تین ریپ مقدمات کا سامنا کرنے والے برطانوی اداکار کے ساتھ کھڑی خاتون کون ہیں؟

جب لورا گیلیکر اپنے شوہر اور برطانوی کامیڈین رسل برانڈ کے ساتھ عدالت پہنچتے ہوئے۔ مصنف کیٹی روزنسکی نے اس خاتون کی زندگی پر ایک نظر ڈالی ہے، جو تنازعات کے دوران کامیڈین کے ساتھ کھڑی ہیں۔

برطانوی کامیڈین و اداکار رسل برانڈ اور ان کی اہلیہ لورا گیلیکر 12 اکتوبر 2026 کو جنوبی لندن کے ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے آغاز پر عدالت سے روانہ ہو رہے ہیں (بروک مچل/ اے ایف پی)

جب برطانوی کامیڈین، اداکار، مصنف، براڈکاسٹر اور پوڈکاسٹ میزبان رسل برانڈ مبینہ گینگ ریپ کے مقدمے کے پہلے روز ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ پہنچنے کے لیے سیاہ شیشوں والی ایک وین سے باہر نکلے تو ان کے ساتھ دو افراد موجود تھے۔

ان میں سے ایک مضبوط جسامت کا سکیورٹی گارڈ تھا جبکہ دوسری ان کی بیوی لورا تھیں، جو تقریباً ایک دہائی سے ان کے ساتھ ہیں اور عدالت جاتے ہوئے ان کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے تھیں۔

دونوں میاں بیوی نے کیمروں کی چمک سے بچنے کے لیے دھوپ کے چشمے پہن رکھے تھے اور عدالت کے باہر موجود صحافیوں کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس وقت کامیڈین کو تین ریپ، تین جنسی حملوں اور ایک غیر اخلاقی حملے کے الزامات کا سامنا ہے۔

یہ الزامات چھ خواتین کی جانب سے لگائے گئے ہیں اور ان کا تعلق 1999 سے 2009 تک کے ایک عشرے پر محیط ہے۔ برانڈ نے تمام الزامات سے انکار کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔

اگرچہ لورا نے گذشتہ تین برسوں کا زیادہ تر وقت عوامی نظروں سے دور گزارا ہے، بلکہ یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ وہ برطانیہ سے بھی دور رہی ہیں کیونکہ یہ جوڑا امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں ماگا (MAGA) حامی علاقوں میں منتقل ہو چکا ہے، تاہم گذشتہ چند ماہ 38 سالہ مصنفہ اور مصورہ کے لیے ایک بڑی تبدیلی کا دور ثابت ہوئے ہیں۔

ایک بات تو یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ کے معروف گالف کھلاڑی برنارڈ گیلیکر کی سب سے چھوٹی بیٹی اب اپنے شوہر کی طرح نئی مذہبی وابستگی اختیار کرنے والی مسیحی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے شوہر رسل برانڈ کو بھی 2024 میں ٹی وی مہم جو بیئر گرلز کی مدد سے دریائے ٹیمز میں بیپٹائز کیا گیا تھا۔

گذشتہ کئی مہینوں سے لورا شوہر رسل کے ساتھ مشترکہ طور پر اپنے گھر میں ریکارڈ ہونے والے ہفتہ وار پوڈکاسٹ ’سنڈے سروس‘ پیش کر رہی ہیں۔

ان اقساط میں دونوں اپنے مسیحی مذہب پر گفتگو کرتے ہیں، بائبل کی کہانیاں بیان کرتے ہیں اور دعائیں شیئر کرتے ہیں۔ یوٹیوب پر جاری کیے گئے کلپس دو حصوں والی سکرین میں دکھائے جاتے ہیں، جہاں ایک طرف عہد نامہ قدیم کی کہانیوں پر مبنی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ عجیب و غریب ویڈیوز چلتی ہیں جبکہ دوسری طرف جوڑے کی گفتگو کی ویڈیو ہوتی ہے۔

امریکہ نواز اور ماگا کے حامی برانڈ خاندان کا مذہبی تبلیغ کی جانب یہ رخ لورا کی انگلینڈ کے مضافات کے کاؤنٹی ماحول میں پرورش سے بہت مختلف محسوس ہوتا ہے۔ وہ وینٹ ورتھ سٹیٹ میں پلی بڑھی ہیں، جو ورجینیا واٹر، سرے میں واقع گالف کی ایک محفوظ اور گیٹڈ رہائشی بستی ہے۔ وہاں ان کی پڑوسیوں میں شہزادیاں یوجینی اور بیٹریس بھی شامل تھیں، جب سارہ فرگوسن شہزادہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر سے علیحدگی کے بعد وہاں منتقل ہوئی تھیں۔

