اسلام آباد کی نئی ماڈل جیل میں کیا سہولیات ہیں اور قیدی کب منتقل ہوں گے؟

سپرنٹنڈنٹ علی اکبر نے کہا کہ جیل کے نظام میں قیدیوں کی انسانی عزت اور بلاامتیاز سلوک کو اہمیت دی جائے گی۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تقریباً 16 سے 17 سال سے زیرِ تعمیر ماڈل جیل کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا جہاں ابتدائی طور پر صرف عام درجے کے قیدیوں کے لیے بیرکیں تیار کی گئی ہیں۔

اسلام آباد ماڈل جیل کے سپرنٹنڈنٹ علی اکبر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے افتتاح کی تاریخ ملنے کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے تقریباً 1,500 سے 2,000 قیدیوں کی منتقلی شروع کی جا سکے گی۔

وفاقی دارالحکومت میں اپنی جیل نہ ہونے کے باعث اسلام آباد سے متعلق مقدمات کے قیدیوں کو طویل عرصے سے اڈیالہ جیل میں رکھا جاتا رہا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

 نئی ماڈل جیل کے فعال ہونے سے ان قیدیوں کو اسلام آباد میں ہی رکھنے کا انتظام ہوگا تاہم 90 ایکڑ پر مشتمل منصوبے کا بڑا حصہ اور بہتر کلاس کی بیرکیں ابھی تعمیر ہونا باقی ہیں۔

پہلے مرحلے میں منتقل ہونے والے قیدی

اسلام آباد ماڈل جیل کے سپرنٹنڈنٹ علی اکبر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جیل کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور افتتاح کے بعد قیدیوں کی منتقلی شروع کرنے کی تیاری ہے۔

علی اکبر نے بتایا کہ فی الحال تمام بیرکیں عام درجے کے قیدیوں کے لیے تیار کی گئی ہیں جبکہ بہتر کلاس کے قیدیوں کے لیے سہولیات دوسرے مرحلے میں شامل کی جائیں گی۔

سپرنٹنڈنٹ علی اکبر کے مطابق اسلام آباد ماڈل جیل کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جیل میں قیدیوں کے لیے ہسپتال، کچن اور رہائش سمیت بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ جیل کے نظام میں قیدیوں کی انسانی عزت اور بلاامتیاز سلوک کو اہمیت دی جائے گی۔

90 ایکڑ کے منصوبے کا کتنا حصہ مکمل ہوا؟

علی اکبر کے مطابق اسلام آباد ماڈل جیل کا مجموعی رقبہ 90 ایکڑ ہے، تاہم پہلے مرحلے میں منصوبے کو محدود کرکے تقریباً ایک تہائی حصے پر تعمیراتی کام مکمل کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ باقی حصے کی تکمیل کے لیے منصوبہ بندی جاری ہے اور اس مقصد کے لیے پی سی ون تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

سپرنٹنڈنٹ کے مطابق اگر باقی تعمیراتی کام بھی اسی رفتار سے جاری رہا تو اگلے سال تک دوسرے مرحلے کی تکمیل کی امید ہے۔

علی اکبر نے بتایا کہ جیل کا منصوبہ گزشتہ 16 سے 17 سال سے جاری تھا اور اس کی پی سی ون کے مطابق مجموعی لاگت تقریباً سات ارب 30 کروڑ روپے ہے۔

ان کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی ذاتی دلچسپی اور مسلسل نگرانی سے منصوبے کی تکمیل ممکن ہوئی۔

دوسری جانب محسن نقوی نے جیل کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ماڈل جیل ان منصوبوں میں شامل ہے جو تقریباً ایک دہائی سے زیر تعمیر تھے۔

ان کے مطابق 2024 میں منصوبے کا صرف 40 سے 50 فیصد کام مکمل ہوا تھا، تاہم اب تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔

محسن نقوی نے منصوبے کی تکمیل کا کریڈٹ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف آئندہ چند روز میں جیل کا افتتاح کریں گے، جس کے بعد قیدیوں کی منتقلی شروع ہو جائے گی۔

وزیر داخلہ نے بھی پہلے مرحلے میں اڈیالہ جیل سے 1,500 قیدیوں کی منتقلی کا ذکر کیا۔

اسلام آباد کے قیدی اب تک کہاں رکھے جاتے تھے؟

اسلام آباد میں اپنی جیل نہ ہونے کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت سے متعلق مقدمات کے قیدیوں کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں رکھا جاتا رہا ہے۔

نئی ماڈل جیل کے افتتاح اور فعال ہونے کے بعد ان قیدیوں کو وفاقی دارالحکومت میں ہی رکھنے کا انتظام ہوگا۔

تاہم پہلے مرحلے میں صرف عام درجے کے قیدیوں کے لیے بیرکیں تیار کی گئی ہیں۔

 بہتر کلاس کی بیرکوں اور دیگر سہولیات کی تعمیر دوسرے مرحلے میں مکمل کرنے کا منصوبہ ہے، جس کے بعد جیل کی مجموعی گنجائش اور دستیاب سہولیات کی مکمل صورت حال واضح ہو سکے گی۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان