رمضان کے آتے ہی پاکستان بھر میں افطار کے دستر خوان طرح طرح کے کھانوں اور مشروبات سے سج جاتے ہیں لیکن میانوالی کے تاریخی شہر کالا باغ میں افطار کی ایک ایسی منفرد سوغات تیار کی جاتی ہے جس کا ذائقہ صدیوں سے لوگوں کے دلوں پر راج کر رہا ہے۔
پاپڑ سے ملتی جلتی یہ نمکین چیز ’کھار وڑی‘ کہلاتی ہے جو خالص اور قدرتی اجزا سے تیار کی جاتی ہے، اور انتہائی ذائقہ دار ہوتی ہے۔
کالا باغ کی ایک مقامی خاتون عزیزاں بی بی کے مطابق ان کے گھر میں کئی دہائیوں سے روزانہ کی بنیاد پر روزہ داروں کے لیے کھار وڑی تیار کی جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کھار وڑی بنانے کی روایت قیام پاکستان سے بھی پہلے ہندو دور سے چلی آ رہی ہے۔
کھار وڑی بنانے کا طریقہ بھی خاصہ منفرد ہے۔ رات کو میدہ اور تھوڑا سا سوڈا پانی میں بھگو کر رکھا جاتا ہے اور صبح اس میں مزید پانی، سرخ مرچ، نمک، دھنیا اور سفید زیرہ شامل کر کے آگ پر پکایا جاتا ہے اور مسلسل چمچ ہلاتے ہوئے اسے گاڑھا کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے بعد سرسوں کا تیل چٹائی پر ڈال کر اس گاڑھے آمیزے کو پھیلا دیا جاتا ہے۔ خشک ہونے کے بعد یہ خود ہی چٹائی سے الگ ہو جاتی ہے۔
افطار سے کچھ دیر پہلے اسے گھی یا تیل میں تل کر تیار کیا جاتا ہے اور روزہ داروں کو پیش کیا جاتا ہے۔
کالا باغ کی یہ روایتی کھار وڑی نہ صرف مقامی لوگوں کی پسندیدہ سوغات ہے بلکہ عید کے موقع پر عزیز و اقارب اور بیٹیوں کو تحفے کے طور پر بھی دی جاتی ہے۔
یہاں آنے والے لوگ اسے بیرون ملک بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔ اگرچہ رمضان میں اس کی مانگ خاص طور پر بڑھ جاتی ہے، لیکن کالا باغ کے گھروں میں یہ عام دنوں میں بھی شوق سے کھائی جاتی ہے۔