مکہ دفاعی معاہدہ خطے میں پائیدار امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے: پاکستان

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران رواں سال اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اسلام آباد میں 28 اکتوبر، 2026 کو پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار مکہ دفاعی اتحاد کے سیکریٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود سے ملاقات کر رہے ہیں(دفتر خارجہ پاکستان)

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کو خطے میں پائیدار امن کے فروغ کے لیے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے (MJDA) کے اہم کردار پر زور دیا ہے۔

انہوں نے یہ بیان ایسے وقت دیا جب پاکستان مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران رواں سال اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ رواں سال فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا جس کے جواب میں تہران نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

 حالیہ عرصے میں یہ تنازع سعودی عرب تک بھی پھیل گیا ہے جہاں ایران کے حمایت یافتہ حوثی مشرق وسطیٰ میں شہری تنصیبات پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔

مکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

پاکستان نے حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے مملکت کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ کی ذمہ داریاں بھی انجام دینے والے اسحاق ڈار نے بدھ کو مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود سے ملاقات کی۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق: ’نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کو اجاگر کیا اور خطے میں پائیدار امن کے فروغ میں مکہ دفاعی اتحاد کے اہم کردار پر زور دیا۔‘

تزویراتی امور میں مہارت رکھنے والے تجربہ کار فوجی افسر نعمان محمود کو اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا اور تین سال کی مدت کے لیے اس عہدے پر تعینات کیا گیا۔

 پاکستان بارہا واضح کر چکا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان ترکی، قطر، سعودی عرب اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں پائیدار امن کے قیام کی کوششیں کر رہا ہے۔

 پیر کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ دفاعی حکام نے تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کی جس میں امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس ملاقات میں سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، ترکی کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے شرکت کی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے قطری ثالثوں کی جانب سے پیش کردہ ایک نئے مجوزہ معاہدے پر غور کر رہا ہے اور توقع ہے کہ رواں ہفتے کے اختتام تک اس پر جواب دے گا۔

روئٹرز نے ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ یہ تجویز اتوار کو تہران کے سامنے پیش کی گئی تھی۔

یہ پیش رفت ان خدشات کے دوران سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو رواں ہفتے ایران پر دوبارہ حملے شروع کر سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان