میٹا کا پاکستان میں اے آئی تربیتی پروگرام کا آغاز

11 اگست 2026 کو وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ خواجہ میٹا کے اشتراک سے ’سمال بزنس گروتھ اکیڈمی‘ کے آغاز کے موقع پر اسلام آباد میں ایک ملاقات میں شریک ہیں (وزارت آئی ٹی پاکستان)

پاکستان کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے منگل کو ایک تربیتی پروگرام شروع کیا ہے جس کا مقصد چھوٹے کاروباروں کو ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ٹولز استعمال کرنے میں مدد دینا ہے تاکہ وہ نئے صارفین تک رسائی حاصل، پیداواری صلاحیت بہتر اور نئی منڈیوں میں کاروبار کو وسعت دے سکیں۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے پاکستان کی معیشت کا ایک اہم حصہ ہیں، تاہم ان میں سے بہت سے کاروباروں کو ایسی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اپنانے میں رکاوٹوں کا سامنا ہے جو انہیں اپنی مصنوعات کی تشہیر، صارفین کے ساتھ رابطوں کو خودکار بنانے اور روایتی مقامی منڈیوں سے باہر صارفین تک رسائی میں مدد دے سکتی ہیں۔

’سمال بزنس گروتھ اکیڈمی‘ کے تحت پاکستان کے نو شہروں میں ایک ہزار سے زائد کاروباری اداروں کو آمنے سامنے اور آن لائن تربیت فراہم کی جائے گی۔

اس پروگرام میں بالخصوص خواتین کی زیر قیادت کاروباری اداروں اور ٹیکسٹائل، دستکاری اور آئی ٹی خدمات سے وابستہ کاروباروں پر توجہ دی جائے گی۔

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ خواجہ نے پروگرام کے افتتاح کے موقع پر ایک بیان میں کہا: ’چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور انہیں ڈیجیٹل اور اے آئی صلاحیتوں سے بااختیار بنانا وزیراعظم کے ایک جامع اور جدت پر مبنی مستقبل کے وژن کا مرکزی حصہ ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’میٹا کے ساتھ یہ شراکت داری بامعنی سرکاری و نجی شعبے کے تعاون کے فروغ کے ہمارے عزم کی عکاسی کرتی ہے، جو کاروباری اداروں کے لیے مواقع پیدا کرے، ڈیجیٹل مہارتوں کو مضبوط بنائے اور پاکستان کے ’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘ کی جانب سفر کو تیز کرے۔‘

پاکستان میں شروع کیا جانے والا یہ پروگرام میٹا کے ایک وسیع تر پروگرام کا حصہ ہے جو ایشیا پیسیفک کے 12 ممالک میں شروع کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسے چھوٹے کاروباروں کے لیے اے آئی ٹولز کے استعمال کو تیزی سے فروغ دے رہی ہیں جو اپنے کاموں کو خودکار بنانے، مارکیٹنگ بہتر کرنے اور آن لائن موجودگی کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔

نئے پروگرام کے تحت کاروباری اداروں کو میٹا کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور اے آئی سے لیس ٹولز استعمال کرنے کی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ اپنی آن لائن موجودگی مضبوط، صارفین تک رسائی بہتر، مارکیٹنگ مؤثر، صارفین کے ساتھ رابطوں کو خودکار اور ملکی و بین الاقوامی منڈیوں میں کاروباری مواقع کی نشاندہی کر سکیں۔

یہ پروگرام لاہور، کراچی، اسلام آباد، فیصل آباد، سیالکوٹ، ملتان، حیدرآباد، پشاور اور کوئٹہ میں ورکشاپس، باقاعدہ تربیتی ماڈیولز اور شراکت دار اداروں کے ذریعے فراہم کی جانے والی تربیت کی صورت میں پیش کیا جائے گا۔

اکیڈمی پر پاکستان میں قائم لرننگ اور کنسلٹنگ کمپنی ایٹم کیمپ (AtomCamp) عمل درآمد کرے گی، جبکہ اسے حکومت کے تعاون سے کام کرنے والے اگنائٹ نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے ساتھ ساتھ پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) اور ٹیکنالوجی کمپنی ’ڈائل زیرو‘ کی معاونت حاصل ہوگی۔

میٹا کی ایشیا پیسیفک کے لیے ایسوسی ایٹ پبلک پالیسی مینیجر تہارا پنچی ہیوا نے کہا: ’میٹا میں ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ چھوٹے کاروبار صارفین تک پہنچنے اور اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے ہمارے اے آئی سے لیس ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’سمال بزنس گروتھ اکیڈمی کا مقصد زیادہ سے زیادہ کاروباری افراد کو عملی مہارتیں اور ضروری معاونت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ان ٹولز کو اعتماد کے ساتھ استعمال، زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ اور ڈیجیٹل معیشت سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔‘

میٹا اس سے قبل بھی پاکستان میں کاروباری افراد کی ڈیجیٹل مہارتیں بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر چکا ہے، جن میں خواتین کی ملکیت والے کاروباری اداروں پر توجہ مرکوز کرنے والے پروگرام بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی