خیبرپختونخوا میں معدنیات کی تلاش اور نکالنے کے لیے لائسنسز کے اجرا پر ایک عسکری ادارے ’ایف ڈبلیو او‘ کے کردار اور صوبائی آمدن کے حوالے سے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر معدنیات عارف احمدزئی کے درمیان لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔
خواجہ آصف نے ایکس پر 17 اکتوبر کو ایک بیان میں کہا کہ صوبے میں معدنیات کی تلاش اور انہیں نکالنے کے لیے لائسنسز کی تعداد میں نمایاں اضافہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں ہوا۔
جبکہ سابق صوبائی وزیر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ لائسنسز کی تعداد بڑھنے کی بڑی وجہ پالیسی میں تبدیلی تھی، جس کا مقصد زیادہ افراد کو کاروبار اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا تھا۔
خیبرپختونخوا معدنی وسائل کے اعتبار سے پاکستان کے اہم صوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں سنگِ مرمر، گرینائٹ، چونا پتھر، کرومائٹ، جپسم، صابن پتھر اور مختلف قیمتی و نیم قیمتی پتھر پائے جاتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنسز کی حقیقت (سرکاری اعداد و شمار کے مطابق): قیام پاکستان سے 2010 تک خیبر پختونخوا میں معدنیات کے صرف 482 لائسنس/ٹائٹلز جاری ہوئے تھے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کے دور میں یہ تعداد تیزی سے بڑھی۔ 2020 تک 1,762، فروری 2024 تک 3,962، اور موجودہ وقت میں کل 4,917 مائننگ لائسنسز جاری ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 4,133 آباد اضلاع میں اور 784 ضم شدہ اضلاع میں ہیں اس پورے عرصے میں عسکری ادارے FWO کو صرف ایک لائسنس ملا، جو 2015 میں شمالی وزیرستان کے بویا علاقے میں دیا گیا تھا، جہاں FWO تعمیراتی اور بحالی کے کاموں میں مصروف رہا اس وقت 500 سے زائد نئی درخواستیں زیر غور ہیں، جن میں سے کوئی بھی عسکری ادارے کی جانب سے نہیں ہے مختصر یہ کہ معدنیات کے لائسنسز کی بڑی تعداد پی ٹی آئی دورِ حکومت میں جاری ہوئی، جبکہ عسکری اداروں کا اس شعبے میں براہِ راست حصہ سرے سے تھا ہی نہیں.
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 17, 2026
یہ وسائل تعمیرات، سیمنٹ سازی، صنعتی پیداوار، پتھر کی تراش خراش اور برآمدات کے شعبوں میں اہم معاشی امکانات رکھتے ہیں۔
تاہم ان وسائل سے صوبے کو حقیقی فائدہ پہنچانے کے لیے شفاف لائسنسنگ، مؤثر نگرانی، مناسب رائلٹی کی وصولی اور مقامی آبادی کو روزگار کی فراہمی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ قیامِ پاکستان سے 2010 تک خیبرپختونخوا میں معدنیات کے صرف 482 لائسنسز یا ٹائٹلز جاری کیے گئے تھے۔
’پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کے دور میں یہ تعداد تیزی سے بڑھی۔ 2020 تک 1,762، فروری 2024 تک 3,962، اور موجودہ وقت میں کل 4,917 مائننگ لائسنسز جاری ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 4,133 آباد اضلاع میں اور 784 ضم شدہ اضلاع میں ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیر دفاع نے مزید دعویٰ کیا کہ معدنیات کے شعبے میں عسکری ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو صرف ایک لائسنس 2015 میں شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں دیا گیا تھا، جہاں ادارہ تعمیراتی اور بحالی کے کاموں میں مصروف رہا۔
ان کے مطابق اس وقت 500 سے زائد نئی درخواستیں زیرِ غور ہیں، جن میں کوئی درخواست عسکری ادارے کی جانب سے نہیں ہے۔
خواجہ آصف نے ان اعداد و شمار کی بنیاد پر مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں معدنیات کے لائسنسز کی بڑی تعداد پی ٹی آئی کے دور حکومت میں جاری ہوئی۔
دوسری جانب سابق وزیر معدنیات خیبرپختونخوا عارف احمدزئی نے خواجہ آصف کے مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لائسنسز کی تعداد میں اضافے کو صرف سیاسی حکومت کی کارکردگی یا کسی مخصوص ادارے کے کردار سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ اس اضافے کی ایک اہم وجہ لائسنسنگ پالیسی میں تبدیلی بھی تھی۔
عارف احمدزئی کے مطابق 2017 تک تقریباً 1,200 افراد کو لائسنسز جاری کیے گئے تھے، جبکہ پہلے ایک ٹھیکیدار یا کمپنی کو 80 تک لیزز رکھنے کی اجازت دی جا سکتی تھی۔
سابقہ وزیر معدنیات خیبرپختونخوا @IArifAhmadzai کا خواجہ آصف کو تفصیلی جواب!! 2017 تک تقریباً 1200 کی تعداد میں لوگوں کو لائسنز جاری ہوئی تھے، جسمیں ایک ٹھیکدار/کمپنی تقریباً 80 لیزیز دیے جا سکتے تھے لیکن ہم نے وہ 80 سے کم کرکے ایک ٹھیکدار/کمپنی کو 5 لیزیز کی حد مقرر کردی تاکہ زیادہ لوگ مستفید ہو اور زیادہ لوگوں کو روزگار مل سکے۔ اسی وجہ سے لائسنز کی تعداد 6، 7 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے 4 بڑے لائسنز رکھے جسمیں ایک FWO کو ملی ہے باقی 3 حالی ہیں۔ پہلے معدنیات سے صوبے کو 70 کروڑ روپے کی آمدنی پیدا ہوتی تھی اب وہ 14 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ FW0 جس کے پاس تقریباً 40 تک کی لیزیز ہیں 10% رائلٹی خیبرپختونخوا کو نہیں دے رہی، جو کہ تقریباً 35 سے 40 ارب روپے کی بنتی ہے لیکن یہ صرف 14 کروڑ روپے ادا کر رہے ہیں۔
— PTI (@PTIofficial) October 18, 2026
ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے یہ حد کم کر کے پانچ لیزز مقرر کی، تاکہ زیادہ افراد کو معدنیات کے کاروبار میں حصہ لینے اور روزگار حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔
سابق صوبائی وزیر نے دعویٰ کیا کہ اسی پالیسی کی وجہ سے لائسنسز کی تعداد بڑھ کر چھ سے سات ہزار تک پہنچ گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’صوبائی حکومت کے پاس چار بڑے لائسنسز تھے، جن میں سے ایک ایف ڈبلیو او کو دیا گیا جبکہ باقی تین خالی ہیں۔‘
عارف احمدزئی نے معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اس شعبے سے صوبے کو تقریباً 70 کروڑ روپے حاصل ہوتے تھے، جبکہ اب یہ آمدن 14 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے ایف ڈبلیو او پر رائلٹی کی ادائیگی کے حوالے سے بھی الزامات عائد کیے اور دعویٰ کیا کہ ادارے کے پاس تقریباً 40 لیزز ہیں، لیکن وہ صوبے کو مقررہ 10 فیصد رائلٹی ادا نہیں کر رہا۔
ان کے بقول مبینہ واجبات 35 سے 40 ارب روپے تک بنتے ہیں، جبکہ ادارے کی جانب سے صرف 14 کروڑ روپے ادا کیے گئے ہیں۔
ان الزامات اور مالی اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
معدنیات کے لائسنسز پر یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو امن و امان اور ’دہشت گردی‘ کے خلاف ناکافی اقدامات پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا، جس کی بعد ازاں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظوری بھی حاصل کی گئی۔
وفاقی حکومت نے اس اقدام کو سکیورٹی کی صورت حال سے جوڑا، جبکہ پی ٹی آئی نے اسے سیاسی اقدام قرار دیتے ہوئے عدالت میں چیلنج کیا ہے۔