ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل میں فیصلہ سنایا۔ عدالت نے تین مختلف دفعات کے تحت دونوں وکلا کو سزائیں سنائیں۔

پانچ دسمبر 2025 کو اسلام آباد کی ایک عدالت میں سماعت کے دوران انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری (دائیں) اور ان کے شوہر اور وکیل ہادی علی چٹھہ (بائیں) کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جمعرات کو بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں وکلا ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 10، 10 سال قید اور دو، دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل میں فیصلہ سنایا۔ عدالت نے تین مختلف دفعات کے تحت دونوں وکلا کو سزائیں سنائیں۔

عدالتی حکم کے مطابق دہشت گردی کی دفعہ کے تحت دونوں کو 10، 10  سال قید اور ایک، ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی، جبکہ دفعہ 353 کے تحت دو، دو سال قید اور 50، 50  ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

اسی طرح دفعہ 186 کے تحت ایک، ایک سال قید اور 50، 50  ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

تینوں دفعات کے تحت مجموعی سزا 13  سال قید بنتی ہے، تاہم عدالت نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382  کا فائدہ دیتے ہوئے سزائیں بیک وقت کاٹنے کا حکم دیا، جس کے نتیجے میں دونوں کو 10، 10  سال قید بھگتنا ہوگی۔.

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فیصلے سے قبل عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر سات اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ دونوں وکلا کی جانب سے صحت جرم سے انکار کے بعد باقاعدہ ٹرائل شروع ہوا۔

مقدمے میں عدالت نے اسٹیٹ کونسل عاطف محمود کو مقرر کیا تھا، جنہوں نے استغاثہ کے گواہان پر جرح کی۔ استغاثہ کی جانب سے مجموعی طور پر سات گواہ پیش کیے گئے۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف یہ مقدمہ 25 اکتوبر 2024  کو درج کیا گیا تھا اور دونوں اس کیس میں ضمانت پر تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان