مشرق وسطیٰ میں سفارتی پیش رفت کی امید پر تیل کی قیمتوں میں کمی

تہران میں مکہ معاہدے کے رکن ممالک اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات سے تنازع کے حل کی امیدوں نے تیل کی سپلائی میں ممکنہ خلل اور قیمتوں پر دباؤ کے خدشات کم کیے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام نے 26 اکتوبر کو تہران میں ایرانی حکام سے مذاکرات کیے (روئٹرز)

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے حل کی امیدوں کے باعث منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ہوئی، تاہم سعودی عرب پر حملوں نے خطے میں فوری استحکام کی امیدوں کو کم کردیا، جس کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت چھ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گرینچ معیاری وقت (جی ایم ٹی) کے مطابق رات 12 بجے تک برینٹ خام تیل کی قیمت 66 سینٹ، یعنی 0.57 فیصد کمی کے بعد 115.15 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 44 سینٹ، یعنی 0.43 فیصد کمی کے بعد 101.32 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔

سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے پیر کو تہران میں ایرانی حکام سے مذاکرات کیے، جن کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنا تھا۔ سعودی عرب کے مطابق اس دورے کا مقصد مذاکرات کے لیے کھلے رابطے قائم کرنا تھا تاکہ ’فوجی کشیدگی کی واپسی کو روکا جاسکے‘۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق چاروں ممالک نے امن اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

تنازع کے حل کی امیدوں نے تیل کی سپلائی میں ممکنہ خلل اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کے خدشات کم کیے۔

تاہم، قیمتوں میں کمی محدود رہی کیونکہ امن کے امکانات کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ایران نواز حوثیوں کی جانب سے اہم تیل پیدا کرنے والے ملک سعودی عرب پر دوبارہ حملے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)


واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر آبنائے ہرمز اور اس کے قریبی بحری راستوں میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے حوالے سے بدترین مہینہ رہا ہے۔ یہ ادارہ 2017 سے دنیا بھر میں بحری سلامتی کے واقعات کا ریکارڈ مرتب کر رہا ہے۔

جنگ کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل چکے ہیں اور آبنائے ہرمز اس بحران کا مرکزی مقام بن گئی ہے۔

فروری میں تنازع شروع ہونے سے پہلے دنیا کی مجموعی توانائی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ اس تنگ بحری راستے سے گزرتا تھا۔

گذشتہ ہفتے آبنائے ہرمز کے قریب ٹینکروں پر ایرانی حملوں کی ایک لہر کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 117 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی، جو اپریل کے بعد بلند ترین سطح تھی۔ پیر کو بھی برینٹ کی قیمت 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا