ڈیو کو آج کل اسلام آباد کی ٹھنڈ میں ہیٹر کے سامنے سونا بہت پسند ہے اور وہ بھی میرے لحاف پر۔
ادھر ہیٹر چلا اور ادھر ڈیو نیم دراز۔ ڈیو کو ہم نے تین سال پہلے ایک یونیورسٹی سٹوڈنٹ سے گود لیا تھا، جب یہ چند ماہ کی تھی۔ گھر میں اب ہم کل پانچ افراد بشمول ڈیو رہتے ہیں۔
ڈیو ہمارے ساتھ خوش رہتی ہے، ہمیں دیکھ کر بستر یا صوفے پر اپنے پیروں سے خوشی میں ’بسکٹ‘ بناتی ہے۔ گھر یا اطراف سے کوئی زور کی آواز آئے تو خوف سے اس کا دم پھول جاتا ہے، جو اس کے خوف زدہ ہونے کی نشاندہی ہے۔
اگر اس کا لٹر باکس کبھی صاف نہ ہو تو وہ اظہارِ ناراضگی میں جہاں دل چاہے وہیں فارغ ہو لیتی ہے۔ بارش اور طوفان کی آواز کے ساتھ جیسے دبک کر ایک طرف بیٹھ جاتی ہے اور جب فرطِ جذبات سے بھرپور ہو تو دیوار کے ایک سرے سے دوسرے تک چھلانگیں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
یہ سب ڈیو کے وہ ایکسپریشن ہیں، جو اس بلی کی مختلف ذہنی کیفیات کو بیان کرتے ہیں۔
لیکن جب ڈیو کی سرجری کروا کے اسے بچے پیدا کرنے سے ہمیشہ کے لیے روک لگائی گئی تو وہ جیسے خاموش اور کھوئی کھوئی سی ہو گئی۔
وہ اپنا زخم نہ کرید سکے، اس لیے اسے گردن میں بڑا کالر پہنانا پڑا۔ وہ بالکل چپ میرے تکیوں کے درمیان اپنے دن اور رات بسر کرتی، صرف فراغت کے لیے حرکت میں آتی۔
وہ دن ہمارے لیے بھی جیسے اداس سے تھے۔ ہم نے اس کے ڈاکٹر سے جب اس بارے میں دریافت کیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ ’ابھی اس کو سرجری کی تکلیف سے گزرنا پڑ رہا ہے، بس اس کے زخم کو صاف رکھیں، دوا اور وٹامن وقت سے دیتے رہیں۔‘ یوں وہ پانچ ہفتے گزرے۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ غیر پالتو جانوروں کے لیے بھی اگر ان کے تولیدی عمل کو سرجری کرا کے روکا جا سکے تو ان کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں اور ان کی تعداد کو کنٹرول بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ حفاظتی ٹیکے بھی سرکاری سطح پر لگائے جانا ایسے جانوروں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے اہم ہے۔
اسلام آباد میں برسوں سے قائم ’پیٹس اینڈ ویٹس‘ کے ماہر ویٹ جناب عمر طیب کا ماننا ہے کہ کسی بھی جانور، خاص کر اپنے پالتو یا اطراف میں موجود کتے اور بلی کو اگر غیر معمولی طور پر بی ہیو کرتے دیکھیں تو نظر انداز نہ کریں۔ ہو سکتا ہے کہ انہیں آپ کی توجہ کی ضرورت ہو۔
’اگر کوئی پالتو جانور اپنے لٹر سے سوا کہیں بھی فراغت کی عادت میں چلا جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ دیگر جانور جان لیں کہ یہ اس کا احاطہ ہے اور وہ اس جگہ سے دور رہیں۔ کیونکہ بلی اور کتوں کو اپنی جگہ پر قابض رہنے کی عادت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس سڑکوں پر آزاد پھرنے والے جانور جتھوں یا گروہ میں چلنے، کھانے اور سونے کے عادی ہوتے ہیں۔‘
ڈاکٹر عمر کے مطابق: ’اسٹرے یا غیر پالتو جانوروں کی ذہنی کیفیات یا عارضوں کا اخذ کرنا آسان نہیں ہوتا، ماسوائے کہ آپ کسی جانور کو اپنے مشاہدے میں لے چکے ہوں۔ لیکن اگر کسی غیر پالتو جانور کو کمزور، تنہا، بیمار، بھوکا یا تکلیف میں دیکھیں تو انسانیت کے ناطے اس کو نظر انداز نہ کریں۔‘
انسانیت کے ناطے ہم ریسکیو گروپس سے رابطہ کر کے ان بے زبانوں کا بروقت علاج کروا سکتے ہیں۔
’آرچی‘ نامی فی میل ڈاگ کو ڈاکٹر فائقہ نے اپنے محلے ہی میں اس وقت سرپرستی میں لیا، جب ان کے گیٹ کے باہر آرچی کچھ دن سے دراز تھی اور اس کے پیر میں ’مگٹس‘ یا کیڑے پڑ چکے تھے اور اس کی ٹانگ سڑنا شروع ہو گئی تھی۔
اس کو ذہنی عارضہ تو نہ تھا لیکن ذہنی طور پر بکھری ہوئی ضرور تھی۔ بھوک، پیاس اور کھیل کود سے کوسوں دور، ایک منتشر ذہن کے ساتھ وہ ڈاکٹر فائقہ اور ان کی بیٹی کی توجہ کا مرکز تھی۔ ٹانگ میں کیڑوں کے باعث وہ بیمار اور بہت کمزور تھی۔ اس کی جان بچانے کے لیے ’پیٹس اینڈ ویٹس‘ اسلام آباد میں اس کی ٹانگ کی سرجری کی گئی اور ٹانگ کو کاٹنا پڑا تھا۔
پہلے تین دن تو اینستھیزیا کے نشے میں اسے ہسپتال میں ہی رکھا گیا اور پھر جب گھر لائے اور وہ بے ہوشی سے جاگی تو اپنی ٹانگ اٹھانے کی کوشش کرتی اور اس کا ذہن یہ سمجھ ہی نہیں پاتا تھا کہ اس کی ایک ٹانگ تو اب کاٹی جا چکی ہے۔
نہ صرف آرچی تکلیف سے بلبلا اٹھتی تھی بلکہ اس کو دیکھ کر ڈاکٹر فائقہ اور ان کی بیٹی بھی رو پڑتے تھے۔ اس کو اپنی چال بیلنس کرنے میں وقت لگتا تھا۔ وہ ایک کالر پہنے سارا دن پڑی رہتی تھی۔ یاد رہے کہ جانوروں کو درد کی گولی نہیں دی جا سکتی۔
اس کو گرتے پڑتے دیکھنا اور سنبھالنا اپنے آپ میں ذہنی دباؤ سے کم نہ تھا۔ آج آرچی اپنے اسی ایک پیر کے ساتھ چلنا پھرنا سیکھ گئی ہے اور ڈاکٹر صاحبہ کے گھر ایک آرام دہ زندگی گزار پا رہی ہے۔
یہ بھی ضرور سمجھنا چاہیے کہ جس طرح کسی مریض کو سنبھالا جاتا ہے، اسی طرح ایک بے زبان کی تیمارداری بھی انتہائی انہماک اور صفائی سے کی جانی چاہیے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انسان ہو یا جانور، سبھی توجہ اور پیار کے متلاشی ہوتے ہیں اور اگر یہ نہ ملیں تو ان پر اداسی اور ہیجان کے پہرے پڑ جاتے ہیں۔ اور ڈاکٹر عمر کا ماننا ہے کہ پالتو جانوروں میں ذہنی امراض بے توجہی اور کسی قسم کی جسمانی تکلیف کے باعث رونما ہوتے ہیں۔
یہاں یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ذہنی امراض کا شکار عموماً بچے دینے والے جانور ہوتے ہیں، جن کے اذہان پیچیدہ اور جذبات سے بھرے ہوتے ہیں۔ جن میں ڈپریشن، اینگزائٹی اور جدائی کا دکھ شامل ہوتا ہے۔ لیکن ان سب کی نوعیت انسانی سرشت سے مختلف ہوتی ہے۔
دوسری جانب ’مائیلو‘ کی کہانی بھی سناتی چلوں۔ انہیں بحرین میں مقیم ایک پاکستانی گھرانے نے ریسکیو کیا تھا۔ وہ ایک بریڈر سے ریسکیو کیا گیا تھا۔ مائیلو اپنے بہن بھائیوں کی جدائی کے دکھ کو سہہ رہا تھا۔
مائیلو کو اس گھرانے کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے میں کئی ماہ لگ گئے۔ آج بھی مسز عباسی کے گھر والے کہیں جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں تو مائیلو خوفزدہ ہو کر کسی کونے کھدرے میں گوشہ نشین ہو جاتا ہے۔
مائیلو کو جب اپنے ویٹ کے پاس گرومنگ یا علاج کے لیے جانا ہو تو اسے پنجرے میں ڈالنا بھی ایک محنت طلب کام ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے اس نئے گھر سے کہیں جانے کو ذہنی طور پر سمجھ نہیں پاتا اور جدائی کے خوف سے دوچار ہو جاتا ہے۔
بقول مسز سمن عباسی: ’پالتو جانور آپ کے وہ بچے ہوتے ہیں جو کبھی بڑے نہیں ہوتے۔‘ پالتو جانور، مہمان جانوروں کے آپ کے گھر آ جانے سے بھی خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے ’علاقے‘ میں کسی اور کو تسلیم نہیں کر پاتے۔ اپنے ماحول اور پالنے والے کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔
جانور پالتو ہوں یا غیر پالتو، یہ بے زبان مخلوق ہم اشرف المخلوقات کی انسانیت اور توجہ کی متلاشی ہوتی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