جنوبی پنجاب کے شہر کوٹ ادو میں پولیس کے مطابق تین سالہ بچی سے مبینہ ریپ کرنے والا ملزم ناخن کاٹنے اور کپڑے تبدیل کر کے شناخت چھپانے کے باوجود چند ہی گھنٹوں میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پاکستان میں خواتین کے علاوہ بچوں سے جنسی زیادتی اور استحصال کے واقعات مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ اگرچہ پنجاب حکومت نے جنسی زیادتی کے سنگین واقعات میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے سی سی ڈی فورس بھی بنائی ہے۔
بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ساحل کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے 3600 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جو 2024 کے مقابلے میں آٹھ فیصد زیادہ ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ روزانہ اوسطاً نو سے زائد بچوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ 58 کیسز ایسے تھے جہاں زیادتی کے بعد بچوں کو قتل کر دیا گیا۔ 53 فیصد متاثرین لڑکیاں تھیں جبکہ 47 فیصد لڑکے اور 11 سے 15 سال کی عمر کے بچے سب سے زیادہ خطرے میں تھے۔ پنجاب میں ملک بھر کے مقابلے میں 73 فیصد کیسز رپورٹ ہوئے۔
تین سالہ بچی سے مبینہ ریپ کا واقعہ کیسے پیش آیا؟
متاثرہ بچی کے والد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’میرے دو بیٹے اور ایک تین سالہ بیٹی ہے۔ محنت مزدوری کر کے انہیں پالتا ہوں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم تھانہ سٹی سرور شہید کی حدود میں رہتے ہیں۔ اتوار کو دن میں میری تین سالہ بیٹی ساتھ والے گھر سے اپنے بھائی کو بلانے گئی لیکن کافی دیر بعد بھی واپس نہ آئی تو ہم نے باہر نکل کر تلاش شروع کر دی۔
’کچھ فاصلے پر ویران جگہ پہنچے تو ہمیں بچی کی چیخیں سنائی دیں۔ ہم بھاگ کر اس طرف گئے تو دیکھا ملزم لکھ میر تین سالہ بچی سے جنسی زیادتی کر رہا تھا۔ جب ہم نے شور مچایا تو وہ اپنا سبزی والا لوڈر رکشہ لے کر فرار ہو گیا۔‘
بچی کے والد کا کہنا ہے کہ ’ہم نے بچی کے پاس جا کر اسے اٹھایا تو وہ زخمی تھی اور خون نکل رہا تھا۔ ملزم نے ناخنوں سے جسم نوچ رکھا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’ہم نے کپڑے پہنائے اور بچی کو فوری ہسپتال لے کر گئے جہاں اسے اب بھی طبی امداد دی جا رہی ہے۔ ہم نے پولیس کو اطلاع دی پولیس فوری موقع پر پہنچ گئی۔ ہم نے ایک گھر کے باہر سی سی ٹی وی کیمروں میں دیکھا ملزم کو پہچان لیا۔ وہ گرڈ سٹیشن کے قریب رہتا تھا۔‘
بچی کے والد کا مزید کہنا تھاج کہ ’جب ہم پولیس کے ساتھ اس کے گھر پہنچے تو وہاں نہیں تھا۔ لہذا قریبی سڑک پر رکشے سمیت موجود تھا۔ لیکن اس نے شناخت چھپانے اور جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے ناخن کاٹ کر گھر سے کپڑے تبدیل کر لیے تھے۔ لیکن ہم نے ویڈیو میں اس کی شکل اور جوتوں کی نشاندہی سے پہچان لیا۔ پولیس نے اسے گرفتار کر کے تھانے منتقل کردیا۔‘
پولیس کارروائی
تھانہ سٹی سرور شہید کے تفتیشی افسر محمد اسلم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پولیس کو جیسے ہی اطلاع ملی ہم نے فوری سی سی ٹی وی فوٹیج اور بچی کے ورثا کی نشاندہی سے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
The accused was tracked using CCTV footage and arrested within 2 hours. Look at his age and look at the heinous act he has committed. Heartbreaking. https://t.co/iCseVg3OP9
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) October 26, 2026
’ملزم نے انگلی کے ناخنوں سے بچی کے حساس اعضا بری طرح زخمی کر رکھے تھے۔ لہذا بچی کا میڈیکل کرایا جس میں بچی سے جنسی زیادتی ثابت ہوئی ہے۔‘
پولیس افسر کے مطابق ملزم کی عمر 20 سال کے قریب ہے۔ اس کا عدالت سے ریمانڈ لے کر سخت سزا کے لیے ثبوت بھی عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔
’ابھی تک ملزم کو سی سی ڈی کے حوالے کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تاہم جنسی زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ ضرور درج کر لیا گیا ہے۔‘
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی گذشتہ روز اپنی ایکس پوسٹ پر ملزم کی تصویر کے ساتھ لکھا کہ ’ملزم کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے واقعے کے دو گھنٹے بعد ہی گرفتار کر لیا گیا۔ اس کی عمر دیکھیں پھر اس کے گھناؤنے جرم پر نظر ڈالیں یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔‘