مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں: پاکستان

وزیراعظم نے سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے 14 اکتوبر، 2026 کو مکہ دفاعی اتحاد کے سیکریٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود سے اسلام آباد میں ملاقات کی(وزیراعظم آفس)

وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو مکہ دفاعی اتحاد کے سیکریٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود سے ملاقات کے دوران کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، دفاع اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی شہری اور تیل کی تنصیبات پر حملے جاری ہیں، جن میں ایک درجن سے زائد افراد جان سے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔

ان حملوں کے باعث امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے کے علاقائی اثرات مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے سات اگست 2026  کو سعودی شہر مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

یہ دفاعی معاہدہ خطے میں اجتماعی سلامتی کے اہم ترین نئے انتظامات میں سے ایک قرار دیا گیا۔

اس اتحاد نے پانچ اکتوبر کو ریاض میں اپنی سٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے دوران نعمان محمود کی بطور سیکریٹری جنرل تقرری کا اعلان کیا تھا۔

اس اجلاس میں تینوں ممالک نے معاہدے کے تحت طے شدہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کو سعودی عرب میں فوری تعیناتی کے لیے تیار رکھنے پر بھی اتفاق کیا تھا۔

وزیراعظم آفس نے نعمان محمود سے ملاقات کے بعد جاری بیان میں کہا ’وزیراعظم نے جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود کو سیکریٹری جنرل کا منصب سنبھالنے پر نیک خواہشات کا اظہار کیا اور مکہ معاہدے کو خطے میں امن، اتحاد اور استحکام کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔

’وزیراعظم نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، دفاع اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔‘

یہ بیان سعودی شہری دفاع کے بدھ کو جاری کردہ اس اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، جس کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض میں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حوثیوں کے میزائل مار گرائے جانے کے بعد ان کے ملبے کی زد میں آ کر مزید چار افراد زخمی ہو گئے۔

سعودی شہری دفاع نے رہائشی عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان کی تصاویر بھی جاری کیں۔

سعودی حکام کے مطابق منگل کو بھی ملک کو متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا سامنا کرنا پڑا۔

سعودی حکومت نے خبردار کیا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کو سعودی عرب پر مسلسل حملوں کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق مکہ دفاعی اتحاد کے سیکریٹری جنرل نے وزیراعظم شہباز شریف کو معاہدے کے تحت دفاعی اور سٹریٹجک تعاون بڑھانے کی حکمت عملی پر بریفنگ دی۔

وزیراعظم نے سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم آفس نے مزید کہا ’وزیراعظم نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔‘

منگل کو پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا تھا کہ سعودی عرب میں واقع اسلام کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے پاکستان اپنے تمام وسائل فراہم کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اسلام آباد کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی نشریاتی ادارے ’وی نیوز‘ سے گفتگو میں کہا کہ ’پاکستان کے تمام وسائل سعودی عرب کے لیے دستیاب ہیں۔

’سعودی عرب ہمارا برادر ملک ہے اور ہمارے مذہب کے مقدس مقامات وہاں واقع ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ان کا تحفظ کرنا اور اپنے تمام وسائل ان کے لیے فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

’یہ وسائل اس وقت بھی فراہم کیے جا رہے ہیں اور آئندہ ہر مرحلے پر ہم سعودی عرب کے دشمنوں کے مقابلے میں اس کی سرزمین کے دفاع کے لیے اپنے سعودی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔‘

حوثی گذشتہ ہفتے سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر حملے کر رہے ہیں۔

ہفتے کو شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثیوں کے حملوں میں 13 افراد جان سے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

اس سے قبل بدھ اور جمعرات کو ہونے والے حملوں میں چار افراد جان سے گئے تھے، جبکہ اتوار کو بھی ایک شخص کی موت ہوئی۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان