ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ 18ویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس
رات 10 بجکر 25 منٹ: لاریجانی کے قاتلوں کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی، مجتبیٰ خامنہ ای
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بدھ کو ایک تحریری پیغام میں کہا ہے کہ اسرائیلی حملے میں جان سے جانے والے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کے قاتلوں کو ’اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔‘
مجتبیٰ خامنہ ای نے تہران میں لاریجانی کی تدفین کے موقع پر اپنے سرکاری ٹیلیگرام چینل پر شائع ہونے والے ایک پیغام میں کہا، ’بلا شبہ، ایسی شخصیت کا قتل ان کی اہمیت اور اس نفرت کی گواہی دیتا ہے جو اسلام کے دشمن ان کے لیے رکھتے ہیں۔‘
جنگ کے آغاز میں اپنے والد، سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے بعد اقتدار سنبھالنے کے بعد ابھی تک عوام کے سامنے آنے والے مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا، ’بہائے گئے خون کا ہر قطرہ قیمت پر آتا ہے، اور ان شہدا کے مجرم قاتلوں کو جلد ہی اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔‘
سات بج کر 41 منٹ: ایران خلیج بھر میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے گا: پاسدارانِ انقلاب
ایرانی خبررساں ادارے تسینم کے مطابق ایرانی فوج نے کہا ہے کہ وہ ایک بڑی گیس فیلڈ پر اپنی تنصیبات پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد خلیج بھر میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے گی۔
فوج کی آپریشنل کمانڈ خاتم الانبیا نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ’جارحیت کے منبع پر شدید وار کرے گی اور ان ممالک کے ایندھن، توانائی اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے پر غور کرے گی‘ جہاں سے یہ حملے کیے گئے۔
تسنیم نے ان ’جائز اہداف‘ کی ایک فہرست شائع کی ہے جس میں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی تیل اور گیس کی تنصیبات شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہیں ’آنے والے گھنٹوں میں نشانہ بنایا جائے گا۔‘ ایران خلیجی ریاستوں پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ امریکی افواج کو اپنی سرزمین سے حملے کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔
سات بج کر 27 منٹ: ایران خلیج میں توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنائے گا
اے ایف پی کے مطابق ایرانی فوج نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ ایک بڑی ایرانی گیس فیلڈ پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد خلیج بھر میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے گی۔
فوج کی آپریشنل کمانڈ خاتم الانبیا نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ’جارحیت کے منبع پر شدید وار کرے گی اور ان ممالک کے ایندھن، توانائی اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے پر غور کرے گی‘ جہاں سے یہ حملے کیے گئے۔
ایران خلیجی ریاستوں پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ امریکی افواج کو اپنی سرزمین سے حملے کرنے کی اجازت دیتی ہیں، اور ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے ’جائز اہداف‘ کی ایک فہرست شائع کی ہے جس میں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی تیل اور گیس کی تنصیبات شامل ہیں۔ ٹی وی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہیں ’آنے والے گھنٹوں میں نشانہ بنایا جائے گا۔‘
شام 7 بجکر 10 منٹ: تل ابیب میں دھماکوں کی آواز سنی گئی، اے ایف پی
اے ایف پی کے ایک صحافی نے بدھ کو تل ابیب کے علاقے میں زور دار دھماکوں کی آواز سنی، جبکہ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اسے ایران سے فائر کیے گئے میزائلوں کا پتہ چلا ہے۔
اے ایف پی کی لائیو فوٹیج نے دکھایا کہ پہلے پہنچنے والے ریسکیو ورکرز تل ابیب کے قریب رامات گان میں ایک اثرانداز ہونے والے مقام پر کام کر رہے تھے۔
اسرائیل کے میگن ڈیوڈ ایڈوم ایمرجنسی سروسز نے کہا کہ ہلاکتوں کی کوئی ابتدائی اطلاع نہیں ہے۔
شام 7 بجے: مشرق وسطیٰ کی جنگ نے امریکہ، اسرائیل کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں، سویڈش انٹیلیجنس
سویڈن کی انٹیلی جنس سروس نے بدھ کو کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ امریکی اور اسرائیلی مفادات کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کا باعث بنی ہے، لیکن اس بات پر زور دیا کہ روس ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
سویڈن کی سکیورٹی سروس (ساپو) کی سربراہ شارلٹ وون ایسن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’کئی سال پیچھے جائیں تو، ہمیں سویڈن میں سکیورٹی کی سنگین صورتحال رہی ہے۔ اور ایران اور مشرق وسطیٰ میں حالیہ پیش رفت کے ساتھ، دنیا بھر میں سکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے، اور اس کا اثر ہم پر بھی پڑتا ہے۔
’حالیہ پیش رفت نے ایرانی رجیم کے رویے کی پیشین گوئی کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔‘
ساپو نے اس سے قبل روس اور چین کے ساتھ ساتھ ایران کو ملک کے لیے ایک اہم خطرہ قرار دیا ہے۔
شام 6 بجکر 50 منٹ: ایران کے آپریشنل نیوکلیر پاور پلانٹ پر میزائل گرا، آئی اے ای اے
اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے نے بدھ کو کہا کہ ایرانی حکام نے ملک کے واحد آپریشنل نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ایک میزائل کے لگنے کی اطلاع دی تھی لیکن اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔
ویانا میں قائم ایجنسی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ ’انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کو ایران کی طرف سے مطلع کیا گیا ہے کہ منگل کی شام بوشہر این پی پی کے احاطے پر ایک میزائل مارا گیا۔
The IAEA has been informed by Iran that a projectile hit the premises of the Bushehr NPP on Tuesday evening. No damage to the plant or injuries to staff reported. Director General @RafaelMGrossi reiterates call for maximum restraint during the conflict to prevent risk of a… pic.twitter.com/fhze0vOqrQ
— IAEA - International Atomic Energy Agency (@iaeaorg) March 18, 2026
’پلانٹ کو کوئی نقصان یا عملے کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے ’جوہری حادثے کے خطرے سے بچنے کے لیے تنازع کے دوران تحمل سے کام لینے کی اپنی کال کا اعادہ کیا۔‘
روس، جس نے پلانٹ کی تعمیر میں مدد کی تھی اور اس کے پاس سائٹ پر عملہ موجود ہے، نے کہا کہ اسے پلانٹ کے اندرونی حصے پر میزائل حملے کی اطلاع ملی ہے اور اس حملے کو ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔
5 بجکر 30 منت: روس کی علی لاریجانی کے اسرائیلی حملے میں مارے جانے کی مذمت
روس نے اسرائیلی فضائی حملے میں ایرانی سکیورٹی چیف علی لاریجانی کے مارے جانے کی مذمت کی ہے، جبکہ تہران نے جان سے جانے والے فوجی اہلکار کے قتل کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بدھ کو روزانہ کی بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا، ’ہم جسمانی نقصان پہنچانے والے اقدامات کی سختی سے مذمت کرتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ، خودمختار ایران کی قیادت کے قتل کی۔ ہم ایسے اقدامات کی مذمت کرتے ہیں۔‘
ایران کے سرکاری میڈیا نے منگل کو تصدیق کی تھی کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی اور بسیج نیم فوجی فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی گذشتہ رات ایک اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔
4 بجکر 40 منٹ: ایرانی خواتین فٹ بالرز وطن واپسی کے لیے ترکی پہنچ گئیں
ایرانی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم منگل کو استنبول کے ہوائی اڈے پر اتری جب وفد کے کئی ارکان نے آسٹریلیا میں پناہ کی درخواستیں واپس لے کر وطن آنے کا فیصلہ کیا۔
ترکی کی خبر رساں ایجنسی ڈی ایچ اے کی فوٹیج میں کھلاڑیوں کو، ایرانی قومی ٹیم کے ٹریک سوٹ پہنے، استنبول ایئرپورٹ پر پہنچنے والے علاقے سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا۔
یہ کھلاڑی عمان اور کوالالمپور کے راستے ترکی پہنچے جہاں وہ ایشین کپ میں حصہ لے رہے تھے۔
ان میں سے ایک نے پیر کو کوالالمپور ہوائی اڈے پر اے ایف پی کو بتایا، ’میں اپنے خاندان کو یاد کر رہای ہوں۔‘
ڈی ایچ اے کے مطابق کھلاڑی پولیس کی نگرانی میں استنبول ایئرپورٹ سے نکلے اور شہر کے ایک ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے۔
ترک خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ کھلاڑی بدھ کو ایران واپس جائیں گی۔
وفد کے سات ارکان نے گذشتہ ہفتے آسٹریلیا میں سیاسی پناہ کی درخواست کی تھی جب انہیں خواتین کے ایشین کپ کے افتتاحی میچ میں قومی ترانہ گانے سے انکار کرنے پر اپنے ملک میں ’غدار‘ قرار دیا گیا تھا۔
باقیوں کے ذہن بدلنے کے بعد صرف دو کھلاڑی آسٹریلیا میں رہ گئی ہیں۔
شام 4 بجکر 30 منٹ: حزب اللہ کے المنار ٹی وی کے ڈائریکٹر بیروت پر اسرائیلی حملے میں مارے گئے
حزب اللہ کے المنار ٹی وی نے کہا ہے کہ اس کے سیاسی پروگراموں کے ڈائریکٹر بدھ کو وسطی بیروت پر اسرائیلی حملوں میں اپنی اہلیہ کے ساتھ مارے گئے۔ اس حملے میں لبنانی حکام کے مطابق کم از کم 12 افراد جان سے گئے۔
ایک بیان میں، چینل نے کہا کہ ’چینل کے سیاسی پروگراموں کے ڈائریکٹر محمد شیری اور ان کی اہلیہ‘ بیروت کے علاقے ذوق البلات پر صہیونی حملے میں مارے گئے۔
المنار کے مطابق، حملے میں ان کے بچے اور پوتے زخمی ہوئے اور ہسپتال میں داخل ہوئے۔
اسرائیل نے بدھ کو وسطی بیروت کے تین مختلف محلوں پر حملہ کیا، ان میں سے ایک کو پیشگی انتباہ دیا گیا تھا لیکن دوسرے اس کے بغیر تھے۔
لبنان 2 مارچ کو مشرق وسطیٰ کی جنگ میں اس وقت کھینچا گیا جب عسکریت پسند گروپ حزب اللہ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل پر راکٹ داغے۔
المنار نے کہا کہ شیری کی حال ہی میں سرجری ہوئی تھی اور وہ صحت یاب ہو رہے تھے۔
3 مارچ کو ایک اور اسرائیلی حملے نے بیروت کے جنوبی مضافات میں المنار کے دفتر کو نشانہ بنایا تھا، یہ ایک گنجان آباد حزب اللہ کا گڑھ ہے جسے موجودہ جنگ کے آغاز سے اسرائیل نے نشانہ بنا رکھا ہے۔ اس دن حزب اللہ کے النور ریڈیو کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
چار بجے: اسرائیلی فوج کو منظوری کے بغیر ایرانی عہدے داروں کو نشانہ بنانے کا اختیار ہے: وزیرِ دفاع
کاٹز نے مزید کہا کہ فوج کو مزید کسی منظوری کے بغیر کسی بھی اعلیٰ ایرانی عہدیدار کو نشانہ بنانے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
کاٹز نے کہا، ’وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو اور میں نے اسرائیلی فوج کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اعلیٰ ایرانی عہدیدار کو ختم کر دے جس کے خلاف انٹیلی جنس اور آپریشنل گھیرا مکمل ہو چکا ہو، اور اس کے لیے کسی اضافی منظوری کی ضرورت نہیں ہو گی۔‘
’ہم انہیں ناکام بنانے اور ان سب کو ڈھونڈ کر مارنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔‘
دن ساڑھے تین بجے: ایرانی انٹیلی جنس منسٹر اسماعیل خطیب کو قتل کر دیا گیا: اسرائیل کا دعویٰ
اے ایف پی کے مطابق وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب کو قتل کر دیا ہے۔
کاٹز نے ایک بیان میں کہا کہ ’گذشتہ رات ایران کے انٹیلی جنس منسٹر اسماعیل خطیب کو بھی ختم کر دیا گیا۔
آئی ڈی ایف نے ابھی تک اس حملے کی تصدیق کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
اسماعیل خطیب 1961 میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے قم سے مذہبی تعلیم حاصل کی جہاں وہ علی خامنہ ای کے شاگرد تھے۔ وہ اگست 2021 سے ایران کے وزیر برائے انٹیلی جنس ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے 2022 میں اسماعیل خطیب پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ یہ پابندیاں ایرانی انٹیلی جنس کی وزارت کی جانب سے ’امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سائبر سرگرمیوں‘ کی وسیع پیمانے پر سرپرستی کرنے پر لگائی گئیں۔
امریکہ کے مطابق ان کی قیادت میں وزارت نے تہران کے سیاسی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے جاسوسی اور رینسم ویئر حملے کرنے والے متعدد سائبر نیٹ ورکس کو ہدایات دیں۔
دن دو بج کر 55 منٹ: لاریجانی کے قتل پر افسوس، سفارت کاری کو ترجیح دیں: پاکستانی صدر
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بدھ کو ایک بیان میں اسرائیل کے ایران پر جاری حملوں کے دوران سینیئر ایرانی رہنما ڈاکٹر علی لاریجانی کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کی ہے۔
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔
آصف زرداری نے کہا کہ جاری کشیدگی انسانی جانوں اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا رہی ہے، جس سے سنگین معاشی اثرات اور خطے میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔
پاکستانی صدر نے فوری تحمل اور جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’صورت حال جلد مستحکم ہو گی اور مزید جانی نقصان اور علاقائی پھیلاؤ سے پہلے امن بحال ہو جائے گا۔‘
صدر نے کہا کہ ’پاکستان کشیدگی میں کمی اور امن کے فروغ کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتا ہے، اور خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی اقدامات میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
دن 1 بج کر 30 منٹ: علاقائی صورت حال پر ریاض میں ہنگامی اجلاس، پاکستان کی شرکت
پاکستان کے دفتر خارجہ نے بدھ کو بتایا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ کی دعوت پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار آج دو روزہ دورے پر ریاض روانہ ہوں گے جہاں وہ علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار 18 سے 19 مارچ تک ریاض کا دورہ کریں گے۔
بیان کے مطابق اجلاس کے دوران اسحاق ڈار خطے کے تمام برادر ممالک کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سیاسی آزادی کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کریں گے، اور ان کی سرزمین پر ہونے والے تمام حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کریں گے۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار ریاض میں ہونے والے اجلاس میں اس وقت خطے میں جاری تنازع کے فوری خاتمے کے لیے پاکستانی مؤقف دہراتے ہوئے مکالمے اور سفارت کاری کی جانب واپسی کی ضرورت پر زور دیں گے۔
دن 12 بج کر 55 منٹ: آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے اہداف کو 5000 پاؤنڈ وزنی بموں سے نشانہ بنایا: امریکہ
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف کو طاقتور بموں سے نشانہ بنایا گیا۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں سینٹ کام نے منگل کو کہا کہ امریکی افواج نے کامیابی کے ساتھ 5000 پاؤنڈ یا 2200 کلوگرام وزنی ڈیپ پینیٹریٹر بم ایران کے ساحلی علاقوں میں، آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی میزائل سائٹس پر گرائے۔
Hours ago, U.S. forces successfully employed multiple 5,000-pound deep penetrator munitions on hardened Iranian missile sites along Iran’s coastline near the Strait of Hormuz. The Iranian anti-ship cruise missiles in these sites posed a risk to international shipping in the… pic.twitter.com/hgCSFH0cqO
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 17, 2026
بیان میں کہا گیا کہ جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہاں موجود ایرانی اینٹی شپ کروز میزائل آبنائے ہرمز میں بین الاقومی شپنگ کے لیے خطرہ تھے۔
امریکی ایئرفورس کی ایک ویب سائٹ کے مطابق GBU-72 بنکر بسٹر بم سے زیر زمین اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھت ہیں اور انہیں لڑاکا طیاروں اور بڑے بمبار جہازوں کے ذریعے داغا جا سکتا ہے۔
دن 12 بج کر 15 منٹ: پاکستان مشرق وسطیٰ میں حالیہ تناؤ کم کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں حالیہ تناؤ میں کمی کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے الجزیرہ کو دیے انٹرویو میں مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی استحکام کے لیے اپنے ملک کے ’اہم کردار‘ پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان ایک ذمہ دار علاقائی شراکت دار کے طور پر خطے میں امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر اطلاعات نے ایران میں موجودہ صورتحال میں کمی اور مزید عدم استحکام کو روکنے کے لیے ’مخلصانہ خواہش کا اظہار کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ھویل تعلقات کے باعث پاکستان ہر ممکنہ مدد کے لیے آگے بڑھنے کو تیار ہے۔‘
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں ہم خطے کے ممالک کے ساتھ ثالث کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘
صبح 9 بج کر 20 منٹ: اسرائیل کے لیے جاسوسی پر ایران میں ایک شخص کو سزائے موت: رپورٹ
اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام پر ایک شخص کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے بدھ کو کہا ہے کہ اس شخص کو اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کو ایران کے حساس مقامات کی تصاویر اور معلومات فراہم کرنے کا ’مجرم‘ قرار دیا گیا تھا۔
ایران کی میزان نیوز ایجنسی کے مطابق اس شخص کی شناخت کوروش کیوانی کے نام سے ہوئی ہے۔
اسرائیل کے ساتھ دہائیوں پر محیط خفیہ کشیدگی کے دوران، ایران نے متعدد افراد کو سزائے موت دی ہے جن پر موساد سے روابط رکھنے اور ملک کے اندر اس کی کارروائیوں میں مدد دینے کے الزامات تھے۔
صبح 8 بج کر 55 منٹ: پی آئی اے کی فجیرہ کے لیے پروازیں معطل
پاکستانی ایئر لائن پی آئی اے نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ خلیجی ممالک کی سکیورٹی صورتحال کے مد نظر اگلے 48 گھنٹوں کے لیے فجیرہ کے لیے پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں فی الحال صرف العین کے لیے آپریٹ کی جائیں گی۔
یہ فیصلہ امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں میں شدت کے باعث کیا گیا ہے۔
صبح 8 بج کر 30 منٹ: جنگ کے اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی: عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مزید مغربی عہدیداروں کو اس تنازع کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔
عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا: ’عالمی سطح پر اثرات کی لہر ابھی شروع ہی ہوئی ہے اور یہ سب کو متاثر کرے گی — چاہے دولت، مذہب یا نسل کچھ بھی ہو۔‘
انہوں نے اس پوسٹ کے ساتھ امریکہ کے قومی انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر کے استعفے کے اعلان کی ایک نقل بھی شیئر کی، جو منگل کو اس جنگ کے باعث سامنے آیا۔
ایرانی وزیر نے مزید کہا ہے کہ ’آوازوں کی بڑھتی ہوئی تعداد — جن میں یورپی اور امریکی عہدیدار بھی شامل ہیں — یہ کہہ رہی ہے کہ ایران کے خلاف جنگ ناانصافی ہے۔ عالمی برادری کے مزید ارکان کو بھی اسی راستے پر چلنا چاہیے۔‘
صبح 8 بج کر 25 منٹ: ایانی حملوں میں دو اسرائیلی ہلاک
اسرائیل میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو ایران سے میزائل حملے کے نتیجے میں مرکزی تل ابیب کے قریب دو افراد مارے گئے ہیں۔ جبکہ شہر کے ایک ریلوے سٹیشن پر شیل کے ٹکڑے گرنے کے سے ریلوے کمپنی نے آپریشن معطل کر دیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ رات کے وقت ہونے والے اس حملے میں گرنے والے میزائیلوں نے وسطی اسرائیل میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے باعث علاقے بھر میں فضائی حملے کے سائرن بجتے رہے۔
تازہ ہلاکتوں کے بعد گذشتہ ماہ کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل پر میزائل حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے۔
صبح 8 بجے: ایران نے امریکہ سے جنگ بندی کی تجاویز مسترد کر دی
ایرانی حکومت نے منگل کو تصدیق کی کہ اس کے سکیورٹی سربراہ علی لاریجانی کی اسرائیلی حملے میں موت ہو گئی ہے، جو امریکہ-اسرائیل جنگ کے پہلے دن کے بعد نشانہ بننے والی سب سے بڑی شخصیت تھے۔
تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر نے کشیدگی کم کرنے کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے جو ثالث ممالک کے ذریعے پہنچائی گئی تھیں۔
علی لاریجانی کو ایران کی طاقت ور ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا اور وہ سابق سپریم لیڈرعلی خامنہ ای اور ان کے بیٹے و جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔
ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کی وزارتِ خارجہ کے ذریعے موصول ہونے والی ’کشیدگی کم کرنے یا امریکہ کے ساتھ جنگ بندی‘ کی تجاویز کو مسترد کر دیا۔
اپنی تقرری کے بعد پہلی خارجہ پالیسی میٹنگ میں شرکت کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ ’یہ امن کا مناسب وقت نہیں ہے جب تک کہ امریکہ اور اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ کر دیا جائے، وہ شکست تسلیم نہ کریں اور ہرجانہ ادا نہ کریں۔‘