ایپل کا خیال ہے کہ یہ (ذاتی اے آئی معاون) ٹیکنالوجی آپ کے آئی فون میں موجود ہے، یا شاید آپ کی ایپل واچ میں بھی۔ اوپن اے آئی کے بارے میں افواہیں ہیں کہ وہ اسے ایک میکینیکل، ڈونٹ نما ڈیوائس میں نصب کر رہا ہے۔
فیس بک کی مالک کمپنی میٹا اسے آپ کے چہرے پر رکھنے یا تماگوچی نما ڈیوائس کے اندر متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے۔
دیگر کئی کمپنیاں بھی اسے مختلف شکلوں میں متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہیں، جن میں انگلی میں پہننے والی اور گلے میں لٹکانے والی ڈیوائسز شامل ہیں۔
یہ جہاں بھی موجود ہو اور جس بھی شکل میں سامنے آئے، یہ مستقبل کی ٹیکنالوجی ہے یا کم از کم ٹیکنالوجی کمپنیوں نے یہی فیصلہ کر لیا ہے۔
حالیہ مہینوں میں تقریباً تمام بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وہ ذاتی اے آئی اسسٹنٹس تیار کرنے پر کام کر رہی ہیں، جو آپ کی زندگی سے متعلق معلومات جمع کرکے انہیں آپ کی مدد کے لیے استعمال کریں گے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
یہ تصور، اگرچہ ابھی اپنی موجودہ شکل میں کافی مبہم ہے۔ مثال کے طور پر اوپن اے آئی کو اس ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی سب سے زیادہ زیرِ بحث کمپنی سمجھا جاتا ہے لیکن اب بھی یہ واضح نہیں کہ وہ اصل میں کیا تیار کر رہی ہے۔
گذشتہ سال ایپل کے سابق معروف ڈیزائنر جانی آئیو نے اعلان کیا تھا کہ ان کی نئی ڈیزائن فرم ایک پراڈکٹ تیار کرنے کے لیے اوپن اے آئی کے ساتھ کام کرے گی۔
مختلف افواہوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید کسی قسم کے اے آئی اسسٹنٹ ڈیوائس پر کام ہو رہا ہے۔
ابتدائی لیکس کے مطابق یہ ایک ڈونٹ نما ڈیوائس ہو سکتی ہے جو حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور ممکنہ طور پر اسے کسی سطح پر رکھا جا سکے یا صارف اپنے ساتھ لے کر چل سکے۔
اگرچہ فی الحال یہ تصور واضح نہیں لیکن اس کے باوجود یہ تیزی سے ترقی کرنے والی نئی ٹیکنالوجیز میں شامل ہو رہا ہے۔
اور اگر اسے تیار کرنے والی کمپنیاں اپنے مقصد میں کامیاب ہوئیں تو ممکن کہ یہ ٹیکنالوجی جلد ہی ہماری روزمرہ زندگی اور مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے۔
ذاتی اے آئی اسسٹنٹ کا تصور یقیناً نیا نہیں ہے۔ کئی دہائیوں سے سائنس فکشن میں اس کا ذکر ملتا رہا ہے جبکہ ChatGPT، Claude، Gemini اور Meta کے Muse جیسی مصنوعات پہلے ہی صارفین کی معاونت کرنے والی صلاحیتوں کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔
ان تمام کمپنیوں کی جانب سے اپنے اے آئی سسٹمز کے ایسے ورژنز پر کام کیا جا رہا ہے جو بتدریج زیادہ ’ایجنٹک‘ ہوتے جا رہے ہیں، یعنی وہ خودمختاری سے مختلف کام انجام دے سکتے ہیں۔
انہیں دیگر پلیٹ فارمز سے بھی منسلک کیا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے یہ پیغامات بھیجنے، ملاقاتیں طے کرنے اور حتیٰ کہ تعطیلات یا سفری پروگرام بک کرنے جیسے کام بھی انجام دے سکتے ہیں۔
لیکن دوسرے تمام اے آئی ٹولز کی طرح یہ نظام بھی اتنا ہی موثر ہوتا ہے جتنی معلومات اسے آپ کی زندگی کے بارے میں دستیاب ہوتی ہیں۔