لورا اور ان کی بڑی بہن 50 سالہ براڈکاسٹر اور ماڈل کرسٹی گیلیکر اور بھائی جیمی کے درمیان عمر کا نمایاں فرق تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے، جیسا کہ انہوں نے 2022 میں دی ٹیلی گراف کو بتایا: ’بہت زیادہ وقت تنہا گزارا۔‘

انہوں نے کہا: ’میرے والدین مجھے تخلیقی سرگرمیوں کے لیے باہر وقت گزارنے کی کافی آزادی دیتے تھے، جیسے مٹی کے کیک بنانا اور پھولوں کی خوشبو تیار کرنا۔ میرے لیے وہ جادو کی ایک دنیا تھی۔‘

18 برس کی عمر میں وہ آرٹ سکول چلی گئیں۔ تقریباً اسی زمانے میں ان کی پہلی ملاقات رسل سے ہوئی، جو اس وقت 31 سال کے تھے اور لورا کی بڑی بہن کے ساتھ ایک ہی ایجنٹ رکھتے تھے، تاہم ان کا تعلق زیادہ عرصے قائم نہ رہ سکا کیونکہ کامیڈین اور میزبان رسل برانڈ شہرت کی بلندیوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔

چینل 4 کے پروگراموں کی میزبانی سے لے کر ہالی وڈ فلموں، جیسے ’فورگیٹنگ سارہ مارشل‘ میں کردار حاصل کرنے تک، کئی برس بعد اس تعلق کو یاد کرتے ہوئے لورا نے اعتراف کیا: ’میں واقعی محبت میں گرفتار ہو گئی تھی۔ میں نے اس سے قبل کبھی ایسی محبت کا تجربہ نہیں کیا تھا، جس نے بعد میں ہماری شادی میں ایک اچھی کہانی کو جنم دیا۔‘

رسل نے بعد میں 2010 میں گلوکارہ کیٹی پیری سے شادی کی، تاہم صرف 14 ماہ بعد دونوں نے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ بعد ازاں گلوکارہ نے دعویٰ کیا کہ رسل نے ان سے شادی ختم کرنے کی اطلاع ایک ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے دی تھی۔ دوسری جانب لورا نے ہوٹل کی صنعت میں کام شروع کر دیا، لیکن 2015 میں ایک اتفاقی ملاقات نے دونوں کو دوبارہ قریب لا کھڑا کیا۔

لورا نے 2020 میں فیشن میگرزین گرازیا کو بتایا کہ وہ ایک بریک اپ کے بعد شدید شکستگی کا شکار تھیں اور ’میرے سابق ساتھی نے اسی دن ہمارا فلیٹ چھوڑا تھا۔‘ ایک دوست انہیں مشرقی لندن کی نہر کے کنارے چہل قدمی کے لیے لے گئی اور پھر ’جیسے ہی ہم پیدل راستے پر پہنچے، رسل وہاں کھڑے تھے، گویا انہوں نے یہ سب پہلے سے ترتیب دے رکھا ہو۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لورا کے مطابق اس مرتبہ رسل اس شخص سے ’بالکل مختلف‘ تھے جسے وہ 2000 کی دہائی میں جانتی تھیں۔ ’ہم دونوں نے فوری طور پر محسوس کر لیا تھا کہ یہ تعلق سنجیدہ ہونے والا ہے۔‘ دو سال تک روایتی انداز میں تعلق نبھانے کے بعد دونوں نے ہینلے آن ٹیمز، آکسفورڈ شائر کے قریب شادی کر لی۔ اس تقریب میں جوناتھن راس، نویل گیلاگر اور ڈیوڈ بیڈیل سمیت متعدد معروف شخصیات شریک ہوئیں۔

اس سے تقریباً نو ماہ پہلے ان کے ہاں پہلی اولاد، بیٹی میبل پیدا ہوئی تھی۔ دوسری بیٹی پیگی 2018 میں پیدا ہوئی جبکہ بیٹا ہرب 2023 میں دنیا میں آیا۔ انٹرویوز میں رسل اکثر اپنے دریا کنارے واقع گھاس پھوس کی چھت والے کاٹیج میں خاندانی زندگی کی دیہی اور پُرسکون تصویر پیش کرتے تھے، جہاں ان کے خاندان کے ساتھ مرغیاں، سور اور بلیاں بھی رہتی تھیں۔

تاہم یہ سمجھنے کے لیے زیادہ غور کرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ بچوں کی دیکھ بھال کا زیادہ تر بوجھ بظاہر لورا ہی اٹھاتی تھیں۔ 2019 میں دی سنڈے ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رسل نے کہا تھا کہ وہ بچوں کے ڈائپر تبدیل کرنے میں ’اتنے ماہر نہیں‘ ہیں، اور یہاں تک انکشاف کیا کہ انہوں نے کبھی مسلسل 24 گھنٹے اپنے بچوں کی اکیلے دیکھ بھال نہیں کی۔

انہوں نے کہا: ’لورا یہ سب کچھ کرتی ہیں۔ میں اس معاملے کے لیے سنجیدہ ہوں، اس سے محبت کرتا ہوں، لیکن پھر بھی جب یہ کیفیت آتی ہے تو میں سوچتا ہوں: ’اوہ خدایا، یہ واقعی بہت مشکل اور انتہائی تھکا دینے والا کام ہے۔‘‘

ان بیانات پر تنقید ہوئی، جس کے بعد ان کی سالی کرسٹی نے مداخلت کرتے ہوئے ان تبصروں کو ’سرسری نوعیت کا‘ قرار دیا اور رسل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ بچوں کی پرورش میں ’بہت عملی کردار‘ ادا کرتے ہیں۔

2020 میں گرازیا میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں، جو ان کی کتاب The Joy Journal کی تشہیر کے سلسلے میں تھا، لورا نے بھی اسی نوعیت کا مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا: ’ہم واقعی ایک دوسرے کے ساتھ بہت لطف اندوز ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار ایسا لگ سکتا ہے کہ میں کسی بالغ بچے کی دیکھ بھال کر رہی ہوں، لیکن رسل کو وہی کام کرنا پسند ہیں جو مجھے پسند ہیں۔‘

2023 میں ان کے یہ شوق ایک ہو گئے جب انہوں نے کمیونٹی کے نام سے شراب سے پاک فلاح و بہبود کا ایک فیسٹیول شروع کیا، جس میں مراقبہ، سانس کی مشقیں، برف کے غسل، قدرتی پانی میں تیراکی اور رسل کی تقاریر سمیت مختلف سرگرمیاں شامل تھیں۔

اسی سال لورا نے، جو اس سے قبل اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں تصویری خاکے اور خاندانی زندگی کی جھلکیاں شیئر کرتی تھیں، اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا۔ انٹرویوز بھی بند ہو گئے اور اس کے بعد سے انہوں نے کوئی نئی کتاب شائع نہیں کی۔

2024 میں یہ خاندان ممکنہ طور پر اس مقصد سے کہ برطانیہ میں میڈیا کی شدید توجہ سے دور رہ سکیں، فلوریڈا کے علاقے سانتا روزا بیچ منتقل ہو گیا۔

اطلاعات کے مطابق ان کا تقریباً 10 لاکھ ڈالر مالیت کا بنگلہ ایسے علاقے میں واقع ہے جسے ’جنوب کے ہیمپٹن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ امریکہ منتقل ہونے کے بعد رسل، جو کبھی دی نیو سٹیٹس مین کے سرورق پر نظر آتے تھے اور 2017 کے انتخابات میں جیریمی کوربن کی حمایت کرتے تھے، دائیں بازو کے نظریات اور سازشی نظریات کے فروغ میں مزید سرگرم ہو گئے ہیں۔

2024 میں انہیں اس وقت مذاق کا نشانہ بنایا گیا جب انہوں نے ایک ’جادوئی تعویذ‘ کی تشہیر کی، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ استعمال کرنے والے کو وائی فائی اور ’بری انرجی‘ سے محفوظ رکھتا ہے۔

اس کے بعد ان کی مسیحیت کی جانب انتہائی نمایاں واپسی ہوئی، جس نے نہ صرف ان کی شناخت کو مزید مضبوط کیا بلکہ انہیں ماگا حامی حلقوں اور رپبلکن اشرافیہ میں بھی زیادہ مقبول بنایا، جہاں مذہبی شناخت سیاسی طاقت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

اب ایسا لگتا ہے کہ لورا نے شہرت اور تشہیر سے اپنی ناپسندیدگی کو ایک طرف رکھ کر مائیکروفون کے سامنے اپنے شوہر کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، کیونکہ ہر مذہبی رہنما کو اپنے ساتھ ایک صابر، محبت کرنے والا اور وفادار ساتھی درکار ہوتا ہے۔

برانڈ جوڑے نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان ’مشکل حالات‘ کے باوجود اپنا پوڈکاسٹ جاری رکھیں گے۔ ایک حالیہ قسط میں لورا نے اعتراف کیا کہ انہیں دوبارہ عوامی توجہ کا مرکز بننے میں بے چینی محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا: ’عدالت جانے سے پہلے میں گھبرا گئی تھی۔ مجھے گاڑی سے باہر نکلنے اور اتنے زیادہ فوٹوگرافرز کو دیکھنے کی عادت نہیں رہی۔‘

ان کے شوہر کے مقدمے کے دو ماہ تک جاری رہنے کا امکان ہے، اس لیے ممکن ہے کہ انہیں جلد ہی اس نئی صورت حال سے خود کو ہم آہنگ کرنا پڑے۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی گھر