اسرائیلی انتخابات میں زیر بحث چار اہم مسائل کون سے ہیں؟

اسرائیل میں کہانی ایک بیلٹ سے شروع ہوتی ہے، لیکن اصل جنگ بیلٹ بکس بند ہونے کے بعد شروع ہوتی ہے اور اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک کوئی 61 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو جائے۔

اسرائیل میں ووٹر وزیراعظم کا انتخاب نہیں کرتا، اور نہ ہی وہ کسی انفرادی امیدوار کو ووٹ دیتا ہے (انڈپینڈنٹ عربیہ)

اسرائیل میں ووٹر وزیراعظم کا انتخاب نہیں کرتا، اور نہ ہی وہ کسی انفرادی امیدوار کو ووٹ دیتا ہے۔کہانی ایک بیلٹ سے شروع ہوتی ہے، لیکن اصل جنگ بیلٹ بکس بند ہونے کے بعد شروع ہوتی ہے۔

تقریباً ستر لاکھ اسرائیلی 27 اکتوبر 2026 کو ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔

7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد پہلی بار یہ انتخابات اسرائیل کی ریاست کے قیام کے بعد سے 26 ویں کنیسٹ کی تشکیل کریں گے اور یہ موجودہ وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو اور ان کی سخت دائیں حکومت پر ریفرنڈم تصور کیے جاتے ہیں، اور ان کے حملے سے نمٹنے کے لیے جو ایک تباہ کن جنگ کا باعث بنی تھی جو غزہ سے لبنان اور پھر ایران تک پھیلی ہوئی تھی۔ 

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق انتخابی نتائج منقسم دکھائی دے رہے ہیں، جس میں وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو، سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور سابق چیف آف سٹاف گیڈی آئزنکوٹ اہم دعویدار ہیں۔

اسرائیلی دراصل ووٹ کس کو دیتے ہیں؟ 

اسرائیلی عوام کنیسٹ کا انتخاب کرتے ہیں، ریاست کا قانون ساز بازو اور دوسرے لفظوں میں پارلیمنٹ۔ کنیسٹ 120 ارکان پر مشتمل ہے جس کی مدت چار سال ہوتی ہے۔ غیر معمولی معاملات میں، کنیسٹ کی مدت مطلق اکثریت سے، یعنی 61 ووٹوں کی اکثریت سے بڑھائی جا سکتی ہے۔

اگر پارلیمان سادہ اکثریت سے خود کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کرتی ہے، یا اگر حکومت قانونی فریم ورک کے مطابق قبل از وقت انتخابات کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو کنیسٹ کی مدت کو مختصر کیا جا سکتا ہے اور قبل از وقت انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ 

ملک میں ہر اہل شہری کو ووٹ دینے کا حق ہے، پورے ملک کو ایک واحد انتخابی ضلع سمجھا جاتا ہے، ہر ووٹر کے پاس نتائج میں برابر وزن کے ساتھ ایک ووٹ ہوتا ہ،  ووٹنگ ووٹر کی پسند کی رازداری کی ضمانت دیتی ہیں۔

امیدواروں کی انتخابی مہم کا مرکز بننے والے سب سے نمایاں مسائل یہ ہیں: 

7 اکتوبر پر جواب دہی

بہت سے اسرائیلی شہریوں نے ان ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد ریاستی تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جن کے باعث حماس کو 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کرنے کا موقع ملا اور جس کے نتیجے میں 1,200 سے زیادہ افراد مارے گئے۔

اسرائیل کی تاریخ کے اس سب سے بڑے جان لیوا دن نے ملک کو گہرے قومی صدمے سے دوچار کیا، جس کے اثرات اب بھی ملک کی سیاست، معاشرے اور اجتماعی نفسیات کی صورت گری کر رہے ہیں۔

اسرائیل ماضی میں قومی بحرانوں کے بعد تحقیقاتی کمیشن قائم کرتا رہا ہے اور آئندہ انتخابات میں وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے سب سے بڑے حریف اور فوج کے سابق سربراہ غادی آئزنکوٹ نے دوبارہ ایسا کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے اسے ’اگلی تباہی کو روکنے کا ایک طریقہ‘ قرار دیا ہے۔

تاہم نتن یاہو کی حکومت، جو حملے کے وقت اقتدار میں تھی، ان مطالبات کو مسترد کر چکی ہے۔

اس کی بجائے حکومت نے حملہ روکنے میں ناکامی کا ذمہ دار سکیورٹی اداروں کو ٹھہرایا ہے اور دو جماعتی کمیشن کی تجویز پیش کی ہے، جس کے ارکان کا تقرر سیاست دان کریں گے۔

حزب اختلاف کے رہنما یائر لاپید نے کہا کہ حکومت کے تجویز کردہ کمیشن کا مقصد ’ذمہ دار افراد کو بے قصور ثابت کرنا اور حقیقی تحقیقات کو روکنا ہے۔‘

خود نتن یاہو نے سکیورٹی اداروں کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے کہ انہوں نے حملے کے دن انہیں بروقت نہیں بتایا۔

انہیں ان الزامات میں مسلسل اضافے کا سامنا ہے کہ انہوں نے ابتدائی تنبیہات کو نظرانداز کیا، خصوصا متحدہ عرب امارات کی جانب سے دی گئی مبینہ اطلاع کو، جس میں انہیں بتایا گیا تھا کہ حماس ایک بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

وزیر اعظم کو قطر کے ساتھ ان کی حکومت کے ماضی کے معاملات پر بھی بڑھتی ہوئی چھان بین کا سامنا ہے۔ قطر نے اسرائیل کی منظوری سے حماس کی مالی معاونت کی تھی اور ایک طویل عرصے سے اس گروپ کی سیاسی قیادت کی میزبانی کرتا رہا ہے۔

مستقبل کی سکیورٹی حکمت عملی

کئی دہائیوں تک اسرائیل کا سکیورٹی نظریہ تین اصولوں پر قائم رہا: مضبوط انٹیلی جنس، سدباب کی صلاحیت اور مختصر جنگیں۔

لیکن 7 اکتوبر کے بعد یہ صورت حال تبدیل ہو گئی۔

اس کی بجائے حکومت نے طویل فوجی مہمات کی حکمت عملی اختیار کی، جس کا اظہار غزہ، جنوبی لبنان اور شام میں قائم ’سکیورٹی زونز‘ میں اسرائیلی فوج کی مسلسل موجودگی سے ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی تقریبا روزانہ کارروائیاں کرتا ہے، ایران کے ساتھ دو جنگیں کر چکا ہے اور یمن میں تہران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف حملے کر چکا ہے۔ ان اقدامات نے اس بحث کو ہوا دی ہے کہ آیا اسرائیل متعدد محاذوں پر تعینات اپنی فوج کو طویل عرصے تک برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

2023 سے اب تک دسیوں ہزار ریزرو فوجیوں کو بار بار متحرک کیا گیا، جس کی انہیں اکثر ذاتی اور معاشی طور پر بھاری قیمت ادا کرنا پڑی، جب کہ فوجی قیادت افرادی قوت کی کمی سے مسلسل خبردار کر رہی ہے۔

اسرائیل کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز کے محقق اوفر شیلاح نے کہا: ’ہم جنگوں کے درمیان سدباب اور خوش حالی کی منطق سے نکل کر ایک ایسے معاشرے میں تبدیل ہو گئے ہیں جو مستقل طور پر تلوار کے سائے میں زندگی گزارتا ہے۔‘

ان فوجی مہمات سے اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور اسے شدید بین الاقوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، خصوصا غزہ کی جنگ کے باعث، جہاں علاقے کی وزارت صحت کے مطابق فلسطینی اموات کی تعداد 74,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔

یہاں تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ تازہ ترین تنازعے کے دوران اسرائیل کے طرز عمل پر نتن یاہو کی سرعام سرزنش کی۔ ایک موقعے پر انہوں نے سخت نازیبا الفاظ پر مبنی غصے کا اظہار بھی کیا، جب لبنان پر اسرائیل کے نئے حملوں سے جنگ بندی کے مذاکرات پٹڑی سے اترنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔

مذہب، شناخت اور فوجی بھرتی

فوج کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہونے کے باعث انتہائی قدامت پسند یہودیوں کو فوجی خدمات سے حاصل استثنیٰ کے خاتمے سے متعلق جاری بحث اسرائیل کی شناخت سے متعلق ایک وسیع تر تنازعے میں تبدیل ہو گئی ہے۔

انتہائی قدامت پسند یہودی جماعتیں ان استثنیٰ کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں جن کے تحت مذہبی طلبہ فوجی خدمات سے بچ سکتے ہیں۔ انہیں نتن یاہو کی لیکود پارٹی اور عمومی طور پر اس کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے۔

تاہم حزب اختلاف کی جماعتیں ان استثنیٰ کو ختم کرنے کی حمایت کرتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی ایسی حکومت میں شامل ہونے سے انکار کر دیں گی جس میں انتہائی قدامت پسند یہودی جماعتیں شامل ہوں۔

غادی آئزنکوٹ نے، جنہوں نے غزہ جنگ میں اپنا ایک بیٹا کھویا، بھی ان استثنیٰ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نتن یاہو کی حکومت کو ایسی حکومت قرار دیا جو ’بے شرمی سے فرض سے فرار کو فروغ دیتی ہے۔‘

دوسری جانب نتن یاہو کو اس معاملے پر توازن قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران فوجی بھرتی سے بچنے والے انتہائی قدامت پسند یہودیوں کی گرفتاری پر تنقید کی، جب کہ اس بات پر بھی اصرار کیا کہ جو افراد کل وقتی طور پر تورات کی تعلیم حاصل نہیں کر رہے، انہیں فوج میں بھرتی ہونا چاہیے۔

اس معاملے کے نتیجے میں انتہائی قدامت پسند یہودی مظاہرین نے احتجاج کیا، جن میں ایک ایسا واقعہ بھی شامل تھا جس میں انہوں نے اسرائیل کی فوجی پولیس کے سربراہ کے گھر پر دھاوا بول دیا۔

تاہم یہ تقسیم صرف فوجی خدمات تک محدود نہیں۔

پارلیمان تحلیل ہونے سے محض چند روز قبل سبکدوش ہونے والے حکومتی اتحاد نے کچھ عوامی مقامات پر مردوں اور عورتوں کی علیحدگی کو فروغ دینے والے اقدامات متعارف کروائے اور تورات کی تعلیم کی اہمیت پر زور دینے والی قانون سازی منظور کی۔

ان پالیسیوں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان سے اسرائیل کا یہودی تشخص مضبوط ہوتا ہے، لیکن ناقدین کے مطابق یہ اقدامات ملک کو عوامی زندگی پر بڑھتے ہوئے مذہبی اثرورسوخ کی جانب لے جا رہے ہیں۔

اخراجات میں اضافہ

اگرچہ سیاسی بحث پر سکیورٹی کے معاملات غالب ہیں لیکن معیشت اب بھی بہت سے ووٹروں کے لیے ایک بڑی تشویش ہے۔

مضبوط معاشی ترقی، 2000 سے اب تک مجموعی قومی پیداوار کے دو گنا سے زیادہ ہونے اور بے روزگاری کی شرح تاریخی طور پر کم رہنے کے باوجود اسرائیلی شہریوں کو دنیا میں زندگی گزارنے کے بلند ترین اخراجات میں سے ایک کا سامنا ہے۔

اسی دوران اوسط درمیانی اجرت اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم یعنی او ای سی ڈی کے اوسط سے کم ہے، جس سے گھرانوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ماہرین اقتصادیات بلند قیمتوں کی بنیادی وجوہات کے طور پر دیرینہ مسائل کی نشان دہی کرتے ہیں، جن میں مکانات کی قلت، تجارتی رکاوٹیں اور اہم شعبوں میں محدود مسابقت شامل ہیں۔

جنگوں نے ایک اور چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ 2023 سے اسرائیل کا دفاعی بجٹ دو گنا ہو چکا ہے، جس کے باعث سرکاری مالی وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا