حوثیوں کو بار بار حملوں کے نتائج بھگتنے ہوں گے: سعودی کابینہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ یمن کے وسیع علاقوں پر قابض حوثی جنگجو ’بہت برا رویہ‘ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 13 اکتوبر 2026 کو کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی (ایس پی اے)

سعودی عرب کی کابینہ نے منگل کو کہا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کو اپنے جرائم اور مملکت کے ہوائی اڈوں، مقدس شہروں اور اقتصادی تنصیبات پر اپنے بار بار کیے جانے والے حملوں کے نتائج بھگتنے ہوں گے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت منگل کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی یا بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں نہیں پڑنے دے گا۔

یہ بیان سعودی عرب پر حالیہ مہلک حملوں کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ یمن کے وسیع علاقوں پر قابض حوثی جنگجو ’بہت برا رویہ‘ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کی جنگ کے اثرات مشرق وسطیٰ کے دوسرے علاقوں تک پھیل رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ حوثی 2014 سے جاری خانہ جنگی میں سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں، تاہم امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف آٹھ ماہ سے جاری جنگ شروع کیے جانے کے بعد یہ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

حوثیوں نے حالیہ دنوں میں بحیرہ احمر اور اہم آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔

حوثیوں نے حالیہ دنوں میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 13 افراد جان سے گئے، 300 سے زیادہ زخمی ہوئے اور سعودی دارالحکومت کی فضائی حدود بند کر دی گئیں۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ممکنہ طور پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے مداخلت کرنے اور سعودی مفادات کی حمایت کرنے کی درخواست کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ صدر اردوغان وہی کریں گے جو میں ان سے کہوں گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا