ایران خلیجی ممالک کو دھمکیاں دینا بند کرے: قطر

قطری وزارت خارجہ کے مطابق سفارتی کوششوں میں پیش رفت کے لیے ایران کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے عملی اقدامات ضروری ہیں۔

قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری اس تصویر میں قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی 27 اگست، 2026 کو تہران میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کر رہے ہیں (قطری وزارت خارجہ / اے ایف پی)

قطر نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ خلیجی عرب ممالک کے خلاف دھمکی آمیز بیانات اور اقدامات بند کرے اور آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھولے تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری ثالثی کی کوششوں کو کامیاب بنایا جا سکے۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے منگل کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ سفارتی کوششوں میں پیش رفت کے لیے ایران کی جانب سے مثبت ارادوں کا اظہار اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے عملی اقدامات ضروری ہیں۔

قطر، پاکستان کے ساتھ مل کر واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات خلیجی ممالک، بحری تجارت اور عالمی توانائی منڈیوں تک پھیل چکے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کے مستقبل نے عالمی معیشت کے لیے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔

سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کی تہران میں اہم ملاقاتیں

علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اعلیٰ حکام نے پیر (26 اکتوبر) کو تہران میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کی جانب سے مارشل عاصم منیر اور ترکی کی طرف سے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن نے کی۔

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اس دورے کا مقصد کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور سفارتی حل کو فروغ دینے کے لیے رابطوں کے راستے کھلے رکھنا تھا تاکہ فوجی تصادم دوبارہ شروع ہونے سے روکا جا سکے۔

ملاقاتوں میں علاقائی امن و سلامتی، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور یمن کے حوثی گروپ کے سعودی عرب پر حملوں سے متعلق امور زیرِ بحث آئے۔

چاروں ممالک نے خطے میں امن اور سلامتی کے لیے تعاون اور بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب پاکستان اور سعودی عرب، ترکی کے ساتھ مل کر علاقائی سلامتی کے لیے تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان ممالک کی سفارتی سرگرمیوں کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار نہ کرے۔

آبنائے ہرمز اہم کیوں؟

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملانے والا ایک اہم اور تنگ بحری راستہ ہے۔

جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا کی مجموعی تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ اس راستے سے گزرتا تھا۔

اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی بڑی رکاوٹ سے خام تیل، قدرتی گیس اور دیگر توانائی مصنوعات کی عالمی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔

اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں، جہاز رانی کے اخراجات، انشورنس پریمیم اور درآمدی ممالک کی معیشتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز کے قریب ٹینکروں پر حملوں اور بحری آمدورفت میں رکاوٹوں نے ان خدشات کو مزید بڑھایا ہے۔

روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت گذشتہ ہفتے 117 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی، جو اپریل کے بعد بلند ترین سطح تھی۔

منگل (27 اکتوبر) کو قیمت میں معمولی اضافہ دیکھا گیا اور یہ 116.24 ڈالر فی بیرل کے قریب رہی۔

توانائی کی ترسیل میں خلل صرف تیل پیدا کرنے والے ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایشیا اور یورپ کے ان ممالک کو بھی متاثر کر سکتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ سے توانائی درآمد کرتے ہیں۔

سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کی تہران میں ملاقاتوں اور قطر کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقائی ممالک جنگ کے مزید پھیلاؤ اور بحری تجارت میں طویل رکاوٹوں سے بچنے کے لیے سفارتی راستے تلاش کر رہے ہیں۔

تاہم مذاکرات کی کامیابی کا انحصار صرف رابطوں کے جاری رہنے پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر بھی ہوگا، جن میں خلیجی ممالک کی سلامتی سے متعلق خدشات دور کرنا، بحری آمدورفت بحال کرنا اور امریکہ و ایران کے درمیان قابلِ قبول شرائط پر اتفاق شامل ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا