اسلام آباد میں قائم میڈیا واچ ڈاگ فریڈم نیٹ ورک کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025-26 کے دوران پاکستان صحافت اور صحافیوں کے لیے بدستور ایک مشکل اور خطرناک ملک رہا۔ اگرچہ گذشتہ برس کے مقابلے میں میڈیا کے خلاف دستاویزی خلاف ورزیوں کی تعداد میں کمی آئی، تاہم ملک بھر میں ہر ماہ اوسطاً تقریباً 10 واقعات، ان کی سنگینی اور وسیع جغرافیائی پھیلاؤ ظاہر کرتے ہیں کہ کم واقعات کا مطلب صحافیوں کے لیے زیادہ تحفظ نہیں۔
فریڈم نیٹ ورک کی سالانہ ’امپیونٹی رپورٹ 2026‘، جس کا عنوان ’تشدد سے قانونی محاذ آرائی تک: صحافیوں کے لیے قانونی عمل بطور سزا‘ ہے، انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ (آئی ایم ایس) کی تکنیکی معاونت سے تیار کی گئی ہے۔ عدنان رحمت اور اقبال خٹک کی تحریر کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کے خلاف جرائم میں استثنیٰ کا مسئلہ اب محض تشدد کے ذمہ داروں کو سزا نہ دینے تک محدود نہیں رہا بلکہ ’جبر کے ایک وسیع تر نظام‘ میں تبدیل ہو چکا ہے۔
یہ رپورٹ صحافیوں کے خلاف جرائم میں استثنیٰ کے خاتمے کے عالمی دن سے قبل جاری کی گئی۔ یہ دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 2 نومبر کو منایا جاتا ہے۔
فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا کہ صحافیوں کے خلاف جرائم میں استثنیٰ کے خاتمے کے لیے ملک میں دو قوانین موجود ہونے کے باوجود صورت حال تشویش ناک ہے اور ان قوانین کے تحت قائم دونوں سیفٹی کمیشنز کے ذمہ داروں کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 سے اگست 2026 تک صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کے خلاف ریکارڈ کیے گئے واقعات میں کام سے متعلق ایک قتل، قتل کی تین کوششیں، قتل یا نقصان پہنچانے کی 18 دھمکیاں، تشدد کے 11 واقعات، 13 قانونی کارروائیاں اور قانونی کارروائی کی 32 دھمکیاں شامل ہیں۔
صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ 49 واقعات ریکارڈ کیے گئے جو مجموعی تعداد کے نصف سے کچھ زیادہ بنتے ہیں۔ اس کے بعد خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور بلوچستان کا نمبر آتا ہے۔ ڈیجیٹل اور آزاد صحافی سب سے زیادہ نشانہ بنے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً دو تہائی واقعات میں متاثرہ صحافیوں یا ان کے اہل خانہ نے سرکاری حکام اور عہدے داروں کو مبینہ طور پر کارروائی کا محرک قرار دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان میں صحافت کے خلاف جرائم اور ان پر سزا کی صورت حال کا جائزہ لینے والی رپورٹ میں متنازع پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے اختلافی آواز رکھنے والے صحافیوں کے خلاف پیکا کا بڑھتا ہوا استعمال ملک میں آن لائن صحافت کے خلاف ’قانونی محاصرے‘ کا مرکزی عنصر بن گیا ہے۔
رپورٹ میں صحافیوں کے خلاف پیکا کے تحت نمائندہ مقدمات کے تفصیلی جائزے میں ایک بار بار سامنے آنے والے طریقہ کار کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اس کے مطابق میڈیا سے وابستہ افراد کے خلاف مبینہ ہتک عزت، غلط معلومات، ہراسانی یا شہرت کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات کو بار بار سائبر کرائم کے طریقہ کار کے تحت لگایا جاتا ہے، حتیٰ کہ ایسے معاملات میں بھی جہاں صحافتی رپورٹنگ کا تعلق سرکاری اخراجات، بدعنوانی یا سرکاری عہدے داروں کے طرز عمل سے ہو۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج یا جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی طلبی کے نوٹس، آلات کی جانچ پڑتال، سفر کرنے کی مجبوری، قانونی اخراجات، حراست، بار بار عدالتی پیشیاں اور ساکھ کو پہنچنے والا نقصان اس پورے عمل کو بذات خود ’سزا‘ میں تبدیل کر دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایسے مقدمات میں صحافیوں کو ملنے والا ریلیف بھی عموماً ضمانت یا طریقہ کار سے متعلق تحفظ تک محدود رہتا ہے، بجائے اس کے کہ انہیں حتمی طور پر الزامات سے بری الذمہ قرار دیا جائے۔
رپورٹ میں ان صحافیوں اور دیگر میڈیا کارکنوں کے لیے رہنما اصول بھی شامل کیے گئے ہیں جو پیکا کے تحت مقدمات یا کارروائیوں کا سامنا کریں، تاکہ قانونی محاذ آرائی کے ممکنہ نقصان دہ اثرات کو کم کیا جا سکے۔
فریڈم نیٹ ورک نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی نظام کو بھی ناکافی قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاق اور سندھ میں دو اعلیٰ سطح کے سیفٹی کمیشنز موجود ہونے کے باوجود میڈیا کارکنوں کے لیے ادارہ جاتی تحفظ ناکافی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ وفاقی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کا طریقہ کار عملی طور پر غیر فعال ہے، جب کہ سندھ کمیشن نسبتاً زیادہ متحرک اور نمایاں نظر آتا ہے لیکن اس کی رسائی محدود ہے اور کراچی سے باہر صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے اس کے اثرات بھی محدود رہے ہیں۔
رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے اداروں کو عملی طور پر فعال اور ضروری وسائل فراہم کیے جائیں، پیکا میں صحافت اور عوامی مفاد میں اظہار رائے کے لیے واضح تحفظ شامل کیا جائے اور نوٹس کے اجرا، گرفتاریوں اور ڈیجیٹل آلات ضبط کرنے کے معاملات میں سخت حفاظتی ضوابط متعارف کرائے جائیں۔
اس کے علاوہ صحافیوں پر حملوں اور ان کے خلاف مقدمات کی آزادانہ نگرانی، فوری قانونی معاونت، نفسیاتی اور ڈیجیٹل سکیورٹی سپورٹ، میڈیا اداروں کی زیادہ ذمہ داری اور تشدد کے مرتکب افراد کے ساتھ ساتھ قانونی عمل کے غلط استعمال میں ملوث سرکاری عہدے داروں کے قابل عمل احتساب کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان میں صحافیوں کے خلاف جرائم میں استثنیٰ کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2000 سے اب تک فرائض کی انجام دہی کے دوران 170 سے زیادہ صحافیوں کے قتل کے واقعات دستاویزی شکل میں سامنے آ چکے ہیں، تاہم ان میں سے صرف تین صحافیوں کے قاتلوں کو سزا دی جا سکی جبکہ باقی مقدمات میں متاثرین کو انصاف نہیں مل سکا۔