آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایک شخص کو مقبول مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ ’کلاڈ‘ کے ساتھ گفتگو کے دوران بچوں کی نگہداشت کے ایک مرکز میں فائرنگ کی دھمکی دینے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔
29 سالہ ڈیوڈ لین تھیکرے کو ذہنی صحت کے جائزے کے لیے حراست میں رکھا گیا ہے۔ پیر کو سدرلینڈ مقامی عدالت کو بتایا گیا کہ انہوں نے چیٹ بوٹ کو اپنے گھر کے قریب واقع شہر ہرسٹ وِل میں بچوں کی نگہداشت کے ایک مرکز میں بچوں کو گولی مارنے کے ارادے سے آگاہ کیا تھا۔
انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ ’میں ابھی قریبی ویسٹ فیلڈ جاؤں گا اور وہاں بچوں کی نگہداشت کے مقامی مرکز میں فائرنگ کروں گا۔‘ اس کے بعد ان کا کلاڈ اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا۔
ڈیوڈ تھیکرے کو اتوار 18 اکتوبر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب ان کی گفتگو کی اطلاع انٹرپول کو دی گئی۔ سڈنی مارننگ ہیرالڈ کے مطابق ان پر مواصلاتی سروس کو دھمکانے، ہراساں کرنے یا توہین آمیز مقصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
پیر کو انہیں حراست میں رکھنے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے استغاثہ نے کہا: ’ان کا ارادہ سڈنی میں لوگوں کو قتل کرنا ہے، بالکل اسی طرح جیسے بونڈی میں مبینہ دہشت گرد نے کیا تھا۔‘
یہ حوالہ سڈنی کے بونڈی بیچ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کا تھا، جس میں کم از کم 15 اموات ہوئی تھیں۔ اس حملے میں دو مسلح افراد، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ باپ بیٹا تھے، نے حنوکا تہوار کے آغاز کا جشن منانے والے ہجوم پر فائرنگ کی تھی۔ 50 سالہ ساجد اکرم کو پولیس نے جائے وقوعہ پر ہی فائرنگ کرکے مار دیا تھا۔ ان کے 24 سالہ بیٹے نوید اکرم کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور انہیں حملے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں مقدمے کا سامنا ہے۔
ڈیوڈ تھیکرے کے وکیل ڈینیلو راجکووچ نے استغاثہ کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی باتوں میں کوئی وزن نہیں تھا۔‘
ان کے مطابق ڈیوڈ تھیکرے نے کان کے انفیکشن کے علاج میں مدد حاصل کرنے کے لیے چیٹ بوٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن تناؤ اور مایوسی کے باعث وہ غصے میں مسلسل بولتے رہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
راجکووچ نے دعویٰ کیا کہ ان کے مؤکل، جو تقریباً 2 دہائیوں سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں، نے چیٹ بوٹ کو کسی کے خلاف دھمکیاں جاری کرنے کی ہدایت نہیں دی تھی اور وہ اپنے گھر میں نجی جگہ پر یہ گفتگو کر رہے تھے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ڈیوڈ تھیکرے انٹرنیشنل ریلیشنز کے طالب علم ہیں اور ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ ذہنی صحت کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد یہ معاملہ دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کلاڈ نے اس کے غلط استعمال کی نشاندہی کی ہو۔ مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنی اینتھروپک کے تیار کردہ اس چیٹ بوٹ کو تشدد کی منصوبہ بندی یا اس پر اکسانے سے متعلق درخواستیں مسترد کرنے اور صارفین کا ڈیٹا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شیئر کرنے کی تربیت دی گئی ہے۔
ستمبر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اینتھروپک نے بتایا کہ دسمبر 2025 سے اگست 2026 کے درمیان اس کی دھمکیوں سے متعلق انٹیلی جنس ٹیم نے ’ایسی کارروائیوں کی نشاندہی کی اور انہیں ناکام بنایا جن میں خطرہ پیدا کرنے والے عناصر نے بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں کے لیے کلاڈ کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔‘
کمپنی نے ایسی سرگرمیوں کے 7 شعبوں کی نشاندہی کی، جن کی اطلاع دی گئی تھی۔ ان میں ’سائبر کارروائیاں، اثرانداز ہونے کی کارروائیاں، نگرانی، دھوکا دہی اور فراڈ، بائیولوجیکل ٹیکنالوجی کا غلط استعمال، روایتی ہتھیاروں کی تیاری اور ڈسٹلیشن‘ شامل ہیں۔