پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کو کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے فوج کو ’محتاط امید‘ ہے۔
رواں ہفتے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے دورہ تہران کے بعد یہ پاکستان فوج کے ترجمان کا یہ پہلا انٹرویو ہے۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، جو ایران اور امریکہ کے درمیان اب آٹھ ماہ سے جاری جنگ میں کشیدگی کم کرنے کی پاکستانی کوششوں میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں، رواں ماہ دو مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں۔ ان کا تازہ ترین دورہ پیر کو سعودی اور ترک حکام کے ہمراہ تھا۔
جمعے کو روئٹرز سے انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ان دوروں کے مثبت اشارہ ہونے سے متعلق سوال پر کہا: ’’فیلڈ مارشل دو مرتبہ تہران کیوں جائیں گے اگر اس کے پیچھے کوئی مثبت پیش رفت نہ ہو؟ تو جی ہاں، یقیناً ایسا ہی ہے۔‘
معاہدے میں نئے ارکان کی شمولیت پر پابندی نہیں
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر جنرل نے مزید کہا: ’ہم ہمیشہ یہی الفاظ استعمال کریں گے کہ ہم محتاط طور پر پرامید ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ اب بھی کچھ ’طاقتور عناصر‘ موجود ہیں جو اس (امن مذاکرات کے) عمل میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اور نہیں چاہتے کہ پیش رفت ہو، کیونکہ ان کے خیال میں تنازع ان کے مفاد میں ہے۔ تاہم انہوں نے ان عناصر کے نام نہیں بتائے۔
انہوں نے تہران میں ہونے والی بات چیت یا امریکہ کی اس دورے کی حمایت کے حوالے سے سوالوں کا جواب دینے سے گریز کیا۔
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن پیر کو تہران کے دورے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ تھے۔
ترکی اور سعودی عرب نے سات اگست کو پاکستان کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت طے پایا تھا کہ کسی ایک ملک پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ایران جنگ نے خطے میں اتحادوں کی نئی صف بندی کی ہے اور مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازع کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
اگرچہ تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت کے ذریعے ممکنہ حملوں کی روک تھام اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانا ہے، تاہم تجزیہ کار اس معاہدے کے ارتقا کو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے اثرات سے نمٹنے کی علاقائی طاقتوں کی کوششوں سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
تہران میں پیر کو ہونے والی بات چیت کے بعد ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ علاقائی سلامتی کو بیرونی مداخلت کے بغیر خطے کے ممالک کو یقینی بنانا چاہیے۔
اس سوال پر کہ آیا ایران بھی اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’معاہدے کی عبارت نئے ارکان کی شمولیت پر پابندی عائد نہیں کرتی۔‘
انہوں نے کہا: ’اجتماعی دفاعی صلاحیت کے ذریعے ممکنہ حملوں کی روک تھام اور علاقائی امن کے حوالے سے مشترکہ وژن رکھنے والا کوئی بھی ملک کیوں شامل نہیں ہو سکتا؟ سب کو خوش آمدید کہا جائے گا۔‘
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس بارے میں فیصلہ تینوں بنیادی فریقوں کی سیاسی قیادت نے کرنا ہے۔
اس سوال پر کہ آیا اس معاہدے کے تحت مزید پاکستانی فوجی سعودی عرب بھیجے جا رہے ہیں، پاکستان فوج کے ترجمان نے کہا کہ اس کا انحصار صورت حال اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے فیصلے پر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور مقدس مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم یمن کے تنازع کا حصہ نہیں ہیں، جو یمن کے اندرونی فریقوں کے درمیان تنازع ہے۔‘
داخلی صورت حال
ملک کی اندرونی صورت حال کے حوالے سے وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت میں قائم خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت معطل کر دی تھی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو حراست میں لے لیا تھا۔
حکومت نے صوبائی انتظامیہ پر عسکریت پسندی سے نمٹنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا تھا۔ پی ٹی آئی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کی حکومت نے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں حصہ لیا تھا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس اقدام کو احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کا بہانہ قرار دیا تھا۔
اس سوال پر کہ آیا اب صوبے میں فوج کی قیادت میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی جائیں گی، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ فوج انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں اس انداز میں نہیں کرتی۔
انہوں نے کہا: ’ہماری انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں پر مبنی ہیں۔ ان کارروائیوں میں آزادانہ طور پر کارروائی کرنے کی رفتار اور دائرہ مزید بڑھایا جائے گا۔‘