امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے شپنگ کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث پاکستان سے چارے کی برآمدات غیر منافع بخش ہو گئی ہیں۔
اس صورت حال کے پیش نظر، کسانوں نے اپنا بویا ہوا چارہ اکھاڑ کر گندم جیسی دیگر فصلیں بونا شروع کر دی ہیں۔
لکشمن داس نے پاکستان کے جنوبی ضلع میرپورخاص میں اپنی پانچ ایکڑ زرعی زمین پر برسوں تک روڈز گھاس اگائی۔
تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے کی وجہ سے شپنگ کے اخراجات بڑھنے سے برآمدات تیزی سے غیر منافع بخش ہو رہی ہیں، جس کے باعث 40 سالہ کسان نے اپنے چارے کی پوری فصل اکھاڑ دی ہے اور اب وہ گندم کے لیے زمین تیار کر رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران جنگ کی وجہ سے اس تنازعے سے پیدا ہونے والے خطرات سے بچنے کے لیے بحری جہازوں کی انشورنس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔
نتیجے کے طور پر، قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور برآمدات کم منافع بخش ہو گئی ہیں اور داس جیسے چارہ اگانے والے کسانوں کو اس جنگ کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
سندھ کے گاؤں جھربی میں اپنے کھیتوں کو پانی دیتے ہوئے انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’گھاس کی کوئی قیمت نہیں مل رہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے روڈز گھاس اکھاڑ دی۔‘
’اب میں اپنی پانچ ایکڑ زمین پر گندم کاشت کر رہا ہوں۔‘
ادارہ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق، اس تبدیلی سے ایک ایسے ابھرتے ہوئے غیر روایتی برآمدی شعبے کو خطرہ لاحق ہے جو جانوروں کی خوراک سے پاکستان کو سالانہ 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ کما کر دیتا ہے۔
کیوں کہ جنوب میں کسان برآمدی چارے کی جگہ دیگر فصلیں لگا رہے ہیں، اس لیے پاکستان کو زرمبادلہ اور ایک ایسی مارکیٹ سے ہاتھ دھونے کا خطرہ ہے جسے بنانے میں اس نے برسوں لگائے ہیں۔
بروکریج فرم ٹاپ لائن سکیورٹیز کی تحقیق کے مطابق، جولائی سے ستمبر 2026 میں پاکستان کے چارے کی برآمدات 49 فیصد کم ہو کر ایک کروڑ 55 لاکھ ڈالر رہ گئیں، جو پچھلی سہ ماہی میں 3 کروڑ ایک لاکھ ڈالر تھیں۔
لکشمی داس نے کہا ’جنگ سے پہلے ہمیں صحیح قیمت مل جاتی تھی۔ اب، جنگ کے بعد ہمیں کم قیمت مل رہی ہے۔'
جانوروں کی خوراک کے ماہر اور سندھ میں 700 ایکڑ سے زیادہ رقبے پر کاشت کرنے والے چارے کے برآمد کنندہ جی آر جے ایگرو پاکستان کے مینیجر عرفان محمود کا کہنا تھا کہ کسانوں کو اب تنازعے سے پہلے ملنے والی قیمتوں کے مقابلے میں تقریباً آدھی قیمت مل رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’اس بار اوسط ریٹ 27 ہزار سے 30 ہزار روپے فی ٹن ہے۔
’گذشتہ سال، ہماری اوسط 56 ہزار روپے فی ٹن تھی۔‘
پاکستانی برآمد کنندگان اور دبئی کی مارکیٹ کو چارہ فراہم کرنے والی کمپنی جی آر جے ایگرو پہلے ہی تقریباً 150 ایکڑ رقبے سے روڈز گھاس اکھاڑ چکی ہے۔
عرفان محمود نے بتایا کہ کمپنی تقریباً 100 ایکڑ رقبے پر گندم اور مزید 40 سے 50 ایکڑ رقبے پر گنا کاشت کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جی آر جے ایگرو برآمدی حالات بہتر ہونے کی صورت کے لیے روڈز گھاس کے لیے کچھ اراضی برقرار رکھ رہی ہے۔
شپنگ کے اخراجات میں اضافہ
پاکستان ہے ایسوسی ایشن (پی ایچ اے) کے چیئرمین اور جی آر جے ایگرو پاکستان کے چیف ایگزیکٹیو سرفراز علی جونیجو نے کہا کہ فروری میں جنگ چھڑنے سے پہلے ایک کنٹینر کی مال برداری کے اخراجات دو لاکھ سے اڑھائی لاکھ روپے تھے، جو اب بڑھ کر 15 لاکھ سے 16 لاکھ روپے تک پہنچ گئے ہیں، جن میں انشورنس بھی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا ’سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ جنگ کی وجہ سے ہمارے شپنگ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔‘
جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق، فروری سے 20 فٹ کے کنٹینرز کے لیے پاکستان سے خلیج کی اہم بندرگاہوں بشمول متحدہ عرب امارات میں جبل علی اور ابوظہبی، سعودی عرب میں دمام اور ریاض، عمان میں مسقط اور کویت تک مال برداری کے نرخ 320 گنا اضافے کے ساتھ 8 ہزار ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
40 فٹ کے کنٹینرز کے نرخ 220 گنا اضافے کے ساتھ 11 ہزار ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ اس تعطل کی وجہ سے کچھ برآمد کنندگان کو اپنی کھیپ پاکستان سے روانہ ہونے سے پہلے ہی اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سرفراز علی جونیجو نے بتایا کہ فرانسیسی شپنگ لائن سی ایم اے سی جی ایم کا ایک بحری جہاز، جو برآمدی سامان کے لیے خالی کنٹینر لا رہا تھا، جنگ زدہ علاقے میں حملے کا نشانہ بنا جس کے بعد ان کی کمپنی کے 50 کنٹینر بندرگاہ پر پھنس گئے۔ انہوں نے بحری جہاز کا نام یا اس پر حملے کا وقت نہیں بتایا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اس کے لیے اضافی ڈیمرج کا سامنا ہے'، انہوں نے مزید کہا کہ جی آر جے ایگرو کو ڈیمرج چارجز کی مد میں 30 لاکھ روپے (10,824 ڈالر) تک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’کیا وہ اسے جاری رکھیں گے؟‘
پی ایچ اے کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار ایکڑ رقبے پر چارہ کاشت کیا جاتا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ سندھ میں ہے۔
سرفراز علی جونیجو کا کہنا تھا ’اب تک جو گھاس اکھاڑی گئی ہے، وہ بہت کم ہے۔ تقریباً پانچ فیصد حصہ اکھاڑا گیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مارچ تک شپنگ کے حالات بہتر نہ ہوئے تو صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے، کیوں کہ اس وقت کسان اپنی اگلی فصل بونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
سرفراز علی جونیجو کا مزید کہنا تھا کہ ’سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جن کسانوں نے کمائی نہیں کی، وہ اسے جاری رکھیں گے یا نہیں۔‘
سندھ کے محکمہ زراعت کے حکام کسانوں کو درپیش مشکلات کا اعتراف کرتے ہیں۔
میرپورخاص میں محکمہ زراعت کی توسیع کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمران علی کمبھر نے کہا ’وہ کسان جو چارہ، یعنی روڈز گھاس اگاتے ہیں، بہت مشکل میں ہیں۔ برآمدات کے لیے ان کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔‘
عمران علی کمبھر نے بتایا کہ صوبائی حکومت ربیع کے موسم میں ان چھوٹے کسانوں کو مالی امداد فراہم کر رہی ہے جن کے پاس ایک سے 25 ایکڑ تک اراضی ہے، یہ موسم عام طور پر اکتوبر سے اپریل تک چلتا ہے۔
انہوں نے کہا ’حکومت سندھ کسانوں کو چار ہزار روپے فی ایکڑ سبسڈی دے رہی ہے۔ ہم انہیں گندم کی فصل کے لیے سبسڈی دے رہے ہیں۔‘
ٹاپ لائن سکیورٹیز میں ریسرچ کے سربراہ شنکر تلریجا کا کہنا تھا کہ چارے کی برآمدات کا مستقبل غیر یقینی ہے کیوں کہ بیرون ملک اس کی مانگ مشرق وسطیٰ کے خطے میں مرکوز ہے۔
شنکر تلریجا نے کہا ’جو کہ اس وقت تیل کی بلند قیمتوں کی وجہ سے غیر یقینی ماحول کی زد میں ہے اور ظاہر ہے کہ مشرق وسطیٰ کی معیشت بھی سکڑ رہی ہے۔‘
دوسری جانب، لکشمی داس کو امید ہے کہ گندم اور دیگر موسمی فصلیں جو وہ بونا چاہ رہے ہیں، ان سے اس آمدنی کا کچھ حصہ واپس مل جائے گا جو انہیں برآمدات میں کمی کی وجہ سے گنوانا پڑا ہے۔
انہوں نے کہا ’ہم دیگر چھوٹی فصلیں بھی بوئیں گے تاکہ ہم کچھ منافع کما سکیں۔‘