انڈیا: امریکی فلم ساز ممنوعہ علاقوں میں داخل ہونے کے الزام میں گرفتار

انڈیا میں امریکی فلم ساز میتھیو وین ڈائک پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ملک کے ممنوعہ علاقوں میں داخل ہوئے اور ملیشیا گروپوں کو تربیت دینے کے لیے میانمار گئے۔

 

میتھیو وین ڈائک 24 اپریل 2014 کو نیویارک میں ’پوائنٹ اینڈ شوٹ‘ کے لیے بہترین دستاویزی فلم کا ایوارڈ وصول کر رہے ہیں (اے ایف پی)

انڈیا میں گرفتار امریکی فلم ساز میتھیو وین ڈاک کے اہل خانہ نے ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اپنی حکومت سے اپیل کی ہے۔

انڈیا نے فلم ساز پر الزام لگایا ہے کہ وہ ملک کے شمال مشرق میں ممنوعہ علاقوں میں داخل ہوئے اور نسلی ملیشیا گروپوں کو تربیت دینے کے لیے سرحد پار کر کے میانمار گئے۔  

13 مارچ کو، انڈیا کے انسداد دہشت گردی کے ادارے نے چھ یوکرینی شہریوں اور امریکی صحافی اور دستاویزی فلم ساز میتھیو وین ڈائک کو میانمار کی نسلی ملیشیاؤں کو مبینہ طور پر ڈرون جنگ کی تربیت دینے کے الزام میں گرفتار کیا، جس سے تنازعات والے علاقوں میں پھیلے ایک مشکوک نیٹ ورک کا پردہ چاک ہوا۔

انڈین نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے تین ہوائی اڈوں پر چھاپوں کے دوران غیر ملکیوں کو گرفتار کیا اور انہیں تفتیش کے لیے انڈیا کے قومی دارالحکومت دہلی لے آئی۔ 46 سالہ مسٹر وین ڈائک دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔

میتھیو وین ڈائک کے اہل خانہ اور قانونی نمائندوں نے کہا کہ وہ قانونی کارروائی میں تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان کی صحت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔ ان کے رشتہ داروں کے مطابق، وہ بعض اوقات چلنے پھرنے سے قاصر رہے ہیں اور انہیں وہیل چیئر کی ضرورت پڑی ہے۔

دی انڈپینڈنٹ کے ساتھ شیئر کیے گئے ایک پریس بیان کے مطابق، ان کی والدہ نے کہا کہ ’یہ ہمارے خاندان کے لیے انسانی ہمدردی کی ایک ہنگامی صورت حال ہے۔ میتھیو نے اپنی زندگی انسانی مصائب کو دستاویزی شکل دینے اور بحران کے شکار لوگوں کی مدد کرنے میں گزاری ہے۔ ہم ان کی بحفاظت گھر واپسی کی اپیل کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے باقاعدہ طور پر امریکی قونصلر معاونت کی درخواست کی اور مزید کہا: ’ہم امریکی سفارت خانے اور امریکی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ میتھیو کے حقوق، فلاح و بہبود اور طبی ضروریات کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے تمام مناسب قونصلر مدد فراہم کریں۔‘

این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت نے میتھیو وین ڈائک اور ان کے ساتھیوں کو انڈیا کے انسداد دہشت گردی کے بنیادی قانون، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت جیل بھیج دیا۔ پولیس میں درج شکایت کے مطابق، ملزموں نے شمال مشرقی ریاست میزورام کا سفر کیا، اجازت کے بغیر میانمار کی سرحد عبور کی، اور نسلی مسلح تنظیموں اور انڈیا میں کالعدم گروہوں سے رابطہ قائم کیا۔ 

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ہتھیار فراہم کیے، ڈرون چلانے کی تربیت دی، اور ایسی کارروائیوں کی حمایت کی جنہیں کرائے کے جنگجوؤں کی سرگرمیوں کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

چھ یوکرینی شہریوں کی شناخت ہربا پیٹرو، سلیویاک تاراس، ایوان سکھمانوسکی، سٹیفانکیو ماریان، ہونچاروک میکسم، اور کامنسکی وکٹر کے نام سے کی گئی۔ یوکرینی حکام نے کہا کہ وہ زیر حراست افراد کے اہل خانہ سے رابطے میں ہیں اور صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبک ہ انڈین ایجنسیاں اپنی تفتیش کر رہی ہیں۔

دی انڈپینڈنٹ کو دیے گئے ایک بیان میں این آئی اے کا کہنا تھا کہ ’یہ مقدمہ فی الحال زیر تفتیش ہے اور ہو سکتا ہے کہ ہم اس وقت اس معاملے پر تبصرہ نہ کر سکیں۔‘

دی انڈپینڈنٹ نے تبصرے کے لیے انڈیا میں امریکی سفارت خانے سے بھی رابطہ کیا۔

اس سے قبل، سفارت خانے نے مقامی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کو تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقدمے سے آگاہ ہے لیکن رازداری کی وجوہات کی بنا پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

نئی دہلی میں میتھیو وین ڈائک کے وکیل روہت گوڑ نے کہا کہ ’وین ڈائک قانونی عمل میں مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ ہم متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ایک منصفانہ اور بروقت حل کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ اس گروپ کی سرگرمیاں ایک وسیع تر کارروائی کا حصہ تھیں جس میں غیر ملکی شہری سیاحتی ویزوں پر انڈیا میں داخل ہوتے، شمال مشرقی ریاستوں کا سفر کرتے، اور میانمار کی سرحد عبور کرنے سے قبل مناسب دستاویزات کے بغیر آگے بڑھتے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مسلح گروہوں کے استعمال کے لیے ڈرون یورپ سے براستہ انڈیا بھیجے گئے تھے۔

انڈیا کو میانمار سے متصل کئی شمال مشرقی ریاستوں میں داخل ہونے والے غیر ملکی شہریوں کے لیے خصوصی اجازت ناموں کی ضرورت ہوتی ہے، یہ ایک ایسا خطہ ہے جو طویل عرصے سے جاری نسلی تنازعات اور سرحد پار بغاوت کا شکار ہے۔ حکام نے اس سے قبل یہ خدشات ظاہر کیے ہیں کہ ان علاقوں کو میانمار جانے کے لیے راہداری کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے مسٹر وین ڈائک، تنازعات کے شکار علاقوں کی کوریج کرنے والے صحافی اور فلم ساز کے طور پر اپنے کام کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی دستاویزی فلم پوائنٹ اینڈ شوٹ نے 2014 میں ٹریبیکا فلم فیسٹیول میں بہترین دستاویزی فلم کا ایوارڈ جیتا۔ ان کی فلمیں دنیا بھر کے 200 سے زائد فیسٹیولز میں دکھائی جا چکی ہیں۔

2011 کی لیبیا کی خانہ جنگی کی فوٹیج پر مبنی، پوائنٹ اینڈ شوٹ نے مزید ایوارڈز بھی حاصل کیے، جن میں انڈیپنڈنٹ فلم فیسٹیول آف بوسٹن میں ڈاکیومنٹری فیچر کے لیے سپیشل جیوری پرائز اور لٹل راک فلم فیسٹیول سے غیر معمولی جرات مندانہ فلم سازی پر سپیشل جیوری ایوارڈ شامل ہیں۔ 

انہوں نے شام کی خانہ جنگی پر ناٹ اینی مور: اے سٹوری آف ریولیوشن کی ہدایات بھی دیں اور جم: دی جیمز فولی سٹوری میں سینماٹوگرافر کے طور پر کام کیا۔

بالٹی مور میں پیدا ہونے والے مسٹر وین ڈائک نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی، انہوں نے یونیورسٹی آف میری لینڈ، بالٹیمور کاؤنٹی سے پولیٹیکل سائنس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے سے قبل کالورٹ سکول اور گلمین سکول میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے اعلیٰ ترین اعزاز کے ساتھ گریجویشن کیا۔ 

بعد ازاں انہوں نے جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے والش سکول آف فارن سروس سے مشرق وسطیٰ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سکیورٹی سٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی، جہاں انہوں نے دی ہویا کے لیے لکھا اور ڈبلیو جی ٹی بی پر ایک ریڈیو پروگرام کی شریک میزبانی کی۔ وہ مینسا آئی کیو سوسائٹی کے رکن بھی ہیں۔

میتھیو وین ڈائک پہلی بار لیبیا کی خانہ جنگی کے دوران اس وقت نمایاں ہوئے، جب وہ معمر قذافی کی حکومت کے خلاف لڑنے والی باغی افواج میں شامل ہوئے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ ایک گھات لگا کر کیے گئے حملے میں زخمی ہوئے، انہیں حراست میں لیا گیا، اور طرابلس کے زوال کے دوران فرار ہونے سے قبل انہوں نے سرت اور طرابلس کی جیلوں، بشمول ابو سلیم، میں پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ قید تنہائی میں گزارا۔ بعد ازاں وہ دوبارہ باغی افواج میں شامل ہو گئے اور سرت سمیت دیگر جنگی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

2014 میں اپنے دوستوں جیمز فولی اور سٹیون سوٹلوف کی موت کے بعد، وین ڈائک نے سنز آف لبرٹی انٹرنیشنل (سولی) کی بنیاد رکھی، جسے ایک غیر منافع بخش تنظیم قرار دیا جاتا ہے جو بغاوت اور دہشت گردی کا سامنا کرنے والی کمیونٹیز کو مفت فوجی مشاورت اور تربیت فراہم کرتی ہے۔ اس تنظیم نے عراق میں داعش کے خلاف اسوری مسیحی جنگجوؤں کو تربیت فراہم کی ہے اور یہ عوامی عطیات پر انحصار کرتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، انہیں کولکتہ ہوائی اڈے پر گرفتار کیا گیا، جبکہ گروپ کے دیگر ارکان کو لکھنؤ اور دہلی میں حراست میں لیا گیا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا