اسرائیل میں عام انتخابات کے چار ممکنہ منظرنامے

کسی ایک جماعت کے لیے پارلیمان (کنیسٹ) میں سادہ اکثریت کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے۔

آسٹریلیا میں ایرانی کمیونٹی کے ایک رکن نے 14 مارچ، 2026 کو سڈنی میں، مشرق وسطیٰ کی جنگ کو جنم دینے والے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایک ریلی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کی حمایت میں پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے (اے ایف پی)

اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہو رہے ہیں اور سرویز کے مطابق مقابلہ انتہائی سخت ہے۔

اس کا مطلب ہے اگلی حکومت کا فیصلہ اس بات سے ہو گا کہ کون بکھری ہوئی سیاسی صورت حال میں مختلف جماعتوں کو ملا کر اتحاد قائم کر سکتا ہے۔

اسرائیل میں انتخابات متناسب نمائندگی (Proportional Representation) کے نظام کے تحت ہوتے ہیں، جہاں پورے ملک میں حاصل ہونے والے ووٹوں کی بنیاد پر پارلیمان کی 120 نشستیں تقسیم کی جاتی ہیں۔

ایسے میں کسی ایک جماعت کے لیے پارلیمان (کنیسٹ) میں سادہ اکثریت کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے۔

اس صورت حال میں چار ممکنہ منظرنامے یہ ہو سکتے ہیں:

1۔ اتحادی حکومت

انتخابات کے فوراً بعد سیاسی جماعتیں 61 نشستوں کی حد عبور کرنے کے لیے اتحاد سازی کی کوششیں شروع کر دیں گی۔

سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد صدر آئزک ہرزوگ جماعتی نمائندوں سے مشاورت کریں گے اور ایسی شخصیت کو حکومت بنانے کا موقع دیں گے جس کے بارے میں خیال ہو کہ وہ اکثریت حاصل کر سکتی ہے۔

ضروری نہیں کہ یہ شخصیت سب سے بڑی جماعت سے تعلق رکھتی ہو بلکہ وہ امیدوار ہو سکتا ہے جس کے پاس مطلوبہ پارلیمانی حمایت حاصل کرنے کے زیادہ امکانات ہوں۔

اتحادی مذاکرات اکثر مشکل اور طویل ہوتے ہیں کیونکہ جماعتیں اپنے مخصوص مفادات پر اصرار کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں کمزور اور غیر مستحکم حکومتیں بھی وجود میں آ سکتی ہیں۔

نومبر 2022 کے انتخابات کے بعد بن یامین نتن یاہو کو حکومت بنانے میں 58 دن لگے تھے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق نتن یاہو کے دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کے اتحاد اور اپوزیشن بلاک، جس کی نمایاں شخصیت سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ ہیں، تقریباً برابر ہیں اور دونوں کے پاس 50 سے 52 نشستیں ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

کئی ہفتوں سے سرویز میں دونوں فریق قریب قریب برابر دکھائی دے رہے ہیں، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ حکومت سازی کے لیے درکار مزید تقریباً 10 نشستیں حاصل کرنا دونوں کے لیے ایک سیاسی معمہ ہوگا۔

اسرائیل کی سیاسی تاریخ وفاداریاں تبدیل ہونے اور غیر متوقع اتحادوں جیسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔

اس بار دو نئی دائیں بازو کی جماعتیں بھی میدان میں ہیں جن کے پارلیمان میں داخل ہونے کے امکانات موجود ہیں اور وہ کسی ایک بلاک کے حق میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔

2۔ اقلیتی حکومت

اگر کوئی بھی اتحاد 61 نشستیں حاصل نہ کر سکا تو کوئی امیدوار پارلیمانی اکثریت کے بغیر بھی حکومت بنانے کی کوشش کر سکتا ہے اور مختلف قانون سازوں کی موقع بہ موقع حمایت حاصل کر کے حکومت چلا سکتا ہے۔

اس صورت میں اسرائیل کی عرب اقلیت کے نمائندے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

عرب شہری اسرائیل کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہیں اور عمومی طور پر خود کو فلسطینی شناخت سے منسلک سمجھتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سروے کے مطابق عرب اسرائیلیوں کی دو سیاسی فہرستیں، جوائنٹ لسٹ اور رام (Raam)، مجموعی طور پر 12 سے 14 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔

ماضی میں حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرنے والے منصور عباس کی قیادت میں رام جماعت نے آئزنکوٹ کے بلاک کے ساتھ کام کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ جوائنٹ لسٹ نے نتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے والی کسی بھی حکومت کو ’حفاظتی جال‘ فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

تاہم اپوزیشن کے بڑے رہنما اس امکان کو کھلے عام تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ یہودی ووٹروں کے ایک بڑے حصے میں عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے خلاف مخالفت پائی جاتی ہے۔

اس کے باوجود نتن یاہو اپنی انتخابی مہم میں یہ نکتہ اجاگر کرتے رہے ہیں کہ آئزنکوٹ عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتے ہیں۔ ان کی مہم کا نعرہ ہے:

 ’یا دائیں بازو، یا فلسطین۔‘

3۔ قومی اتحاد کی حکومت

اسرائیل میں شدید سیاسی تقسیم کے پیش نظر قومی اتحاد کی حکومت کا تصور غیر حقیقی محسوس ہوتا ہے، لیکن نظریاتی طور پر یہ کم انتہا پسند حکومت تشکیل دے سکتا ہے۔

اسرائیلی مبصرین طویل عرصے سے اس امکان پر گفتگو کرتے رہے ہیں کہ نتن یاہو اپنے انتہائی دائیں بازو اور قدامت پسند مذہبی اتحادیوں کو الگ کر کے گاڈی آئزنکوٹ کے ساتھ مل جائیں، جن کے کئی سکیورٹی معاملات پر خیالات نتن یاہو سے ملتے جلتے ہیں۔

اس بڑے اتحاد میں عرب جماعتیں شامل نہیں ہوں گی۔

16 اکتوبر کو شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق اگر انتخابات سے واضح اکثریت سامنے نہ آئی تو 55 فیصد اسرائیلی نئے انتخابات کی بجائے قومی اتحاد کی حکومت کو ترجیح دیں گے۔

اس کی ایک حالیہ مثال بھی موجود ہے۔ 2020 میں نتن یاہو اور بینی گینٹز نے، جو آئزنکوٹ کی طرح ایک سابق جنرل ہیں اور اعتدال پسند ووٹروں میں مقبول تھے، اقتدار کی تقسیم کا معاہدہ کیا تھا۔

یہ معاہدہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں ہونے والے تین انتخابات کے بعد طے پایا تھا اور اس میں وزارت عظمیٰ باری باری سنبھالنے کی شق شامل تھی۔

لیکن یہ شراکت داری ایک سال بعد ختم ہو گئی اور ملک ایک مرتبہ پھر انتخابات کی طرف چلا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر 27 اکتوبر کے بعد سیاسی تعطل پیدا ہوتا ہے تو صدر ہرزوگ پس پردہ نتن یاہو اور آئزنکوٹ کو ایک بار پھر قریب لانے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ ایسا ہی تجربہ دہرایا جا سکے۔

تاہم اس منظرنامے کو دونوں جانب سے شدید مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر اپوزیشن کی جانب سے، جو اس انتخاب کو نتن یاہو کے خلاف ریفرنڈم قرار دے رہی ہے اور ان کے کردار پر بھی سوالات اٹھا چکی ہے۔

4۔ تعطل اور نئے انتخابات

اگر کوئی بھی امیدوار حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہوا تو اسرائیل کو دوبارہ انتخابات کرانا پڑیں گے۔

اپریل 2019 سے مارچ 2021 کے درمیان ملک میں چار مرتبہ انتخابات ہوئے تھے کیونکہ سیاسی جماعتیں ایک پائیدار اتحاد قائم کرنے میں ناکام رہی تھیں۔

اصولی طور پر صدر کی جانب سے نامزد امیدوار کے پاس حکومت بنانے کے لیے 28 دن ہوں گے جبکہ اسے مزید 14 دن کی توسیع بھی مل سکتی ہے۔

تاہم آئینی اور پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے فوری طور پر نئے انتخابات کے اعلان سے بچنے کے دیگر راستے بھی موجود ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا