پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان نے جمعرات کو انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تائیوان کے لیے فضائی حدود بند نہیں کی گئی ہے۔
مقامی اور بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق بیجنگ کی ’ون چائنا پالیسی‘ کی حمایت میں پاکستان تائیوان کی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔
ان خبروں کو اس لیے تقویت ملی کیوں کہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بلومبرگ نیوز کو بتایا تھا کہ ’ایوی ایشن ڈویژن ون چائنہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اور صرف مین لینڈ چین کو اس کی اجازت ہے۔
بلومبرگ کے مطابق خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پاکستان کے اوپر سے پرواز کے لیے صرف چینی ایئرلائنز کو اجازت دی ہے۔‘
تاہم جب اس پر ردعمل کے لیے پاکستانی دفتر خارجہ سے رابطہ کیا تو ترجمان نے کہا کہ اس معاملے سے متعلق ’غلط خبریں پھیل گئیں۔‘
جبکہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان نے انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار قرۃ العین شیرازی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک فیک نیوز تھی جو ہر طرف رپورٹ ہوتی رہی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں نہیں معلوم کے منسٹر صاحب (خواجہ آصف‘ نے یہ بات کہی بھی ہے یا نہیں۔‘
یہ خبریں ایسے وقت سامنے آئیں جب ایوی ایشن مبصرین نے نوٹ کیا کہ اختتام ہفتہ سے یورپ پہنچنے کے لیے کچھ تائیوانی پروازیں مکمل طور پر روس کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے طویل راستے اختیار کر رہی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فلائٹ ریڈار 24 کے ڈیٹا کے مطابق، 24 اکتوبر کو تائپے سے روم جانے والی چائنہ ایئرلائنز کی ایک پرواز نے انڈیا، پاکستان اور ترکمانستان کے اپنے گذشتہ راستے سے گریز کرتے ہوئے روسی فضائی حدود سے سفر کیا۔
اس کی بجائے ان کی ایشیا اور یورپ کی کم از کم ایک درجن پروازوں نے روس کے اوپر سے روٹ لیا ہے۔
پاکستان 1951 میں عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والے اولین ممالک میں سے ایک تھا اور اس کے بعد سے اس نے بیجنگ کے ساتھ قریبی سیاسی، اقتصادی اور سٹریٹجک تعلقات برقرار رکھے ہیں، اور اپنے تعلقات کو ’سدا بہار‘ شراکت داری قرار دیا ہے۔
امریکہ اور کئی دیگر ممالک کے برعکس جو تائیوان کے ساتھ غیر سرکاری تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں، اسلام آباد کے تائپے کے ساتھ محدود روابط ہیں اور وہ تائیوان کی آزادی کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔
ون چائنا پالیسی سے مراد چین اور تائیوان کے درمیان خودمختاری اور سیاسی حیثیت کے تنازع سے متعلق ایک سفارتی اصول ہے۔ پاکستان اس پالیسی کی حمایت کرتا ہے اور تائیوان کو عوامی جمہوریہ چین کا حصہ قرار دیتا ہے۔
پاکستان کا دفتر خارجہ ماضی میں بھی کئی مواقع پر واضح کر چکا ہے کہ اس معاملے پر پاکستان کی پالیسی مستقل ہے۔
تاہم، دو کروڑ 30 لاکھ کروڑ افراد پر مشتمل ایک چھوٹے سے جزیرے اور جمہوری طور پر منتخب تائیوان نے بیجنگ کے خودمختاری کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے اور اسے عملی طور پر آزادی حاصل ہے، چاہے زیادہ تر ممالک اسے باقاعدہ طور پر تسلیم نہ کرتے ہوں۔