردھاڑ پر مبنی تھی اور ہیرو کو ایوارڈ دے کر درحقیقت اس سوچ کو فروغ اور ترغیب دی جارہی ہے کہ تشدد میں کوئی برائی نہیں۔

خیر یہ تو غیر سرکاری ایوارڈز ہیں۔ انڈیا کے تو قومی ایوارڈز پر اعتراض کیے جاچکے ہیں۔ سال 2001 میں جب روینا ٹنڈن کو فلم ’دامن‘ کے لیے بہترین اداکارہ کا قومی ایوارڈ ملا تو اس پر خاصی لے دے ہوئی۔ مبصرین کا خیال تھا کہ اس سال روینا سے بہترین اداکاری دوسری فنکاراؤں نے کی تھی۔ اعتراض تو یہ بھی ہوا کہ روینا کے انکل میک موہن (شعلے فلم کے سامبا) ایوارڈ جیوری میں شامل ہیں تو دال میں کچھ کالا ہے۔

پھر 2005 میں جب سیف علی خان کو فلم ’ہم تم‘ پر بہترین اداکار کا ایوارڈ دیا گیا تو یہ بھی سوال اٹھایا گیا کہ شاہ رخ خان کی فلم ’سیودیس‘ اور امیتابھ بچن فلم ’بلیک‘ میں غیر معمولی اداکاری پر کیا سیف علی خان کی اوٹ پٹانگ اداکاری بھاری پڑ گئی؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال سیف علی خان کی والدہ اور اداکارہ شرمیلا ٹیگور سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن کی سربراہ تھیں، جسے بعض مبصرین نے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ کے تناظر میں دیکھا۔

بالی وڈ کے فلمی ایوارڈز کے متعلق ایک دلچسپ سوال یہ بھی گردش کرتا ہے کہ کیا واقعی بہترین اداکاری دکھانے پر اداکار، ایوارڈ کا حق دار ٹھہرتا ہے یا پھر پس پردہ اس کے لیے لابنگ اور تعلقات کا استعمال کیا جاتا ہے؟ یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ سبھی ایوارڈز کو ایک ہی پیمانے پر جانچا نہیں جاسکتا۔ فلم فئیر ایوارڈز کی ساکھ اب بھی بہترین ہے اسی طرح کچھ ایوارڈز کی شفافیت اور معیار پر شک کے بادل ضرور چھائے رہتے ہیں۔

یہاں یہ نکتہ بھی ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ ایوارڈز حاصل کرنا کسی فنکار کی صلاحیتوں یا غیرمعمولی کارکردگی کا ثبوت اور نہ جیتنا کسی اداکار کی صلاحیت کی نفی نہیں کیونکہ کئی ایسے اداکار ہیں جن کے دامن میں کوئی ایوارڈ نہیں لیکن ان کی صلاحیت اور فن ہر تخلیق میں اپنے عروج پر ہوتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم