کچھ جدائیاں ایسی ہیں جنہیں لفظ ’موت‘ بھی پوری طرح بیان نہیں کر سکتیں۔
ماضی سے لے کر تاحال گھروں میں جانوروں کو انتہائی محبت اور نگہداشت کے ساتھ ایک بچے کی طرح پالا پوسا اور جوان کیا جاتا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ سارے گھر کی رونق، سب کی آنکھوں کا تارا اور سب سے پیارا فیملی ممبر بھی بن جاتا ہے۔
ایک ایسا ایموشنل سپورٹ سسٹم بھی جو اس معاشرے کی ناآسودگی میں ایک ڈپریسڈ یا اکیلے انسان کو امن اور اطمینان کے ساتھ ساتھ محبت کا احساس بھی دیتا ہے۔ ایک گھر میں جب کوئی پالتو جانور آتا ہے تو ابتدا میں شاید وہ ایک ننھی سی مخلوق ہوتا ہے، جسے خوراک دینی ہوتی ہے، اس کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے اور اس کے لیے جگہ بنانی ہوتی ہے۔
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کچھ عجیب ہوتا ہے۔ وہ گھر میں رہنے والا جانور نہیں رہتا، گھر کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس کے آنے سے صبح کا ایک معمول بنتا ہے، اس کے قدموں کی چاپ سے گھر آباد محسوس ہوتا ہے، اس کی شرارتوں پر ہنسی آتی ہے، اس کی بیماری پر تشویش ہوتی ہے اور اس کی موجودگی خاموشی میں بھی ایک رفاقت کا احساس دیتی ہے۔ پھر ایک دن وہ چلا جاتا ہے اور گھر وہی رہتا ہے، مگر گھر جیسا نہیں رہتا۔
ایسے موقعے پر اگر کسی غم زدہ شخص سے کہا جائے، ’اتنا کیوں رو رہے ہو؟ جانور ہی تو تھا‘ تو شاید یہ جملہ کہنے والے کے لیے معمولی ہو، مگر سننے والے کے لیے یہ اس کے زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوتا ہے، کیونکہ جسے دنیا ’جانور‘ کہہ رہی ہوتی ہے، وہ کسی کے لیے برسوں کی محبت، رفاقت، پیاری سی ذمہ داری، فیملی ممبر یا گھر کا سب سے چھوٹا بچہ اور یادوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔
وہ کسی بچے کے بچپن کا ساتھی، کسی بزرگ کی تنہائی کا مداوا، کسی بیمار شخص کے لیے حوصلہ، کسی اکیلے دل کے لیے روزانہ کی ایک وجہ مسکراہٹ ہو سکتا ہے۔
انسانی رشتوں کی ایک عجیب خوبی ہے کہ ان کی قدر ہمیشہ نام سے نہیں ہوتی۔ کچھ رشتے خون کے ہوتے ہیں، کچھ نکاح سے بنتے ہیں، کچھ دوستی سے اور کچھ صرف مسلسل ساتھ رہنے سے۔ پالتو جانور کے ساتھ بننے والا تعلق بھی اسی انسانی جذباتی دنیا کا حصہ ہے۔
وہ زبان نہیں بولتا، مگر اپنے انداز میں محبت کا اظہار کرتا ہے۔ وہ ہمارے مسائل حل نہیں کرتا، مگر ہماری خاموشی میں ہمارے پاس بیٹھا رہتا ہے۔ اسے ہماری کامیابی سے کوئی مطلب نہیں، ہماری ناکامی پر کوئی فیصلہ نہیں، شاید اسی بے غرض تعلق کی وجہ سے اس کی موجودگی انسان کے دل میں اتنی گہری جگہ بنا لیتی ہے۔
اس لیے پالتو جانور کی وفات کے بعد پیدا ہونے والا خلا حقیقی اور نہایت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ گھر کے کسی کونے میں اس کا بستر موجود ہو تو انسان اسے دیکھ کر رک جاتا ہے۔ کھانے کا وقت آئے تو ہاتھ ایک لمحے کے لیے ٹھٹک جاتا ہے۔ دروازہ کھلے تو دل بے اختیار اس کے استقبال کی توقع کرتا ہے۔ کوئی آواز، کوئی تصویر، کوئی مخصوص جگہ یا معمول اچانک برسوں پرانی یاد سامنے لے آتا ہے۔
غم کی یہ کیفیت اس بات کا ثبوت نہیں کہ انسان نے ایک جانور کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے دی تھی، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے کسی جان دار کے ساتھ حقیقی تعلق قائم کیا تھا۔ اس کی جدائی انسان کی عادات تک تبدیل کر دیتی ہے۔ اس کا واک، ڈائننگ ٹیبل پارٹنر نہیں رہتا۔ اس کی تنہائی مزید بڑھ جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں غم کے بھی شاید اپنے پیمانے بنا دیے گئے ہیں۔ کچھ اموات پر رونا قابلِ فہم سمجھا جاتا ہے اور کچھ پر رونا لوگوں کو مبالغہ محسوس ہوتا ہے۔ مگر غم کا تعلق سماجی درجہ بندی سے نہیں، محبت کی گہرائی سے ہوتا ہے۔ ہم کسی شخص کو یہ حکم نہیں دے سکتے کہ وہ کس کو کتنا یاد کرے اور کتنے دن تک یاد کرے۔ جس دل نے کسی مخلوق کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا ہو، اسے اس کی جدائی کا سوگ منانے کا بھی حق ہے، خدارا اس کے دکھ کو ناپا نہیں جانا چاہیے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ’جانور‘ اور ’بے جان چیز‘ کے درمیان فرق کو سمجھیں۔ پالتو جانور سانس لیتا ہے، محسوس کرتا ہے، خوف محسوس کرتا ہے، مانوس ہوتا ہے، اپنے مالک کو پہچانتا ہے اور اپنے انداز میں محبت اور وابستگی کا اظہار کرتا ہے۔ ساتھ سوتا ہے جاگتا ہے کھاتا ہے اور اس کی جدائی پر روتا بھی ہے، بس بتا نہیں سکتا لیکن اس کی بدلتی ہوئی عادات سے پتہ ضرور چلتا ہے۔
جدید انسانی زندگی میں، جہاں تنہائی، بے مقصد مصروفیت اور سماجی فاصلے بڑھ رہے ہیں، ایسے جانور بہت سے لوگوں کو روزمرہ زندگی میں رفاقت اور ذمہ داری کا احساس فراہم کرتے ہیں۔ کسی گھر میں ایک بلی کا پرسکون بیٹھنا، کسی کتے کا دروازے پر انتظار کرنا یا کسی پرندے کی صبح کی آواز، بعض اوقات اس گھر کے ماحول کو ایسی زندگی دے دیتی ہے جو کسی آرائش سے پیدا نہیں کی جا سکتی۔
لیکن جانور سے محبت کا اصل امتحان صرف اسے پیار کرنے میں نہیں، اس کی ذمہ داری اٹھانے میں ہے۔ اگر ہم کسی جانور کو گھر لاتے ہیں تو ہمیں اس کی خوراک، صحت، صفائی، علاج، تحفظ اور بڑھتی ہوئی عمر کی ضروریات کو بھی سمجھنا چاہیے۔
پالتو جانور کوئی وقتی شوق یا گھر کی سجاوٹ نہیں۔ وہ ایک زندہ ذمہ داری ہے۔ اسے بیماری میں بھی ہماری ضرورت ہوتی ہے، بڑھاپے میں بھی اور اس وقت بھی جب اس کی شرارتیں کم ہو جائیں اور اس کی دیکھ بھال پہلے سے زیادہ محنت طلب ہو جائے۔ محبت وہی ہے جو آسان دنوں کے ساتھ مشکل دنوں میں بھی قائم رہے۔
یہ احساس صرف گھریلو جانوروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے اردگرد موجود پرندے، تتلیاں، شہد کی مکھیاں، کیڑے مکوڑے، درخت اور دوسری مخلوقات ایک وسیع قدرتی نظام کا حصہ ہیں۔ اگر ہم ہر خالی جگہ پر تعمیرات کھڑی کر دیں، درخت کاٹ دیں، پانی کے قدرتی ذرائع ختم کر دیں اور پرندوں اور دوسری مخلوقات کے لیے کوئی جگہ نہ چھوڑیں تو ہم صرف فطرت کو نقصان نہیں پہنچاتے، اپنے ہی ماحول کو کم زندہ اور کم متوازن بناتے ہیں۔ درخت صرف سایہ نہیں دیتے، پرندے صرف آواز نہیں دیتے اور تتلیاں صرف خوبصورتی نہیں بڑھاتیں، یہ سب ایک پیچیدہ قدرتی نظام کے حصے ہیں جس پر انسانی زندگی بھی منحصر ہے۔
شہری زندگی میں جانوروں اور پرندوں کی موجودگی ہمیں اپنی انسان مرکز سوچ سے باہر دیکھنے کا موقع دیتی ہے۔ بالکونی میں پانی کا ایک برتن، مناسب جگہ پر چند پودے، درختوں کی حفاظت، پرندوں کے لیے محفوظ ماحول اور آوارہ جانوروں کے ساتھ بے رحمی سے گریز، یہ چھوٹے کام بظاہر معمولی ہیں، مگر اجتماعی طور پر ایک زیادہ مہربان اور متوازن ماحول پیدا کرتے ہیں۔ انسان اگر خود کو فطرت کا مالک سمجھنے کے بجائے اس کا ذمہ دار حصہ سمجھے تو شاید ہماری بستیاں بھی زیادہ خوبصورت اور زندگی بھی زیادہ نرم ہو جائے۔
اور پھر وہ دن آتا ہے جس کے بارے میں ہر پالتو جانور رکھنے والے کو کبھی نہ کبھی سوچنا پڑتا ہے۔ عمر، بیماری یا حادثہ اسے ہم سے جدا کر دیتا ہے۔ اس وقت خاندان کو صرف جانور کی موت کا سامنا نہیں ہوتا اسے اپنے روزمرہ کے ایک حصے کے اچانک ختم ہو جانے کا سامنا ہوتا ہے۔
بچوں کے لیے یہ پہلی موت کا تجربہ بھی ہو سکتا ہے۔ انہیں یہ سمجھانے کے بجائے کہ ’کچھ نہیں ہوا‘ ان کے غم کو تسلیم کرنا زیادہ صحت مند رویہ ہے۔ انہیں یادیں بیان کرنے دیں، سوال کرنے دیں، آنسو بہانے دیں۔ موت کو سمجھنے کا یہ تجربہ بھی زندگی کی تربیت کا حصہ ہے۔
شاید ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کسی جانور کی موت پر بہنے والے آنسو صرف اس جانور کے لیے نہیں ہوتے۔ ان میں ایک ساتھ گزارا ہوا وقت، صبحیں، شامیں، بیماریاں، شرارتیں، خاموشیاں، تصاویر، انتظار اور بے شمار چھوٹی چھوٹی خوشیاں شامل ہوتی ہیں۔
انسان جب کسی پالتو جانور کو کھوتا ہے تو وہ صرف ایک مخلوق نہیں کھوتا، وہ اپنی زندگی کے ایک ایسے باب کو الوداع کہتا ہے جسے دوبارہ جیا نہیں جا سکتا۔
اس لیے اگر کسی کے گھر کا پالتو جانور مر جائے تو شاید اتنا کہنا کافی ہو: ’مجھے افسوس ہے، میں جانتا ہوں وہ آپ کے لیے بہت اہم تھا۔‘ کبھی کبھی چند نرم الفاظ کسی غم کو ختم نہیں کرتے، مگر اسے برداشت کرنے کے قابل ضرور بنا دیتے ہیں۔
اور جو لوگ آج کسی پالتو جانور کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ اس تعلق کو معمولی نہ سمجھیں۔ اس کی تصویریں بنائیں، اس کے ساتھ وقت گزاریں، اس کی صحت کا خیال رکھیں، اسے صرف اس وقت محبت نہ دیں جب وہ پیارا اور چنچل ہو بلکہ بیماری اور بڑھاپے میں بھی اس کے ساتھ رہیں۔ کیونکہ ایک دن گھر کا وہ ننھا سا وجود شاید خاموشی سے رخصت ہو جائے گا اور پھر اس کی موجودگی نہیں بلکہ اس کے ساتھ گزارا ہوا وقت آپ کے پاس رہ جائے گا۔
آخرکار، کسی معاشرے کی تہذیب کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاتا ہے کہ وہ بے زبان مخلوقات کے ساتھ کتنی شفقت رکھتا ہے۔ جو دل ایک جانور کی محبت کو سمجھ سکتا ہے، وہ شاید دنیا میں موجود زندگی کی قدر بھی زیادہ گہرائی سے سمجھ سکتا ہے۔ پالتو جانور ہمارے گھر کا فرش، صوفہ یا صحن نہیں بھرتے، وہ ہماری زندگی میں ایک ایسی موجودگی پیدا کرتے ہیں جو الفاظ سے کہیں زیادہ خاموش اور گہری ہوتی ہے۔
وہ جانور ضرور تھا، مگر کسی کے لیے صرف جانور نہیں تھا۔ وہ ایک عادت تھا، ایک ذمہ داری تھا، ایک ساتھی تھا، ایک یاد تھا، ایک بے زبان محبت تھا اور کبھی کبھی، کسی گھر کی دھڑکن بھی۔