زندگی کے بہت سے اہم معاملات کمپیوٹر سے باہر، حقیقی دنیا میں پیش آتے ہیں جبکہ ای میلز، کیلنڈرز اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع میں موجود معلومات بڑی زبان کے ماڈلز کو نسبتاً آسانی سے فراہم کی جا سکتی ہیں۔
اس مسئلے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ بڑے زبان کے ماڈلز پر مبنی چیٹ بوٹس بنیادی طور پر اس طرح بنائے گئے ہیں کہ صارف کسی ڈیوائس پر ٹائپ کرے اور اسے جواب مل جائے۔
لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی زندگی میں ان کے ساتھ رابطے کے طریقے محدود رہتے ہیں کیونکہ اس کے لیے آپ کو لیپ ٹاپ یا فون کے سامنے بیٹھ کر ان کے جوابات پڑھنے پڑتے ہیں۔
دونوں مسائل کو حل کرنے کے لیے تقریباً تمام بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی کی خصوصیات کو مدِنظر رکھتے ہوئے نئے ہارڈویئر پر کام کر رہی ہیں، جو نہ صرف ان ڈیوائسز کے لیے اردگرد کی دنیا کو سمجھنا آسان بنائے بلکہ صارفین کے لیے بھی ان کے ساتھ تعامل کو سہل کرے۔
اوپن اے آئی سمیت متعدد کمپنیوں کے بارے میں افواہیں ہیں کہ وہ گلے میں پہننے والے پینڈنٹس یا کریڈٹ کارڈ کی شکل کی چھوٹی ڈیوائسز تیار کر رہی ہیں۔
میٹا اپنے شدید تنقید کا شکار سمارٹ گلاسز کو اے آئی انٹرفیس کے طور پر پیش کر رہی ہے اور اپنے نئے Muse اسسٹنٹ کو تماگوچی نما ایک آنے والی ڈیوائس میں شامل کر رہی ہے۔
سمارٹ واچ بنانے والی کمپنی Pebble ایک ایسی انگوٹھی تیار کر رہی ہے جس کے ذریعے نوٹس لیے جا سکتے ہیں جبکہ ایپل کی ایپل واچ کے لیے آنے والی اپ ڈیٹس اسے ایک طرح کے ہمیشہ فعال، ماحول سے معلومات حاصل کرکے نوٹ بنانے والے آلے میں تبدیل کر سکتی ہیں، جو یہ معلومات Siri تک پہنچائے گی۔
کچھ کمپنیوں نے اس سے ملتے جلتے تصورات پر پہلے ہی کام کیا ہے۔ مثال کے طور پر 2018 میں ایپل کے دو سابق ڈیزائنرز نے Humane نامی کمپنی قائم کی۔
2024 میں کمپنی نے اپنی پہلی پراڈکٹ AI Pin متعارف کرائی، جسے سمارٹ بروچ کی طرح پہننے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
اس میں کیمرے، مائیکروفون، لیزر ڈسپلے اور سپیکرز تھے، جو صارف کے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے اور اس کے ساتھ تعامل میں مدد دیتے تھے۔
تاہم اس ڈیوائس کو فوری طور پر انتہائی خراب ریویوز کا سامنا کرنا پڑا اور کمپنی کو اسے فروخت کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔
لیکن Humane کے کام کے پیچھے موجود بنیادی تصور اتنی جلدی ختم نہیں ہوا۔
شاید یہ بات حیران کن نہ ہو کہ ایپل خود آئی فون کے خاتمے کے بارے میں اتنا زیادہ شور مچانے کے لیے تیار نظر نہیں آتا، حالانکہ کمپنی بھی ایک ذاتی اے آئی اسسٹنٹ کے تصور کی جانب بڑھ رہی ہے۔
نئے آئی فون 18 پرو اور آئی فون ڈیو کے لانچ کے موقع پر ایپل کے نئے چیف ایگزیکٹیو جان ٹرنَس نے ایک ’ذہین ذاتی مرکز‘ (Intelligent Personal Hub) کا تصور پیش کیا، یہ بات کافی حد تک اسی مؤقف سے ملتی جلتی ہے جو دوسری کمپنیاں اپنی قاتل ڈیوائسز (killer devices) کے بارے میں پیش کر رہی ہیں لیکن اس میں وہ ڈیوائس ہی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
اگر آپ ’اس ہب (Hub) کا مثالی ورژن ابتدا ہی سے ڈیزائن‘ کرتے تو اسے ایسی ڈیوائس بناتے جسے آپ ہر وقت اپنے ساتھ رکھ سکیں، اس میں طاقتور پروسیسر ہو تاکہ ڈیوائس پر ہی اے آئی ماڈلز چلائے جا سکیں، معلومات دکھانے کے لیے بڑی سکرین ہو، اردگرد کی دنیا کو دیکھنے اور سننے کے لیے کیمرے اور مائیکروفون ہوں، بیٹری پورا دن چل سکے اور یہ دیگر ڈیوائسز اور سروسز کے ساتھ مربوط ہو۔
انہوں نے تجویز دی کہ آپ آئی فون جیسی ڈیوائس تیار کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس ڈیوائس کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ وہ آپ کے ذاتی حالات اور روزمرہ زندگی کے تناظر کو سمجھ سکے، جس کے لیے اس میں ’آپ کی روزمرہ زندگی کی انتہائی نجی تفصیلات‘ موجود ہوں۔
ان کے مطابق دیگر کمپنیاں اس ڈیٹا کو جمع اور محفوظ کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔
تاہم ایپل پرائیویسی کے لیے پرعزم ہے تاکہ صارف کو یقین ہو کہ اس کا ڈیٹا اسی کا رہے گا۔
یہ ایک قائل کرنے والی پیشکش تھی۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ کسی ایسے شخص سے بحث کر رہے ہوں جس کا وہ نام نہیں لینا چاہتے تھے اور کسی ایسی چیز کے بارے میں بات کر رہے تھے جس کی انہوں نے پوری وضاحت بھی نہیں کی۔
شاید وہ ایپل کے سابق ڈیزائنر کی طرف اشارہ کر رہے تھے جو اب اوپن اے آئی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
اے آئی کو معلومات فراہم کرنے والی اس نوعیت کی ڈیوائسز بنانے والی کمپنیوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ اخلاقیات اور آداب سے متعلق یہ سوالات مزید اہم ہوتے جائیں گے۔
اسی تقریب میں ایپل نے نئی ایپل واچ بھی متعارف کرائی، جس میں ایک ایسا فیچر شامل ہے جو اب تک ایپل کے منصوبوں کے بارے میں سب سے واضح اشارہ ہو سکتا ہے۔
ایپل نے دل کی دھڑکن مانیٹر کرنے والے نئے سینسرز اور دیگر اپ ڈیٹس کے ساتھ ’Siri Recap‘ نامی ایک فیچر بھی متعارف کرایا ہے۔
یہ ایپل واچ کے مائیکروفون کے ذریعے آڈیو ریکارڈ کرتا، اسے تحریر میں تبدیل کرکے خلاصہ بناتا اور پھر آئی فون میں محفوظ کرتا ہے۔
اس کا مقصد صارف کو دن بھر ہونے والی اہم گفتگو کا خلاصہ فراہم کرنا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایپل نے ممکنہ طور پر اس فیچر کے لیے سری کا نام اس لیے منتخب کیا ہے کہ کمپنی اپنے ورچوئل اسسٹنٹ اور اس میں رواں سال ہونے والی بڑی تبدیلیوں کو فروغ دینا چاہتی ہے۔
ان تبدیلیوں میں نئے اے آئی فیچرز شامل ہیں، جن کا مقصد مختلف کاموں میں سری کو زیادہ مفید بنانا ہے۔
تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ اس نام سے ایپل اس فیچر کی افادیت کی جانب اشارہ کر رہی ہو۔
اگر یہ روزمرہ گفتگو کے خلاصے سری کو دستیاب ہوں تو اے آئی اسسٹنٹ کو صارف کی زندگی کے بارے میں کہیں زیادہ معلومات اور پس منظر حاصل ہوگا، جس کی مدد سے وہ صارف کو نئے اور بہتر طریقوں سے معاونت فراہم کر سکے گا۔
مثال کے طور پر، سری کے نئے ورژن کی لانچ کے وقت ایپل نے بیرونِ ملک سے کسی عزیز کی آمد کا پتا لگانے کی مثال دی۔
نظام ٹیکسٹ میسج میں موجود پرواز کی تفصیلات تلاش کر سکتا ہے، اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ کب پہنچے گی اور پھر اس بنیاد پر یہ حساب کر سکتا ہے کہ آپ کو کب گھر سے روانہ ہونا چاہیے۔
یہ تصور کرنا آسان ہے کہ اگر سری کے پاس آپ کی پوری زندگی سے متعلق معلومات موجود ہوں تو ایسی سہولتیں مزید مؤثر ہو سکتی ہیں۔
مثال کے طور پر، اگر آپ کا مہمان صرف گفتگو کے دوران زبانی طور پر اپنی پرواز کا نمبر بتائے، تب بھی سری بعد میں اس معلومات کو یاد کرکے استعمال کر سکے گی۔
لیکن عین یہ ہی وہ پہلو بھی ہے جہاں اس فیچر اور مجموعی طور پر اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے زیادہ تر تنازع پیدا ہوا۔
اس سے یہ سوال اٹھنے لگے کہ کیا ایسی ٹیکنالوجی ہمیں کم متوجہ اور کم باخبر بنا دے گی کیونکہ ہماری ڈیوائسز ویسے بھی لوگوں کی کہی ہوئی باتیں محفوظ کر رہی ہوں گی۔
تاہم فوری طور پر سب سے زیادہ تشویش پرائیویسی کے حوالے سے سامنے آئی۔ ایپل اس بات پر زور دیتا ہے کہ ریکارڈنگز محفوظ اور نجی رہتی ہیں۔
کمپنی کے مطابق گھڑیاں کوئی خام آڈیو ریکارڈ نہیں کرتیں اور تیار کیے گئے ٹرانسکرپٹس تک نہ ایپل کو رسائی حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی کسی اور کو۔
لیکن اس سے رازداری سے متعلق ایک اہم سوال حل نہیں ہوتا کہ لوگ اس بات کو کس طرح دیکھیں گے کہ ان کی انتہائی ذاتی اور نجی گفتگو کسی دوسرے شخص کی ایپل واچ کے ذریعے ریکارڈ ہو، تحریری شکل میں محفوظ کی جائے اور اس کا خلاصہ تیار کیا جائے، جسے وہ شخص ہمیشہ کے لیے محفوظ بھی کر سکتا ہے۔
ایپل کو بھی بظاہر اس فیچر کے اجرا کے وقت اس مسئلے کا احساس تھا۔ مثال کے طور پر یہ فیچر رات کے وقت خودکار طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔
کمپنی کی ویب سائٹ پر ’Audio Intelligence‘ فیچرز کی وضاحت کرتے ہوئے صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ ’اپنے اردگرد موجود لوگوں کا خیال رکھیں۔‘
ویب سائٹ کے مطابق ’اگرچہ آڈیو ریکارڈ یا محفوظ نہیں کی جاتی اور گفتگو میں شامل افراد کی شناخت بھی درج نہیں کی جاتی۔
’تاہم صارفین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ آس پاس موجود لوگوں کی گفتگو نجی یا حساس نوعیت کی ہو سکتی ہے۔‘
ایسا لگتا ہے کہ ایپل کے لیے یہ صرف شروعات ہے کیونکہ کمپنی نے ’ذہین ذاتی ہب‘ (Intelligent Personal Hub) کے بارے میں بات کی ہے اور یہ افواہیں بھی سامنے آئی ہیں کہ وہ اے آئی سے لیس دیگر ڈیوائسز، جیسے گھر کے لیے سری سکرینز اور کیمروں والے سمارٹ گلاسز، پر کام کر رہی ہے۔
غالباً یہ ڈیوائسز بھی حقیقی دنیا سے ڈیٹا جمع کرنے کا تقریباً یہی کام کریں گی تاکہ اے آئی کی درخواستوں کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
جیسے جیسے مزید کمپنیاں، جن میں سے کئی کی پرائیویسی سے متعلق وابستگی ایپل جتنی مضبوط نہیں، اس نوعیت کی اے آئی کو معلومات فراہم کرنے والی ڈیوائسز تیار کریں گی، اخلاقیات اور ان کے استعمال کے آداب سے متعلق سوالات مزید اہم ہوتے جائیں گے۔
ذہین ذاتی ہب کے بارے میں ٹرنَس کی تقریر میں انہوں نے ایپل کو ان کمپنیوں سے الگ دکھانے کی کوشش کی جو صارف کے ڈیٹا کو ’جمع کرنے اور محفوظ کرنے کی چیز‘ سمجھتی ہیں۔
ایسے حریف بھی موجود ہیں جو صارفین کی معلومات اپنے اے آئی سسٹمز کی تربیت کے ساتھ ساتھ اشتہارات کے لیے استعمال کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
مثال کے طور پر، میٹا اپنی سمارٹ گلاسز کو مصنوعی ذہانت کی خصوصیات سے متعلق ڈیوائس کے طور پر متعارف کرانے پر خاص توجہ دے رہی ہے۔
تاہم، اس کی مارکیٹنگ بڑی حد تک لوگوں کو یہ باور کرانے میں ناکام رہی ہے کہ یہ بنیادی طور پر اے آئی ڈیوائسز ہیں۔ بلکہ انہیں ’پرورٹ گلاسز‘ جیسے نام سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کی وجہ ان کا لوگوں کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کا نسبتاً آسان اور دانستہ طور پر شامل کیا گیا فیچر ہے۔
دوسری جگہوں پر بھی اس ’ہمیشہ فعال‘ ٹیکنالوجی کے خلاف ردعمل سامنے آ رہا ہے، خاص طور پر اے آئی کے ذریعے گفتگو کی ٹرانسکرپشن اور خلاصہ تیار کرنے کے معاملے میں۔
اسی ہفتے Devaillance نامی کمپنی نے Kalypta کے نام سے ایک نیا ٹول متعارف کرایا ہے، جس کا دعویٰ ہے: ’اے آئی کے لیے ناقابلِ سماعت بن جائیں۔‘
جب کوئی صارف کسی میٹنگ کے دوران یہ سافٹ ویئر استعمال کرتا ہے تو یہ اس کی آواز میں تبدیلی کر دیتا ہے تاکہ ٹرانسکرپشن سروسز اس کی گفتگو کو سن کر تحریر میں تبدیل نہ کر سکیں۔
آن لائن شیئر کیے گئے سافٹ ویئر کے ابتدائی ورژنز سے ظاہر ہوتا ہے کہ میٹنگ میں موجود دوسرے افراد کو آواز بڑی حد تک سنائی دیتی رہتی ہے، اگرچہ اس میں واضح تبدیلی آ جاتی ہے۔
تاہم Devaillance کا کہنا ہے کہ یہ گوگل میٹ اور زوم جیسی اے آئی ٹرانسکرپشن سروسز کو ہر تین میں سے دو الفاظ سمجھنے سے روک دے گا۔
اگرچہ فی الحال یہ معاملہ نسبتاً محدود صورتِ حال اور ایسی ڈیوائسز تک ہی محدود ہے جو ابھی بڑی حد تک تصوراتی مرحلے میں ہیں لیکن لوگ پہلے ہی اپنا ڈیٹا اے آئی کے لیے ریکارڈ کیے جانے کے خلاف ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔
ایپل کی نئی واچ میں ٹرانسکرپشن کی سہولت ابھی دستیاب بھی نہیں ہوئی اور اس میں پرائیویسی کے ممکنہ تمام حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں، اس کے باوجود اس پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شاید اس طرح کے ڈیٹا جمع کرنے کے عمل میں بنیادی طور پر ہی ایک متنازع پہلو موجود ہے؛ مسئلہ صرف اس ٹیکنالوجی کے طریقہ کار کا نہیں بلکہ خود ڈیٹا جمع کرنے کے تصور کا بھی ہے۔
جو لوگ مستقبل کی اس ٹیکنالوجی کی حمایت کر رہے ہیں، وہ کبھی کبھار یہ دلیل دیتے ہیں کہ ریکارڈنگ کوئی نئی چیز نہیں۔
مثال کے طور پر ایپل واچ میں پہلے ہی ایسی بہت سی ایپس موجود ہیں جنہیں آن کرکے کسی میٹنگ کو ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ پرائیویسی سے متعلق خدشات اکثر عملی صورتِ حال کے بجائے اصولی نوعیت کے ہوتے ہیں۔
بہت سے لوگ میٹا کی کمزور پرائیویسی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود فیس بک اور دیگر مصنوعات میں اپنی انتہائی ذاتی معلومات محفوظ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔
لیکن کمپنی کے سمارٹ گلاسز ان لوگوں کے لیے ایک تنبیہ ثابت ہوں گے جو اس قسم کی دلیلیں دیتے ہیں اور انہی سہولتوں پر بھروسا کرتے ہیں۔
یہ ایسی تنبیہ ہے جس پر ٹیکنالوجی کی صنعت کے لیے توجہ دینا بہتر ہوگا۔
© The Independent
