پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے ہفتے کو افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حالیہ بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کے لیے ’ریڈ لائن‘ ہے اور وہ اپنے شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی ہے جس کی روک تھام میں طالبان حکومت کی ناکامی دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
اس سے قبل افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم نہیں کرنا چاہتا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کے ردعمل میں پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ افغان طالبان کے ترجمان کا حالیہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ کابل کی قیادت پاکستان کے ساتھ بگڑتے تعلقات کی بنیادی وجہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
وزارت کے مطابق طالبان قیادت افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی روکنے میں اپنی ناکامی کو نظرانداز کرتے ہوئے اسلام آباد کی پالیسیوں کو دوطرفہ کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔
پاکستانی وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے پار دہشت گردوں کی ایسی محفوظ پناہ گاہیں برداشت نہیں کرے گا جن سے اس کی سلامتی متاثر ہوتی ہو اور نہ ہی اپنے شہریوں کو افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہنے دے گا۔
Ministry of Information and Broadcasting 31 October 2026 The Afghan Taliban spokesperson’s latest tweet exposes the regime’s deeply misguided approach and unwillingness to confront the root cause of deteriorating relations with Pakistan. The Taliban leadership continues to blame Islamabad’s policies while conveniently ignoring the single most important issue poisoning bilateral relations: its persistent failure to address terrorism emanating from Afghan soil. Pakistan’s position is unequivocal: *terrorism is a red line and the security of its citizens is non-negotiable.* The Afghan Taliban regime must understand that Pakistan will not tolerate terrorist sanctuaries across its borders that impact its security nor allow its people to remain targets of terrorism emanating from Afghanistan. Pakistan reserves the right to take all necessary measures, in accordance with international law, to eliminate threats to its national security, wherever they originate. Kabul must recognise that the responsibility for addressing these threats rests squarely with the Afghan Taliban regime. Pakistan’s resolve to protect its people must never be mistaken for weakness. The Taliban regime’s persistent refusal to address terrorism remains the principal obstacle to normal relations. Shifting blame, making hollow assurances and questioning Pakistan’s policies will neither resolve the crisis nor absolve Kabul of its responsibilities. The Afghan Taliban leadership must understand that *Pakistan’s security will not be held hostage to _Afghan Taliban’s_ inaction, evasions or misplaced priorities.*
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) October 31, 2026
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے چاہے یہ خطرات کہیں سے بھی پیدا ہوں۔
وزارت کے مطابق کابل کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ان خطرات سے نمٹنے کی ذمہ داری افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے اور پاکستان کے اپنے شہریوں کے تحفظ کے عزم کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ الزام تراشی، کھوکھلی یقین دہانیوں اور پاکستان کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے سے نہ بحران حل ہوگا اور نہ ہی کابل اپنی ذمہ داریوں سے بری ہو سکے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق افغان طالبان کی قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی سلامتی کو طالبان حکومت کی بے عملی، ٹال مٹول یا غلط ترجیحات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کیا کہا تھا؟
حریت ریڈیو پشتو کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد نے ریڈیو آزادی سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان نے کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی بھرپور کوششیں کیں، تاہم ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
د اسلامي امارت ویاند: پاکستان له افغانستان سره د خبرو له لارې د کړکېچ حل نه غواړي د اسلامي امارت ویاند مولوي ذبیحالله مجاهد وايي، افغانستان د کابل او اسلاماباد ترمنځ د کړکېچ د حل لپاره د خبرو اترو له لارې وروستۍ هڅې کړې دي، خو دغو هڅو تر اوسه کومه پایله نه ده لرلې. ښاغلي مجاهد له حریت راډیو سره په خبرو کې د کابل او اسلاماباد ترمنځ د پیغامونو تبادله تأیید کړې او ویلي یې دي، چې د منځګړو هېوادونو او د اسلامي امارت د چارواکو هڅې هم د دواړو هېوادونو ترمنځ د کړکېچونو په کمولو کې بریالۍ شوې نه دي. د نوموړي په وینا، د پاکستان پر ناسمو سیاستونو ټینګار د خبرو اترو له لارې د کړکېچونو د حل مخه نیولې او اسلاماباد له کابل سره د اختلافاتو د سولهییز حل لپاره اړین چمتووالی نه لري. د اسلامي امارت ویاند یو ځل بیا ټینګار کړی، چې افغانستان د دغو ستونزو رامنځته کوونکی نه دی او لا هم د خبرو اترو او مذاکراتو له لارې د اختلافاتو پر حل باور لري. یوټیوب لېنک: https://t.co/MzZFbEYjH2
— Hurriyat Radio Pashto (@HurriyatPa) October 31, 2026
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ثالثی کرنے والے ممالک اور افغان طالبان حکومت کے عہدیداروں کی کوششیں بھی کشیدگی کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی پالیسیوں پر اصرار مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل میں رکاوٹ ہے اور اسلام آباد پرامن حل کے لیے ضروری آمادگی نہیں رکھتا۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ان مسائل کا ذمہ دار نہیں اور وہ اب بھی بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین رکھتا ہے۔